سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
186. بَابُ : الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: کپڑے میں منی لگ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 295
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي كَانَ يُجَامِعُ فِيهِ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى".
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنی بہن) ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں جماع کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں! جب آپ اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 295]
حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں جماع کرتے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں! جب اس میں کوئی آلودگی نہ دیکھتے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 133 (366)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 83 (540)، مسند احمد 6/325، 426، سنن الدارمی/الصلاة 102 (1415، 1416)، (تحفة الأشراف: 15868) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
295
| نعم إذا لم ير فيه أذى |
سنن أبي داود |
366
| إذا لم ير فيه أذى |
سنن ابن ماجه |
540
| هل كان رسول الله يصلي في الثوب الذي يجامع فيه قالت نعم إذا لم يكن فيه أذى |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 295 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 295
295۔ اردو حاشیہ: آلودگی سے مراد منی یا خون وغیرہ کا لگنا ہے، اگر ایسا ہو تو متعلقہ حصے کا دھو لینا کافی ہے ورنہ ویسے ہی اس کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ آلودگی نہ لگنے کی وجہ سے وہ پاک ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 295]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث540
جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم۔
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، لیکن ایسا تب ہوتا تھا جب کپڑوں میں گندگی نہ لگی ہوتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 540]
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، لیکن ایسا تب ہوتا تھا جب کپڑوں میں گندگی نہ لگی ہوتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 540]
اردو حاشہ:
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ ازدواجی عمل کے لیے الگ سے لباس رکھنا ضروری نہیں۔
(2)
جنابت کی وجہ سے وہ لباس ناپاک نہیں ہوجاتا جو صنفی عمل کے دوران میں جسم پر ہو۔
ہاں اگر کپڑے پر کچھ لگ جائے تو وہاں سے کپڑا دھو کر نماز پڑھ لے، ورنہ دھونے کی بھی ضرورت نہیں۔
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ ازدواجی عمل کے لیے الگ سے لباس رکھنا ضروری نہیں۔
(2)
جنابت کی وجہ سے وہ لباس ناپاک نہیں ہوجاتا جو صنفی عمل کے دوران میں جسم پر ہو۔
ہاں اگر کپڑے پر کچھ لگ جائے تو وہاں سے کپڑا دھو کر نماز پڑھ لے، ورنہ دھونے کی بھی ضرورت نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 540]
Sunan an-Nasa'i Hadith 295 in Urdu
معاوية بن أبي سفيان الأموي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية