سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ : زَكَاةِ الْبَقَرِ
باب: گائے بیل کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2455
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ، أَنْ لَا آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ شَيْئًا حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ ثَلَاثِينَ فَفِيهَا عِجْلٌ تَابِعٌ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ، حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ".
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت مجھے یمن بھیجا تو حکم دیا کہ میں گائے، بیل سے جب تک وہ تیس کی تعداد کو نہ پہنچ جائیں کچھ نہ لوں، اور جب تیس ہو جائیں تو ان میں گائے کا ایک سال کا بچہ چاہے نر ہو یا مادہ یہاں تک کہ وہ چالیس کو پہنچ جائیں، اور جب چالیس ہو جائیں تو ان میں دو سال کی ایک بچھیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2455]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ ”میں گایوں سے زکاۃ نہ لوں حتیٰ کہ وہ تیس ہو جائیں، جب تیس ہو جائیں تو چالیس تک ان میں سے «جَذَعَةٌ» (دوسرے سال میں داخل) نوجوان بچھڑا یا بچھڑی زکاۃ ہو گی اور جب وہ چالیس ہو جائیں تو ان میں دو سالہ (دو دانتا) گائے (مذکر یا مؤنث) زکاۃ ہو گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 4 (1576)، (تحفة الأشراف: 11312)، مسند احمد (5/233، 247، سنن الدارمی/الزکاة 5 (1664) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1576) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2455 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2455
اردو حاشہ:
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ چاروں احادیث کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین میں سے بعض نے حسن اور بعض نے صحیح قرار دیا ہے اور انھوں نے اس کے شواہد بھی بیان کیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔ مذکو رہ روایات کی اسنادی بحث اور ان میں مذکورہ مسئلے کی تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 22/ 108-117، والموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 7/ 21-23، و 36/ 339-23 وإرواء الغلیل: 3/ 268-271، رقم: 795)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ چاروں احادیث کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین میں سے بعض نے حسن اور بعض نے صحیح قرار دیا ہے اور انھوں نے اس کے شواہد بھی بیان کیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔ مذکو رہ روایات کی اسنادی بحث اور ان میں مذکورہ مسئلے کی تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 22/ 108-117، والموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 7/ 21-23، و 36/ 339-23 وإرواء الغلیل: 3/ 268-271، رقم: 795)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2455]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2455 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← معاذ بن جبل الأنصاري