سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. بَابُ : مَا لاَ يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنَ الصَّيْدِ
باب: کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟
حدیث نمبر: 2823
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ:" مَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمْ يَقْبَلْهُ، قَالَ: نَعَمْ".
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شکار کا کوئی عضو ہدیہ بھیجا گیا، اور آپ محرم تھے تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا: جی ہاں، (ہمیں معلوم ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2823]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں شکار کیے ہوئے جانور کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا تھا جبکہ آپ محرم تھے، لہٰذا آپ نے اسے قبول نہ فرمایا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! (میں جانتا ہوں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 41 (1850)، (تحفة الأشراف: 3677)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 8 (1195)، مسند احمد (4/369، 371) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1850
| أهدي إليه عضو صيد فلم يقبله وقال إنا حرم قال نعم |
سنن النسائى الصغرى |
2823
| أهدي له عضو صيد وهو محرم فلم يقبله قال نعم |
مسندالحميدي |
802
|
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2823 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2823
اردو حاشہ:
یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ وہ جانور زندہ آپ کی خدمت میں پیش نہیں کیا گیا تھا بلکہ ذبح شدہ جانور کا ٹکڑا پیش کیا گیا تھا۔ احناف کہتے ہیں کہ آپ نے اس لیے واپس فرما دیا کہ اس نے زندہ شکار پیش کیا تھا۔ اور ذبح کرنا محرم کے لیے جائز نہیں تھا، حالانکہ اگر یہی بات ہوتی تو آپ فرما سکتے تھے کہ تم ذبح کر کے لاؤ۔ اس روایت سے احناف کی تردید ہوتی ہے۔ صحیح بات حدیث نمبر 2821 میں گزر چکی ہے۔
یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ وہ جانور زندہ آپ کی خدمت میں پیش نہیں کیا گیا تھا بلکہ ذبح شدہ جانور کا ٹکڑا پیش کیا گیا تھا۔ احناف کہتے ہیں کہ آپ نے اس لیے واپس فرما دیا کہ اس نے زندہ شکار پیش کیا تھا۔ اور ذبح کرنا محرم کے لیے جائز نہیں تھا، حالانکہ اگر یہی بات ہوتی تو آپ فرما سکتے تھے کہ تم ذبح کر کے لاؤ۔ اس روایت سے احناف کی تردید ہوتی ہے۔ صحیح بات حدیث نمبر 2821 میں گزر چکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2823]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2823 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← زيد بن أرقم الأنصاري