Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب : الرجل يغزو وله أبوان
باب: ماں باپ کی زندگی میں جہاد کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2781
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ:" وَيْحَكَ، أَحَيَّةٌ أُمُّكَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" ارْجِعْ، فَبَرَّهَا"، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ:" وَيْحَكَ، أَحَيَّةٌ أُمُّكَ"، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَارْجِعْ إِلَيْهَا فَبَرَّهَا"، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ أَمَامِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ:" وَيْحَكَ، أَحَيَّةٌ أُمُّكَ"، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَيْحَكَ الْزَمْ رِجْلَهَا فَثَمَّ الْجَنَّةُ"،
معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا: میں اللہ کی رضا اور دار آخرت کی بھلائی کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس، کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، اور اپنی ماں کی خدمت کرو پھر میں دوسری جانب سے آیا، اور میں نے عرض کیا: میں اللہ کی رضا جوئی اور دار آخرت کی خاطر آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ میں نے پھر کہا: ہاں! اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس واپس چلے جاؤ اور اس کی خدمت کرو، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ کی رضا اور دار آخرت کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس، کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ میں نے جواب دیا: ہاں! اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس! اس کے پیر کے پاس رہو، وہیں جنت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجہاد 6 (3106)، (تحفة الأشراف: 11375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن جاهمة السلميصحابي
👤←👥محمد بن طلحة القرشي
Newمحمد بن طلحة القرشي ← معاوية بن جاهمة السلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن طلحة القرشي
صدوق مدلس
👤←👥محمد بن سلمة الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلمة الباهلي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن أحمد الرقي، أبو يوسف
Newمحمد بن أحمد الرقي ← محمد بن سلمة الباهلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2781
ويحك أحية أمك قلت نعم قال ارجع فبرها ثم أتيته من الجانب الآخر فقلت يا رسول الله إني كنت أردت الجهاد معك أبتغي بذلك وجه الله والدار الآخرة قال ويحك أحية أمك قلت نعم يا رسول الله قال فارجع إليها فبرها ثم أتيته من أمامه فقلت يا رسول الله إني كنت أردت الجهاد
سنن النسائى الصغرى
3106
هل لك من أم قال نعم قال فالزمها فإن الجنة تحت رجليها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2781 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2781
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے اس لیے بعض لوگ پیچھے رہ سکتے ہیں۔

(2)
جب والدین کی خدمت کرنے والا کوئی اور بیٹا نہ ہوتو جہاد کی نسبت والدین کی خدمت زیادہ اہم ہے۔

(3)
جس طرح جہاد سے جنت ملتی ہےاسے طرح والدین کی خدمت سے بھی جنت ملتی ہے۔

(4)
ماں کی خدمت باپ کی خدمت سے زیادہ اہم ہے تاہم باپ کی ناراضی سے بھی بچنا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2781]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3106
ماں کی موجودگی میں جہاد میں نہ نکلنے کی رخصت کا بیان۔
معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3106]
اردو حاشہ:
جنت اس کے پاؤں تلے ہے یہ ایک محاورہ ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اس کی خدمت کرنے سے تجھے جنت حاصل ہوگی، پھر اس کی خدمت تیرا فرض بھی ہے۔ جہاد سے بھی جنت ہی حاصل ہوگی مگر وہ تجھ پر فرض نہیں، لہٰذا اپنا فرض ادا کرکے جنت حاصل کر۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3106]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2781M
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ ، أَنَّ جَاهِمَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: هَذَا جَاهِمَةُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ الَّذِي عَاتَبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ.
اس سند سے بھی معاویہ بن جاھمہ رضی اللہ عنہ نے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ جاھمہ بن عباس بن مرداس سلمی ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ حنین کے موقعہ پر (مال غنیمت کی تقسیم کے وقت) ناراض ہو گئے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2781M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن جاهمة السلميصحابي
👤←👥طلحة بن عبد الله التيمي
Newطلحة بن عبد الله التيمي ← معاوية بن جاهمة السلمي
مقبول
👤←👥محمد بن طلحة القرشي
Newمحمد بن طلحة القرشي ← طلحة بن عبد الله التيمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن طلحة القرشي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة