🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
136. باب : إباحة الكلام في الطواف
باب: دوران طواف بات چیت کے جواز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2925
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ فَأَقِلُّوا مِنَ الْكَلَامِ" , اللَّفْظُ لِيُوسُفَ خَالَفَهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ.
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے، کہتے ہیں: بیت اللہ کا طواف نماز ہے تو (دوران طواف) باتیں کم کرو۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) اس حدیث کے الفاظ یوسف (یوسف بن سعید) کے ہیں۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ان کی یعنی حسن ۱؎ مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2925]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ ایک ایسے شخص سے بیان کرتے ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضِ صحبت پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف نماز (کی طرح عبادت) ہے، لہٰذا اس میں کم ہی کوئی بات کرو۔ یہ الفاظ یوسف (بن سعید) کے ہیں۔ حنظلہ بن ابوسفیان نے حسن بن مسلم کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5694)، مسند احمد (3/414 و4/64 و5/377) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں مخالفت سے لفظی مخالفت مراد ہے، معنوی نہیں کیونکہ مبہم اور مفسر میں کوئی تضاد نہیں ہے، حسن نے صحابی کے نام کو مبہم رکھا ہے، اور حنظلہ نے نام کی وضاحت کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← اسم مبهم
ثقة إمام فاضل
👤←👥الحسن بن مسلم الخزاعي
Newالحسن بن مسلم الخزاعي ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← الحسن بن مسلم الخزاعي
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥الحارث بن مسكين الأموي، أبو عمرو
Newالحارث بن مسكين الأموي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة مأمون
👤←👥الحسن بن مسلم الخزاعي
Newالحسن بن مسلم الخزاعي ← الحارث بن مسكين الأموي
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← الحسن بن مسلم الخزاعي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥يوسف بن سعيد المصيصي، أبو يعقوب
Newيوسف بن سعيد المصيصي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2925 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2925
اردو حاشہ:
(1) اختلاف یہ ہے کہ حسن بن مسلم نے اس روایت کو مرفوع بیان کیا جبکہ حنظلہ بن ابوسفیان نے موقوف۔
(2) ایسے شخص سے آئندہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
(3) نماز کی طرح دونوں میں اللہ کا ذکر ہے۔ دونوں گناہوں کی معافی کا موجب ہیں۔ طواف بیت اللہ کا تحیہ مجبوری اور ضرورت کے وقت اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ کبھی کبھی قلت عدم کے معنیٰ میں بھی ہوتی ہے، یعنی کلام نہ کرو۔ مراد فالتو کلام ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ طواف بالکل نماز کی طرح نہیں ہے، بلکہ بعض احکام میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں جیسے نماز میں کلام نہیں کیا جا سکتا، لیکن طواف میں جائز ہے۔ اسی طرح طہارت کا مسئلہ ہے۔ نماز میں وضو ٹوٹ جائے تو دوبارہ پوری نماز پڑھنی پڑے گی، لیکن طواف میں ایسا نہیں ہوگا، بلکہ وضو ٹوٹ جانے کی صورت میں وضو کر کے دوبارہ وہیں سے طواف کر لے جہاں سے اس نے چھوڑا تھا، یا طواف مکمل کر کے آخر میں وضو کر کے دو رکعت پڑھ لے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2925]

Sunan an-Nasa'i Hadith 2925 in Urdu