🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
133. بَابُ : مَوْضِعُ الصَّلاةِ مِنْ الْكَعْبَةِ
باب: کعبہ میں نماز پڑھنے کی جگہ کا بیان؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2919
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبَيْتِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ سے باہر آئے، اور کعبہ کے سامنے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”یہی قبلہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2919]
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ سے باہر تشریف لائے تو کعبے کے سامنے دو رکعات پڑھیں، پھر فرمایا: ”یہ قبلہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2919]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2912 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
4965

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيدصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عبد الملك بن ميسرة الفزازى، أبو عبد الله، أبو سليمان
Newعبد الملك بن ميسرة الفزازى ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← عبد الملك بن ميسرة الفزازى
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن مسعود الجحدري، أبو مسعود
Newإسماعيل بن مسعود الجحدري ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2919 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2919
اردو حاشہ:
”یہ قبلہ ہے“ یعنی کعبہ قبلہ ہے جس طرف بھی ہو۔ دروازے کی طرف کھڑے ہو کر نماز پڑھنا کوئی ضروری نہیں۔ کعبے کی تمام جہات قبلہ ہیں۔ کعبہ سامنے نظر آرہا ہو تو عین کعبہ قبلہ ہے اور اگر نظر نہ آتا ہو تو کعبے کی جہت قبلہ ہے۔ اس صورت میں تھوڑا بہت رخ بدل جانا نقصان دہ نہیں جب تک دوسری جہت شروع نہ ہو جائے، مثلاً: پاکستان میں مغرب کی جہت قبلہ ہے تو جب تک چہرہ شمال یا جنوب کو نہیں جاتا، اس وقت تک نماز جائز ہے کیونکہ یہ مجبوری ہے اور شریعت لوگوں کی مجبوریوں کی بہت رعایت رکھتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2919]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2919 in Urdu