🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب : من يسأل ولا يعطي
باب: جس سے مانگا جائے اور وہ نہ دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2567
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ يَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتَلَمَّظُ فَضْلَهُ الَّذِي مَنَعَ".
بہز بن حکیم اپنے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: آدمی اپنے مالک کے پاس اس کی ضرورت سے زائد و فاضل چیز مانگنے آئے، اور وہ اسے نہ دے تو اس کے لیے قیامت کے دن ایک گنجا (زہریلا) سانپ بلایا جائے گا، جو اس کے فاضل مال کو جسے اس نے دینے سے انکار کر دیا تھا چاٹتا پھرے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2567]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی شخص اپنے مالک کے پاس جائے اور اس سے اس کی ضرورت سے زائد کوئی چیز مانگے اور وہ اسے نہ دے تو اس مالک کے لیے قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بلایا جائے گا جو اس کے زائد مال کو چبائے گا، جو اس نے نہیں دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2438 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: وہ فاضل و زائد مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا الٹا اس کے لیے وبال بن جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن حيدة القشيري، أبو حكيمصحابي
👤←👥حكيم بن معاوية البهزي
Newحكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري
صدوق حسن الحديث
👤←👥بهز بن حكيم القشيري، أبو عبد الملك
Newبهز بن حكيم القشيري ← حكيم بن معاوية البهزي
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← بهز بن حكيم القشيري
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2567
لا يأتي رجل مولاه يسأله من فضل عنده فيمنعه إياه إلا دعي له يوم القيامة شجاع أقرع يتلمظ فضله الذي منع
سنن أبي داود
5139
لا يسأل رجل مولاه من فضل هو عنده فيمنعه إياه إلا دعي له يوم القيامة فضله الذي منعه شجاعا أقرع
بلوغ المرام
986
يا رسول الله من ابر؟ قال: ‏‏‏‏امك
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2567 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2567
اردو حاشہ:
چبائے گا۔ یہ معنیٰ بھی بن سکتے ہیں: قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بلایا جائے گا جو اس مالک کو چبائے گا اور یہ سانپ اس کا وہ زائد مال ہوگا جو اس نے مانگنے پر نہیں دیا تھا۔ بظاہر یہ معنیٰ زیادہ مناسب لگتے ہیں مگر الفاظ ان کا ساتھ نہیں دیتے، اس لیے ظاہر معنیٰ کو متن میں لکھا گیا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2567]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 986
نفقات کا بیان
سیدنا بھز بن حکیم رحمہ اللہ نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میں حسن سلوک اور بھلائی کس کے ساتھ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ۔ میں نے پھر عرض کیا۔ پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اپنی والدہ سے۔ میں نے پھر عرض کیا پھر کس سے؟ فرمایا اپنی والدہ سے۔ میں نے پھر عرض کیا۔ پھر کس سے؟ فرمایا اپنے والد سے۔ اس کے بعد پھر درجہ بدرجہ زیادہ قریبی رشتہ دار سے۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے تخریج کیا اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 986»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأدب، باب في بر الوالدين، حديث:5139، والترمذي، البر والصلة، حديث:1897.»
تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماں کا درجہ والد سے زیادہ ہے۔
2.ماں بچے کی وجہ سے جو تکلیفیں اور دکھ برداشت کرتی ہے اس کی وجہ سے ماں کے ساتھ حسن سلوک کی زیادہ تاکید فرمائی گئی ہے۔
عورت کمزور اور صنف نازک ہے۔
بچے بڑے ہو کر ماں کے قابو اور کنٹرول میں بہت کم رہتے ہیں۔
ماں کی بے قدری کی جاتی ہے۔
شریعت نے ماں کے ساتھ حسن سلوک کی اتنی شدت سے تاکید کی ہے اور اولاد کو احساس دلایا ہے کہ ماں کو ہر ممکن طریقے سے زیادہ سے زیادہ آرام اور راحت پہنچانی چاہیے۔
اس کے حکم کو بے چون و چرا ماننا اور تسلیم کرنا چاہیے بشرطیکہ وہ خلاف شرع حکم نہ دے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 986]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5139
ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان۔
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں۔‏‏‏‏ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: «أقر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5139]
فوائد ومسائل:

شریعت نے ماں کے حقوق کو تین گنا بتایا ہے۔
اور باپ کے حقوق کو ایک چوتھائی مگر اسے جنت (میں داخلے) کا بہترین دروازہ قرار دیا ہے۔
دیکھئے۔
(مسند أحمد:196/5و 445/6۔
448۔
451) غلام اور اس کے مالک کا تعلق آزاد کر دینے کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔
جسے تعلق ولا کہتے ہیں۔
اور آزاد ہونے پر واجب ہوتا ہے کہ اپنے آزاد کرنے والے کے ساتھ حتیٰ الامکان حسن سلوک کرتا رہے۔


اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ صاحب ایمان کو کبھی کسی کا احسان نہیں بھولنا چاہیے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5139]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2567 in Urdu