سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. باب : قتل الوزغ
باب: چھپکلی مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2834
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَبِيَدِهَا عُكَّازٌ، فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ فَقَالَتْ: لِهَذِهِ الْوَزَغِ، لِأَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ إِلَّا يُطْفِئُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، إِلَّا هَذِهِ الدَّابَّةُ، فَأَمَرَنَا بِقَتْلِهَا، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ، إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ".
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ کے پاس آئی، اور ان کے ہاتھ میں لوہے کی پھلی لگی ہوئی لاٹھی تھی، اس عورت نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا: یہ ان چھپکلیوں (کے مارنے) کے لیے ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو اس جانور کے سوا سبھی جانور بجھاتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا ہے۔ اور گھروں میں رہنے والے سانپ کے مارنے سے روکا ہے سوائے دو دھاریوں والے، اور دم بریدہ سانپ کے کیونکہ یہ دونوں بصارت کو زائل کر دیتے ہیں، اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2834]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی جبکہ ان کے ہاتھ میں تیز نوک والی لاٹھی تھی۔ وہ پوچھنے لگی: یہ کس لیے؟ فرمایا: ان چھپکلیوں کے لیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”ہر جانور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ بجھانے میں کوشاں تھا مگر یہ چھپکلی۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھروں میں رہنے والے باریک سانپوں کو قتل کرنے سے روکا، مگر ”دو دھاریوں والے اور چھوٹے سانپ کو قتل کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ نظر ختم کر دیتے ہیں اور عورتوں کے حمل گرا دیتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16124)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصید12 (3231)، مسند احمد (6/83، 109، 217) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وانظر سنن ابن ماجه (3231 بتحقيقي) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله معاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥إبراهيم بن محمد الناجي، أبو إسحاق إبراهيم بن محمد الناجي ← معاذ بن هشام الدستوائي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن إسحاق الصاغاني، أبو بكر محمد بن إسحاق الصاغاني ← إبراهيم بن محمد الناجي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3309
| بقتل الأبتر وقال إنه يصيب البصر ويذهب الحبل |
صحيح البخاري |
3308
| اقتلوا ذا الطفيتين فإنه يلتمس البصر ويصيب الحبل |
صحيح مسلم |
5823
| بقتل ذي الطفيتين فإنه يلتمس البصر ويصيب الحبل |
سنن النسائى الصغرى |
2834
| لم يكن شيء إلا يطفئ على إبراهيم إلا هذه الدابة فأمرنا بقتلها ونهى عن قتل الجنان إلا ذا الطفيتين والأبتر فإنهما يطمسان البصر ويسقطان ما في بطون النساء |
سنن ابن ماجه |
3534
| بقتل ذي الطفيتين فإنه يلتمس البصر ويصيب الحبل يعني حية خبيثة |
سنن ابن ماجه |
3230
| للوزغ الفويسقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2834 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2834
اردو حاشہ:
(1) چھپکلی اور اس نوع کے دوسرے جانور زہریلے ہوتے ہیں۔ کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائیں تو اسے زہریلا کر دیتے ہیں حتیٰ کہ موت کا سبب بن جاتے ہیں، لہٰذا انھیں مارنا بھی جائز ہے۔ اگرچہ اس روایت میں محرم کی صراحت نہیں مگر ایذا کی علت کی بنا پر وہ بھی اسے قتل کر سکتا ہے۔
(2) ”آگ بجھانے میں“ یہ دلیل ہے کہ یہ جانور (چھپکلی) طبعاً انسان کے لیے موذی ہے ورنہ اسے کیا پتا تھا کہ یہ آگ کس کو جلانے والی ہے؟ یہ بھی یاد رہے کہ اسے قتل کرنے کی اجازت اس کے طبعی ایذا کی وجہ سے ہے، نہ اس لیے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ میں ممد تھی کیونکہ وہ تو ایک مخصوص چھپکلی کا فعل تھا۔ اس کی سزا پوری نسل کو تو نہیں دی جا سکتی، نیز اس کے لیے تو نبی اور کافر برابر ہیں۔ وہ تو ہر ایک کو ایذا پہنچائے گی۔
(3) چھپکلی میں اسی نوع کے اس سے بڑے جانور، مثلاً چلپاسہ، یعنی کرلا اور اس جیسے دوسرے موذی جانور بھی آجائیں گے۔
