🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
130. باب : التكبير في نواحي الكعبة
باب: کعبہ کے گوشوں میں تکبیر کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2916
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَمْ يُصَلِّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ، وَلَكِنَّهُ كَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز نہیں پڑھی، لیکن اس کے گوشوں میں تکبیر کہی۔ (یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اپنے علم کی بنا پر ہے، کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر نہیں گئے تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2916]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز نہیں پڑھی بلکہ اس کے اطراف میں تکبیریں کہتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 46 (874)، (تحفة الأشراف: 6302) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
398
هذه القبلة
صحيح مسلم
3238
دخل الكعبة وفيها ست سوار فقام عند سارية فدعا ولم يصل
سنن النسائى الصغرى
2916
لم يصل النبي في الكعبة ولكنه كبر في نواحيه
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2916 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2916
اردو حاشہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بات حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے سن کر بیان فرمائی۔ حدیث نمبر: 2920 اور 2912 میں وضاحت ہو چکی ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اس سلسلے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی ہے، البتہ کعبے کے اطراف میں تکبیریں کہنا بہر صورت جائز بلکہ مستحب ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2916]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3238
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور اس میں چھ ستون تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ستون کے پاس کھڑے ہو کر دعا کی اور نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3238]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے،
اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بقول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض تمام اطراف و جوانب میں دعا فرمائی ہے نماز نہیں پڑھی ہے،
لیکن تمام محدثین کا اصولی قاعدہ ہے کہ مثبت،
منفی پر مقدم ہے یعنی کسی واقعہ کے بارے میں زائد چیز بتانے والے کی بات مانی جائے گی،
نفی کرنے والے کی بات نظرانداز کردی جائے گی،
کیونکہ ہر ایک اپنے علم کے مطابق بات کرتا ہے اور ایک کا علم دوسرے سے زائد ہو سکتا ہے۔
چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر داخل ہو کر دعا اور نماز دونوں کام کیے ہیں اس لیے ہر ایک نے جو دیکھا تھا بتا دیا،
حضرت اسامہ دور دعا میں مشغول رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سے فراغت کے بعد دو خفیف رکعات پڑھیں،
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پاس تھے انھوں نے دیکھ لیا،
حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دور تھے،
دروازہ بند ہونے کی وجہ سے اندھیرا تھا اس لیے وہ نہ دیکھ سکے،
یا ہو سکتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دودفعہ داخل ہوئے ہوں ایک دفعہ نمازپڑھی اور ایک دفعہ نہ پڑھی اس لیے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نفی اور اثبات دونوں ثابت ہیں،
لیکن بیت اللہ میں داخل ہونا اورنماز پڑھنا مناسک حج میں داخل نہیں ہے،
اس لیے جمہور کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں کعبہ کے اندر داخل نہیں ہوئے۔
تاکہ لوگ اس کو حج کا حصہ نہ سمجھ لیں،
نیز کعبہ کے اندر نماز پڑھنے میں آئمہ کے درمیان اختلاف ہے،
اگر کعبہ کا دروازہ بند ہو تو جمہور جس میں،
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ داخل ہیں کے نزدیک کعبہ کے کسی بھی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا صحیح ہے خواہ نماز فرض ہو یا نفل،
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فرض نماز،
وتر،
فجر کی سنتیں اور طواف کی دورکعات صحیح یا جائز نہیں،
عام نفل پڑھنا جائز ہے اور بعض اہل ظاہر کے نزدیک کوئی نماز خواہ فرض ہو یا نفل پڑھنا جائز نہیں ہے،
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ،
حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات ہی نقل کرتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3238]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:398
398. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبے میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کے سب گوشوں میں دعا فرمائی، باہر نکلنے تک بیت اللہ کے اندر کوئی نماز نہیں پڑھی۔ جب آپ بیت اللہ سے باہر تشریف لائے تو اس کے سامنے دو رکعت ادا کیں اور فرمایا: یہی قبلہ ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:398]
حدیث حاشیہ:

حضرت ابن عباس ؓ کی مذکورہ روایت مرسل ہے، کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیت اللہ کے انر جانا ثابت نہیں، پھر وہ کعبے کے اندر کے حالات کیونکر بیان کرسکتے ہیں؟ لیکن امام مسلم ؒ نے ابن جریج کے طریق سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ روایت حضر ت اسامہ ؓ بن زید سے سنی ہے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 3237 (1330)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر صرف دعا کی ہے جبکہ حضرت بلال ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے دورکعت نماز بھی پڑھی تھی۔
اس موقع پر سیدنا بلال ؓ کی بات کااعتبار کیا یا ہے اور حضرت اسامہ بن زید ؓ کی بات کو لاعلمی پر محمول کیا گیا ہے، حالانکہ یہ دونوں حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیت اللہ کےاندر موجود تھے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے تو آپ نے دعا شر وع کی، حضرت اسامہ بھی د عا میں مشغول ہوگئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا سے فراغت کے بعد دورکعت ادا فرمالیں، لیکن حضرت اسامہ اپنی دعا ہی میں منہمک ہے۔
چونکہ حضرت بلال ؓ نے آپ کی نماز کامشاہدہ کیا، اس لیے اس مشاہدے کی وجہ سے، اسے ترجیح حاصل ہے۔
واللہ أعلم۔

قبلے کے متعلق تو معلوم ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی قبلہ ہے کے الفاظ کیوں ارشادفرمائے؟اس کے متعلق علماء کی کئی ایک توجہیات حسب ذیل ہیں:
۔
بیت المقدس سے تحویل قبلہ کاحکم ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اب قبلے کا حکم بیت اللہ پر ثابت ہوچکا ہے۔
اس میں اب نسخ نہیں ہوگا۔
۔
اس وضاحت میں ان لوگوں کا حکم بتایا جو بیت اللہ کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ ان کے لیے بعینہ بیت اللہ کی طرف منہ کرنا ضروری ہے۔
اس کے برعکس جو بیت اللہ سے غائب ہیں وہ اپنے اجہتاد سے بھی کام لے سکتے ہیں۔
۔
امام کے لیے کھڑے ہونے کی تلقین فرمائی کہ مواجہ بیت اللہ میں کھڑا ہو۔
باقی جوانب میں بھی امام کاکھڑا ہوناجائز ہے، تاہم بہتر ہے کہ بیت اللہ کے سامنے کھڑا ہو۔
۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دوران نماز میں مسجد حرام کی طرف منہ کرنے کا حکم دیاہے۔
(البقرة: 149/2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ سے وضاحت فرمائی کہ قبلہ صرف بیت اللہ ہے، اس کے اردگرد جو مسجد حرام ہے یا مکہ مکرمہ یا حرم کی حدود میں یہ قبلہ نہیں ہیں۔
نماز کے لیے صرف بیت اللہ کی طرف منہ کیا جائے نہ کہ مسجد حرام کی طرف جو بیت اللہ کے ارد گرد کا علاقہ ہے۔
(فتح الباری: 650/1)

امام بخاری ؒ کا اس حدیث سے یہی مقصود ہے کہ مقام ابراہیم کی طرف منہ کرناضروری نہیں، اصل قبلہ تو بیت اللہ ہے، لیکن ان الفاظ سے حضرت ابن عباس ؓ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بیت اللہ کے اندر نماز نہیں پڑھنی چاہیے، کیونکہ اس طرح پورے بیت اللہ کا استقبال نہیں ہوتا بلکہ اس کے کچھ حصے کی طرف پیشت ہوجاتی ہے، لیکن یہ موقف مرجوح ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنا ثابت ہے۔
(فتح الباری: 649/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 398]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2916 in Urdu