یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
230. باب : الدعاء بعد رمى الجمار
باب: جمرات کی رمی کے بعد کی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3085
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: بَلَغَنَا" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي الْمَنْحَرَ، مَنْحَرَ مِنًى رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا، فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو يُطِيلُ الْوُقُوفَ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ رَافِعًا يَدَيْهِ، يَدْعُو ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
زہری کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے، پھر ذرا آگے بڑھتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو کر دعا کرتے۔ پھر اس جمرے کے پاس آتے، جو عقبہ کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور اس کے پاس (دعا کے لیے) کھڑے نہیں ہوتے۔ زہری کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی، وہ اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3085]
امام زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو رمی کرتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے تو آپ اسے سات کنکریاں مارتے۔ جب بھی کوئی کنکری مارتے، «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے، پھر آگے بڑھتے اور قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔ اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے اور بڑی دیر تک کھڑے رہتے، پھر دوسرے جمرے کے پاس آتے اور اسے سات کنکریاں مارتے۔ جب بھی کوئی کنکری مارتے، «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے، پھر بائیں طرف کو نیچے اترتے اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔ اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیتے اور دعا کرتے، پھر اس جمرے کے پاس آتے جو گھاٹی کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں مارتے، پھر اس کے پاس (دعا کے لیے) نہیں ٹھہرتے تھے۔ امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت سالم رحمہ اللہ سے سنی، انہوں نے اپنے باپ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 140 (1751)، 41 (1753) تعلیقًا، سنن ابن ماجہ/الحج 65 (3032)، (تحفة الأشراف: 6986)، مسند احمد (2/152)، سنن الدارمی/المناسک 61 (1944) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3165
| أفاض يوم النحر ثم رجع صلى الظهر بمنى |
جامع الترمذي |
900
| إذا رمى الجمار مشى إليها ذاهبا وراجعا |
سنن أبي داود |
1998
| أفاض يوم النحر صلى الظهر بمنى يعني راجعا |
سنن ابن ماجه |
3032
| رمى جمرة العقبة ولم يقف عندها |
سنن النسائى الصغرى |
3085
| إذا رمى الجمرة التي تلي المنحر منحر منى رماها بسبع حصيات يكبر كلما رمى بحصاة تقدم أمامها فوقف مستقبل القبلة رافعا يديه يدعو يطيل الوقوف ثم يأتي الجمرة الثانية فيرميها بسبع حصيات يكبر كلما رمى بحصاة ثم ينحدر ذات الشمال فيقف مستقبل البيت رافعا يديه يدعو |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3085 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3085
اردو حاشہ:
(1) ہر جمرے کی رمی کے بعد دعا نہیں کی جاتی بلکہ اس رمی کے بعد دعا کی جاتی ہے جس کے بعد اور رمی ہو۔ گویا جمرہ عقبہ کو رمی کرنے کے بعد دعا نہیں کی جاتی، خواہ کوئی بھی دن ہو کیونکہ اس کے بعد اور رمی نہیں ہوتی۔ البتہ پہلے دو جمروں میں سے ہر ایک کو رمی کرنے کے بعد دو جمروں کے درمیان قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا کی جائے گی اور ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔
(2) بعض احادیث میں جو وادی کے پیٹ یا نشیب وغیرہ کا ذکر ہے، وہ اس دور میں تھا، بعد میں بھی رہا، مگر آج کل تو جمرات کے اردگرد ہر طرف جگہ ہموار ہے، کوئی نشیب و فراز نہیں۔ جمرات کو ستون نما بنا دیا گیا ہے بلکہ آج کل انھیں لمبی دیوار کی شکل دے دی گئی ہے۔ ہر طرف وسیع اور ہموار پختہ سڑکیں پھیلا دی گئی ہیں تاکہ رش پر قابو پایا جا سکے۔ یہ سب حاجیوں کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔
(1) ہر جمرے کی رمی کے بعد دعا نہیں کی جاتی بلکہ اس رمی کے بعد دعا کی جاتی ہے جس کے بعد اور رمی ہو۔ گویا جمرہ عقبہ کو رمی کرنے کے بعد دعا نہیں کی جاتی، خواہ کوئی بھی دن ہو کیونکہ اس کے بعد اور رمی نہیں ہوتی۔ البتہ پہلے دو جمروں میں سے ہر ایک کو رمی کرنے کے بعد دو جمروں کے درمیان قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا کی جائے گی اور ہاتھ اٹھائے جائیں گے۔
