سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
132. باب : وضع الصدر والوجه على ما استقبل من دبر الكعبة
باب: کعبہ کے دروازہ والی دیوار کے مقابل دیوار پر سینہ اور چہرہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2918
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَجَلَسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَكَبَّرَ، وَهَلَّلَ ثُمَّ مَالَ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ الْبَيْتِ، فَوَضَعَ صَدْرَهُ عَلَيْهِ، وَخَدَّهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَهَلَّلَ، وَدَعَا، فَعَلَ ذَلِكَ بِالْأَرْكَانِ كُلِّهَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَأَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَهُوَ عَلَى الْبَاب:، فَقَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ، هَذِهِ الْقِبْلَةُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر گیا۔ آپ بیٹھے پھر آپ نے اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل کی، پھر آپ بیت اللہ کے اس حصہ کی طرف جھکے جو آپ کے سامنے تھا، اور آپ نے اس پر اپنا سینہ، رخسار اور اپنے دونوں ہاتھ رکھے، پھر تکبیر و تہلیل کی، اور دعا مانگی، آپ نے اسی طرح خانہ کعبہ کے سبھی ستونوں پر کیا، پھر باہر نکلے دروازے کے پاس آئے، اور قبلہ رخ ہو کر فرمایا: ”یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2912 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نماز اسی طرف منہ کر کے پڑھی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيد | صحابي | |
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد عطاء بن أبي رباح القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي | ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن | |
👤←👥عبد الملك بن ميسرة الفزازى، أبو عبد الله، أبو سليمان عبد الملك بن ميسرة الفزازى ← عطاء بن أبي رباح القرشي | ثقة | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← عبد الملك بن ميسرة الفزازى | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم العبدي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2918 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2918
اردو حاشہ:
(1) ”تکبیر“ اللہ اکبر کہنا ”تہلیل“ لا الہ الا اللہ کہنا اور ”تسبیح“ سبحان اللہ کہنا ہے۔
(2) ”تمام کونوں میں کیا“ معلوم ہوا بیت اللہ کے کسی بھی کونے اور دیوار کے ساتھ چہرہ، سینہ، ہاتھ وغیرہ لگائے جا سکتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ احادیث میں حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کونے کو چھونے کا ذکر نہیں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان دو کے علاوہ کسی کونے یا دیوار کو چھونا منع ہے۔ خصوصاً جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتزم اور بیت اللہ کے اندر دیوار کونوں کو چھونا بلکہ چمٹا تک ثابت ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دو کونوں کے علاوہ (نیز ملتزم کے علاوہ) کسی کونے یا دیوار کو چھونا سنت نہیں، لیکن اس سے جواز کی نفی نہیں ہوتی جیسے رات کو گیارہ رکعت مسنون ہیں مگر اس سے کم و بیش جائز ہیں، منع نہیں جبکہ انھیں سنت نہ سمجھا جائے، بہت سے حضرات ایسے مقامات پر غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ سنت نہیں تو جائز بھی نہیں، مگر یہ بات غلط ہے۔
(1) ”تکبیر“ اللہ اکبر کہنا ”تہلیل“ لا الہ الا اللہ کہنا اور ”تسبیح“ سبحان اللہ کہنا ہے۔
(2) ”تمام کونوں میں کیا“ معلوم ہوا بیت اللہ کے کسی بھی کونے اور دیوار کے ساتھ چہرہ، سینہ، ہاتھ وغیرہ لگائے جا سکتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ احادیث میں حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کونے کو چھونے کا ذکر نہیں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان دو کے علاوہ کسی کونے یا دیوار کو چھونا منع ہے۔ خصوصاً جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتزم اور بیت اللہ کے اندر دیوار کونوں کو چھونا بلکہ چمٹا تک ثابت ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دو کونوں کے علاوہ (نیز ملتزم کے علاوہ) کسی کونے یا دیوار کو چھونا سنت نہیں، لیکن اس سے جواز کی نفی نہیں ہوتی جیسے رات کو گیارہ رکعت مسنون ہیں مگر اس سے کم و بیش جائز ہیں، منع نہیں جبکہ انھیں سنت نہ سمجھا جائے، بہت سے حضرات ایسے مقامات پر غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ سنت نہیں تو جائز بھی نہیں، مگر یہ بات غلط ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2918]
عطاء بن أبي رباح القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي