🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ : مَنْ غَزَا يَلْتَمِسُ الأَجْرَ وَالذِّكْرَ
باب: اجرت اور شہرت کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3142
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ هِلَالٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ مَالَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا شَيْءَ لَهُ" , فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ" ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ".
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جہاد کرتا ہے، اور جہاد کی اجرت و مزدوری چاہتا ہے، اور شہرت و ناموری کا خواہشمند ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کچھ نہیں ہے“ ۱؎۔ اس نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے یہی فرماتے رہے کہ اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو، اور اس سے اللہ کی رضا مقصود و مطلوب ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3142]
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں، ایک شخص جنگ کو جاتا ہے، ثواب اور شہرت دونوں کا طلب گار ہے، اسے کیا ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کچھ نہیں ملے گا۔“ اس شخص نے یہ سوال تین دفعہ دہرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ صرف اس عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے کیا جائے اور صرف اس کی رضا مندی مقصود ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4881)، مسند احمد (4/126) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ اس کی نیت خالص نہیں تھی اس لیے وہ ثواب سے محروم رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عكرمة بن عمار مدلس وعنعن. ولحديثه شاهد ضعيف، جدًا عند الطبراني فى الكبير (8/ 165 ح 7628) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 345


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامةصحابي
👤←👥شداد بن عبد الله القرشي، أبو عمار
Newشداد بن عبد الله القرشي ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← شداد بن عبد الله القرشي
صدوق يغلط
👤←👥معاوية بن سلام الحبشي، أبو سلام
Newمعاوية بن سلام الحبشي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة
👤←👥محمد بن حمير السليحي، أبو عبد الله، أبو عبد الحميد
Newمحمد بن حمير السليحي ← معاوية بن سلام الحبشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عيسى بن أبي عيسى السليحي
Newعيسى بن أبي عيسى السليحي ← محمد بن حمير السليحي
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3142 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3142
اردو حاشہ:
اللہ تعالیٰ نیک کام میں ”شرکت“ کو بھی پسند نہیں فرماتا۔ شرکت سے مقصود یہ ہے کہ ثواب کی نیت بھی ہو اور ساتھ ساتھ غنیمت اور شہرت بھی مقصود ہو۔ ظاہر ہے یہ ”شرک“ کی طرح ہے۔ شرک میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت تو ہوتی ہی ہے مگر غیر اللہ کی بھی عبادت ہوتی ہے۔ اگر شرک قبول نہیں تو یہ شرکت کیسے قبول ہوگی؟ اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول کرتا ہے جس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3142]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3142 in Urdu