🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : الرخصة في التخلف لمن له والدة
باب: ماں کی موجودگی میں جہاد میں نہ نکلنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3106
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا".
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3106]
حضرت معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (میرے والد محترم) حضرت جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ جنگ کو جانے کا ہے جبکہ میں آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری والدہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس ہی رہ (اور خدمت کر)۔ جنت اس کے پاؤں تلے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجہاد 12 (2781)، (تحفة الأشراف: 11375)، مسند احمد (3/429) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جنت کی حصول یابی ماں کی رضا مندی اور خوشنودی کے بغیر ممکن نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن جاهمة السلميصحابي
👤←👥طلحة بن عبد الله التيمي
Newطلحة بن عبد الله التيمي ← معاوية بن جاهمة السلمي
مقبول
👤←👥محمد بن طلحة القرشي
Newمحمد بن طلحة القرشي ← طلحة بن عبد الله التيمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن طلحة القرشي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الوهاب بن عبد الحكم النسائي، أبو الحسن
Newعبد الوهاب بن عبد الحكم النسائي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2781
ويحك أحية أمك قلت نعم قال ارجع فبرها ثم أتيته من الجانب الآخر فقلت يا رسول الله إني كنت أردت الجهاد معك أبتغي بذلك وجه الله والدار الآخرة قال ويحك أحية أمك قلت نعم يا رسول الله قال فارجع إليها فبرها ثم أتيته من أمامه فقلت يا رسول الله إني كنت أردت الجهاد
سنن النسائى الصغرى
3106
هل لك من أم قال نعم قال فالزمها فإن الجنة تحت رجليها
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3106 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3106
اردو حاشہ:
جنت اس کے پاؤں تلے ہے یہ ایک محاورہ ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اس کی خدمت کرنے سے تجھے جنت حاصل ہوگی، پھر اس کی خدمت تیرا فرض بھی ہے۔ جہاد سے بھی جنت ہی حاصل ہوگی مگر وہ تجھ پر فرض نہیں، لہٰذا اپنا فرض ادا کرکے جنت حاصل کر۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3106]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2781
ماں باپ کی زندگی میں جہاد کرنے کا حکم۔
معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا: میں اللہ کی رضا اور دار آخرت کی بھلائی کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس، کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، اور اپنی ماں کی خدمت کرو پھر میں دوسری جانب سے آیا، اور میں نے عرض کیا: میں اللہ کی رضا جوئی اور دار آخرت کی خاطر آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ میں نے پھر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2781]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے اس لیے بعض لوگ پیچھے رہ سکتے ہیں۔

(2)
جب والدین کی خدمت کرنے والا کوئی اور بیٹا نہ ہوتو جہاد کی نسبت والدین کی خدمت زیادہ اہم ہے۔

(3)
جس طرح جہاد سے جنت ملتی ہےاسے طرح والدین کی خدمت سے بھی جنت ملتی ہے۔

(4)
ماں کی خدمت باپ کی خدمت سے زیادہ اہم ہے تاہم باپ کی ناراضی سے بھی بچنا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2781]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3106 in Urdu