سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
133. بَابُ : مَوْضِعُ الصَّلاةِ مِنْ الْكَعْبَةِ
باب: کعبہ میں نماز پڑھنے کی جگہ کا بیان؟
حدیث نمبر: 2919
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبَيْتِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ سے باہر آئے، اور کعبہ کے سامنے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”یہی قبلہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2919]
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ سے باہر تشریف لائے تو کعبے کے سامنے دو رکعات پڑھیں، پھر فرمایا: ”یہ قبلہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2919]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2912 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
4965
الجامع الكامل حدیث نمبر :
4965
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2919 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2919
اردو حاشہ:
”یہ قبلہ ہے“ یعنی کعبہ قبلہ ہے جس طرف بھی ہو۔ دروازے کی طرف کھڑے ہو کر نماز پڑھنا کوئی ضروری نہیں۔ کعبے کی تمام جہات قبلہ ہیں۔ کعبہ سامنے نظر آرہا ہو تو عین کعبہ قبلہ ہے اور اگر نظر نہ آتا ہو تو کعبے کی جہت قبلہ ہے۔ اس صورت میں تھوڑا بہت رخ بدل جانا نقصان دہ نہیں جب تک دوسری جہت شروع نہ ہو جائے، مثلاً: پاکستان میں مغرب کی جہت قبلہ ہے تو جب تک چہرہ شمال یا جنوب کو نہیں جاتا، اس وقت تک نماز جائز ہے کیونکہ یہ مجبوری ہے اور شریعت لوگوں کی مجبوریوں کی بہت رعایت رکھتی ہے۔
”یہ قبلہ ہے“ یعنی کعبہ قبلہ ہے جس طرف بھی ہو۔ دروازے کی طرف کھڑے ہو کر نماز پڑھنا کوئی ضروری نہیں۔ کعبے کی تمام جہات قبلہ ہیں۔ کعبہ سامنے نظر آرہا ہو تو عین کعبہ قبلہ ہے اور اگر نظر نہ آتا ہو تو کعبے کی جہت قبلہ ہے۔ اس صورت میں تھوڑا بہت رخ بدل جانا نقصان دہ نہیں جب تک دوسری جہت شروع نہ ہو جائے، مثلاً: پاکستان میں مغرب کی جہت قبلہ ہے تو جب تک چہرہ شمال یا جنوب کو نہیں جاتا، اس وقت تک نماز جائز ہے کیونکہ یہ مجبوری ہے اور شریعت لوگوں کی مجبوریوں کی بہت رعایت رکھتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2919]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2919 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي