سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. باب : موضع الصلاة في البيت
باب: بیت اللہ (کعبہ) میں نماز پڑھنے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2910
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ وَدَنَا خُرُوجُهُ وَوَجَدْتُ شَيْئًا، فَذَهَبْتُ وَجِئْتُ سَرِيعًا، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا، فَسَأَلْتُ بِلَالًا" أَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، آپ کے نکلنے کا وقت نزدیک آیا تو میرے دل میں کچھ خیال آیا تو میں چلا اور جلدی سے آیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلتے ہوئے پایا۔ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، دو رکعتیں، دونوں ستونوں کے درمیان۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2910]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ ادھر آپ کے باہر نکلنے کا وقت قریب تھا۔ ادھر مجھے حاجت پیش آ گئی۔ میں قضائے حاجت کے لیے گیا اور پھر جلدی جلدی واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لا چکے تھے۔ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ مشرفہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، (اگلی صف کے بائیں جانب والے) دو ستونوں کے درمیان دو رکعت نماز پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2910]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2910 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2910
اردو حاشہ:
امام مالک رحمہ اللہ بیت اللہ میں کسی قسم کی نماز پڑھنے کے قائل نہیں مگر یہ حدیث ان کے خلاف دلیل ہے۔ (باقی دلیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2908)
امام مالک رحمہ اللہ بیت اللہ میں کسی قسم کی نماز پڑھنے کے قائل نہیں مگر یہ حدیث ان کے خلاف دلیل ہے۔ (باقی دلیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2908)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2910]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2910 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← بلال بن رباح الحبشي