(4) ”گھروں میں رہنے والے باریک سانپ“ کیونکہ یہ عموماً گھر والوں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ بچوں تک کو نہیں کاٹتے۔ ان کے بارے میں قتل نہ کرنے کا حکم اس بنا پر بھی ہے کہ شاید یہ ”جن“ کی کوئی قسم ہوں۔ اور جنوں کو مارنا جائز نہیں، نیز قتل کی وجہ ایذا ہے۔ جب وہ ہمیں کچھ نہیں کہتے تو ہم انھیں کیوں کچھ کہیں؟ گھروں میں رہنے والے بڑے سانپ بھی گھر والوں کو کچھ نہیں کہتے بلکہ وہ نوع انسانی سے کچھ مالوف ہو جاتے ہیں، البتہ آبادی سے باہر رہنے والے سانپ موذی ہیں، لہٰذا انھیں فوراً مار دینا چاہیے۔
(5) ”دودھاری“ یہ بہت زہریلا ہوتا ہے۔ اس کی پشت پر یہ دو دھاریاں بھی زہر کی بنا پر ہی ہوتی ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس کے ماتھے پر دو سیاہ نشان ہوتے ہیں وغیرہ۔
(6) ”چھوٹا سانپ“ جسم میں چھوٹا مگر سخت زہریلا۔ اچانک حملہ کرتا ہے اور جان سے مار دیتا ہے۔ بعض نے اس کے معنیٰ چھوٹی دم والا سانپ، کیے ہیں مگر سانپ کی الگ دم نہیں ہوتی۔ ویسے آخری حصے کو دم کہا جائے تو الگ بات ہے۔
(7) ”نظر ختم کرتے ہیں… الخ“ یعنی اگر یہ کاٹ لیں یا ان سے آنکھیں چار ہو جائیں تو نظر ختم ہو جاتی ہے اور عورت کا حمل گر جاتا ہے۔ واللہ أعلم
(1) چھپکلی اور اس نوع کے دوسرے جانور زہریلے ہوتے ہیں۔ کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائیں تو اسے زہریلا کر دیتے ہیں حتیٰ کہ موت کا سبب بن جاتے ہیں، لہٰذا انھیں مارنا بھی جائز ہے۔ اگرچہ اس روایت میں محرم کی صراحت نہیں مگر ایذا کی علت کی بنا پر وہ بھی اسے قتل کر سکتا ہے۔
(2) ”آگ بجھانے میں“ یہ دلیل ہے کہ یہ جانور (چھپکلی) طبعاً انسان کے لیے موذی ہے ورنہ اسے کیا پتا تھا کہ یہ آگ کس کو جلانے والی ہے؟ یہ بھی یاد رہے کہ اسے قتل کرنے کی اجازت اس کے طبعی ایذا کی وجہ سے ہے، نہ اس لیے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ میں ممد تھی کیونکہ وہ تو ایک مخصوص چھپکلی کا فعل تھا۔ اس کی سزا پوری نسل کو تو نہیں دی جا سکتی، نیز اس کے لیے تو نبی اور کافر برابر ہیں۔ وہ تو ہر ایک کو ایذا پہنچائے گی۔
(3) چھپکلی میں اسی نوع کے اس سے بڑے جانور، مثلاً چلپاسہ، یعنی کرلا اور اس جیسے دوسرے موذی جانور بھی آجائیں گے۔
(4) ”گھروں میں رہنے والے باریک سانپ“ کیونکہ یہ عموماً گھر والوں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ بچوں تک کو نہیں کاٹتے۔ ان کے بارے میں قتل نہ کرنے کا حکم اس بنا پر بھی ہے کہ شاید یہ ”جن“ کی کوئی قسم ہوں۔ اور جنوں کو مارنا جائز نہیں، نیز قتل کی وجہ ایذا ہے۔ جب وہ ہمیں کچھ نہیں کہتے تو ہم انھیں کیوں کچھ کہیں؟ گھروں میں رہنے والے بڑے سانپ بھی گھر والوں کو کچھ نہیں کہتے بلکہ وہ نوع انسانی سے کچھ مالوف ہو جاتے ہیں، البتہ آبادی سے باہر رہنے والے سانپ موذی ہیں، لہٰذا انھیں فوراً مار دینا چاہیے۔
(5) ”دودھاری“ یہ بہت زہریلا ہوتا ہے۔ اس کی پشت پر یہ دو دھاریاں بھی زہر کی بنا پر ہی ہوتی ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اس کے ماتھے پر دو سیاہ نشان ہوتے ہیں وغیرہ۔
(6) ”چھوٹا سانپ“ جسم میں چھوٹا مگر سخت زہریلا۔ اچانک حملہ کرتا ہے اور جان سے مار دیتا ہے۔ بعض نے اس کے معنیٰ چھوٹی دم والا سانپ، کیے ہیں مگر سانپ کی الگ دم نہیں ہوتی۔ ویسے آخری حصے کو دم کہا جائے تو الگ بات ہے۔
(7) ”نظر ختم کرتے ہیں… الخ“ یعنی اگر یہ کاٹ لیں یا ان سے آنکھیں چار ہو جائیں تو نظر ختم ہو جاتی ہے اور عورت کا حمل گر جاتا ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2834]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3309
3309. حضرت عائشہ ؓ ہی سے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دُم کٹے سانپ کوقتل کردینے کا حکم دیا کیونکہ وہ اندھا کردیتا ہےاور حمل ساقط کردیتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3309]
حدیث حاشیہ:
یعنی ان میں زہریلا مادہ اتنا زود اثر ہے کہ اس کی تیز نگاہی اگر کسی کی آنکھ سے ٹکراجائے تو بصارت کے زائل ہونے کا خوف ہے۔
اسی طرح حاملہ عورتوں کا حمل ساقط کرنے کے لیے بھی ان کی تیز نگاہی خطرناک ہے۔
پھر زہر کس قدر مہلک ہوگا اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔
یعنی ان میں زہریلا مادہ اتنا زود اثر ہے کہ اس کی تیز نگاہی اگر کسی کی آنکھ سے ٹکراجائے تو بصارت کے زائل ہونے کا خوف ہے۔
اسی طرح حاملہ عورتوں کا حمل ساقط کرنے کے لیے بھی ان کی تیز نگاہی خطرناک ہے۔
پھر زہر کس قدر مہلک ہوگا اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3309]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2834 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق