سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ : مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَنْوِ مِنْ غَزَاتِهِ إِلاَّ عِقَالاً
باب: جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور نیت ایک رسی حاصل کرنے کی ہو۔
حدیث نمبر: 3141
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ غَزَا وَهُوَ لَا يُرِيدُ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ، مَا نَوَى".
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جہاد کیا اور اس نے (مال غنیمت میں) صرف عقال (یعنی ایک معمولی چیز) حاصل کرنے کا ارادہ کیا، تو اسے وہی چیز ملے گی جس کا اس نے ارادہ کیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3141]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اونٹ کا گھٹنا باندھنے والی رسی حاصل کرنے کے لیے جہاد کرے گا تو اسے اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3140 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مزید اسے اور کوئی چیز از روئے ثواب بشکل انعام و اکرام جنت میں حاصل نہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
8085
الجامع الكامل حدیث نمبر :
8085
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3141 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3141
اردو حاشہ:
”نیت کے مطابق“ یعنی اسے اخروی ثواب نہیں ملے گا کیونکہ اس نے اس کا ارادہ ہی نہیں کیا۔ باقی رہا دنیا کا مال، ممکن ہے اسے مل جائے، ممکن ہے وہ بھی نہ ملے،ع نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ البتہ اگر جہاد خلوص نیت سے کرے، غنیمت مقصود نہ ہو مگر مل جائے، کتنی ہی مقدار میں ملے، وہ نقصان دہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔
”نیت کے مطابق“ یعنی اسے اخروی ثواب نہیں ملے گا کیونکہ اس نے اس کا ارادہ ہی نہیں کیا۔ باقی رہا دنیا کا مال، ممکن ہے اسے مل جائے، ممکن ہے وہ بھی نہ ملے،ع نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ البتہ اگر جہاد خلوص نیت سے کرے، غنیمت مقصود نہ ہو مگر مل جائے، کتنی ہی مقدار میں ملے، وہ نقصان دہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3141]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3141 in Urdu
يحيى بن الوليد الأنصاري ← عبادة بن الصامت الأنصاري