🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
95. باب : حجامة المحرم وسط رأسه
باب: محرم کے بیچ سر میں پچھنا لگوانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2853
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْأَعْرَجَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ".
عبداللہ بن بحینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے راستہ میں لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 11 (1836)، والطب 14 (5698)، صحیح مسلم/الحج 11 (1203)، سنن ابن ماجہ/الطب21 (3481)، (تحفة الأشراف: 9156)، مسند احمد (5/345)، سنن الدارمی/المناسک 20 (1861) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لحی جمل مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مالك بن بحينة، أبو محمدصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← عبد الله بن مالك بن بحينة
ثقة ثبت عالم
👤←👥علقمة بن أبي علقمة المدني
Newعلقمة بن أبي علقمة المدني ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
ثقة مأمون
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← علقمة بن أبي علقمة المدني
ثقة
👤←👥محمد بن عثمة البصري
Newمحمد بن عثمة البصري ← سليمان بن بلال القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥هلال بن بشر المزني، أبو الحسن
Newهلال بن بشر المزني ← محمد بن عثمة البصري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1836
احتجم النبي وهو محرم بلحي جمل في وسط رأسه
صحيح مسلم
2886
احتجم بطريق مكة وهو محرم وسط رأسه
سنن ابن ماجه
3481
احتجم رسول الله بلحي جمل وهو محرم وسط رأسه
سنن النسائى الصغرى
2853
احتجم وسط رأسه وهو محرم بلحي جمل من طريق مكة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2853 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2853
اردو حاشہ:
(1) سینگی لگوانے کا مسئلہ اوپر گزر چکا ہے۔ محرم مجبوری کے موقع پر سینگی لگوا سکتا ہے لا محالہ اس موقع پر بال بھی کاٹنے پڑتے ہیں، ضرورت کے پیش نظر اس میں کوئی حرج نہیں اور نہ اس پر فدیہ ہی لازم ہے۔ تفصیل کے لیے حدیث: 2848 کا فائدہ ملاحظہ فرمائیے۔
(2) لحی جمل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک مقام ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2853]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3481
حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان۔
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں مقام لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3481]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جسم کے کسی حصے میں درد ہو تو اس کا علاج سینگی سے کیا جاسکتا ہے۔

(2)
احرام کی حالت میں سر کے بال اتروانا منع ہے۔
لیکن بیماری کی صورت میں اتروا سکتا ہے۔
البتہ فدیہ دینا پڑے گا۔
جس کی مقدار ایک بکری کی قربانی، تین روزے رکھنا یا چھ مسکینوں کو آدھا آدھا صاع غلہ دینا ہے۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس موقع پر سینگی لگوانے کی وجہ درد شقیقہ تھی۔ (صحیح البخاري، طب، باب الحجم من الشقیقة والصداع، حدیث: 5700)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3481]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2886
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے راستہ میں احرام کی حالت میں سر کے درمیان پچھنے لگوائے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2886]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ضرورت کی بنا پر بالاتفاق محرم سینگی لگوا سکتا ہے اگر سینگی لگوانے کی صورت میں بال کٹوانے پڑیں تو اس پر بالاتفاق فدیہ ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دم ہے اور صاحبین کے نزدیک صدقہ ہے اگربال نہ ٹوٹیں تو فدیہ نہیں ہے۔
اگربلا ضرورت پچھنے لگوائے اور بال نہ ٹوٹیں تو جمہور کے نزدیک جائز ہے۔
لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مکروہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2886]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1836
1836. حضرت ابن بحینہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام لحیی جمل میں بحالت احرام سر کے درمیان سینگی لگوائی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1836]
حدیث حاشیہ:
یہ مقام مکہ اور مدینہ کے بیچ میں ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بوقت ضرورت محرم پچھنا لگوا سکتا ہے مروجہ اعمال جراحی کو بھی بوقت ضرورت شدید اسی پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1836]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1836
1836. حضرت ابن بحینہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام لحیی جمل میں بحالت احرام سر کے درمیان سینگی لگوائی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1836]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے قبل ازیں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے بیان کیا تھا کہ محرم آدمی پھول سونگھ سکتا ہے، آئینہ دیکھ سکتا ہے، دوا کے طور پر زیتون کا تیل اور گھی استعمال کر سکتا ہے۔
(صحیح البخاري، کتاب الحج، باب: 18) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احرام باندھنے والا بوقت ضرورت سینگی لگوا سکتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تکلیف تھی اس بنا پر آپ نے سینگی لگوائی تھی۔
اگر سینگی لگوانے کے لیے سر منڈوانا پڑے تو فدیہ ضروری ہے۔
طبری نے روایت بیان کی ہے کہ اگر محرم کے سر پر زخم آ جائے تو وہ زخم کے اردگرد کے بال اتروا سکتا ہے اور اس پر دوا بھی لگائی جا سکتی ہے بشرطیکہ اس میں خوشبو نہ ہو، نیز محرم کے لیے خون نکلوانا، آپریشن کرانا، رگ کٹوانا اور دانت نکلوانا جائز ہے بشرطیکہ کسی حکم امتناعی، مثلا خوشبو لگانے وغیرہ کا مرتکب نہ ہو۔
(فتح الباري: 67/4) (3)
واضح رہے کہ لحی جمل مکے اور مدینے کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ طیبہ کے قریب ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1836]