(2) بعض احادیث میں جو وادی کے پیٹ یا نشیب وغیرہ کا ذکر ہے، وہ اس دور میں تھا، بعد میں بھی رہا، مگر آج کل تو جمرات کے اردگرد ہر طرف جگہ ہموار ہے، کوئی نشیب و فراز نہیں۔ جمرات کو ستون نما بنا دیا گیا ہے بلکہ آج کل انھیں لمبی دیوار کی شکل دے دی گئی ہے۔ ہر طرف وسیع اور ہموار پختہ سڑکیں پھیلا دی گئی ہیں تاکہ رش پر قابو پایا جا سکے۔ یہ سب حاجیوں کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3085]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1998
طواف افاضہ کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی (طواف سے) لوٹ کر۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1998]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی (طواف سے) لوٹ کر۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1998]
1998. اردو حاشیہ: عرفات اور مزدلفہ سے لوٹنے کے بعد دسویں تاریخ کو یا اس کے بعد کسی وقت بیت اللہ کاطواف کرنا فرض ہے۔قرآن مجید کا حکم ہے۔(وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ)(الحج۔29) انھیں چاہیے کہ قدیم گھر کاطواف کریں اس طواف کوطواف افاضہ طواف زیارہ اور طواف رکن بھی کہتے ہیں۔افضل یہی ہے کہ دسویں زی الحجہ کو کرلیا جائے۔یا ایام تشریق میں کسی وقت۔ اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے واپس لوٹ کر منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھی جبکہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایات میں ہے۔کہ آپ نے مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔بعد ازاں آپ منیٰ میں تشریف لائے۔دونوں روایتیں سندا صحیح ہیں۔اور محدثین نے اپنے اپنے انداز میں ترجیح دی ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہرحمۃ اللہ علیہ اور بعض دیگر نے منیٰ میں نماز پڑھنے کی روایت کو ترجیح دی ہے۔اور اس کی کوئی وجوہ ہیں۔(الف) اگر آپ مکہ میں ظہر کی نماز پڑھتے تو منیٰ میں اپنا کوئی نائب بنا کر جاتے جو انہیں ظہر کی نماز پڑھاتا اور یہ منقول نہیں ہے۔اور نائب کا نماز پڑھانا محال ہے۔ اور کسی نے اس کا ذکر بھی نہیں کیا ہے۔حالانکہ ایک سفر میں آپ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا نائب بنایا تھا۔ ایک بار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا نائب بنایا تھا۔جبکہ آپ بنو عمرو بن عوف میں ان کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے تھے اسی طرح اس ایام مرض میں بھی آپ نے ان کو اپنا امام بنایا تھا۔اور یہ سوال کہ مکہ میں آپ نے نائب نہیں بنایا۔تو اس کی قطعاً ضرورت ہی نہیں تھی۔کیونکہ ان لوگوں کےلئے امام پہلے سے مقرر شدہ تھا جو انہیں نمازیں پڑھاتا تھا۔ (ب) اگرآپ مکہ میں نماز پڑھاتے۔تو اہل مکہ پوری نماز پڑھتے۔ کیونکہ ان پر اتمام واجب تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو حسب دستور یہ نہیں فرمایا کہ اپنی نماز پوری کرو ہم لوگ مسافر ہیں۔ جیسے کے فتح مکہ کے موقع پر کہا تھا۔ (ج) یہ ممکن ہے کہ فتح مکہ میں آپ کا نماز پڑھنا یا پڑھانا رکعات طواف سے مشتبہ ہوگیا۔بالخصوص کے لوگ آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔اور آپ کی اقتداء بھی کرتے تھے۔دیکھنے والے نے اس کو نماز ظہر سمجھا ہو۔مگرآپ کا منیٰ میں نماز پڑھنا کسی طور پرمشتبہ نہیں ہوسکتا۔بالخصوص جبکہ آپ حجاج کے امام تھے۔آپ کےعلاوہ کوئی اور نماز پڑھانے کامجاز ہی نہ تھا۔اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ انھیں امام کے بغیر چھوڑ جایئں۔ اور وہ اکیلےاکیلے نماز پڑھیں۔یہ انتہائی بعید از قیاس بات ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث سے کچھ محدثین نے یہ سمجھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں نماز ظہر ادا کی۔بعد ازاں بیت اللہ تشریف لے گئے۔جیسے کہ وہ کہتی ہیں کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھ کر دن کےآخری حصہ میں طواف افاضہ کیا۔ پھر منیٰ واپس آگئے۔دیکھئے۔(تہذیب ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ ]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1998]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3085 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي