سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : النهى عن التبتل
باب: مجرد (عورتوں سے الگ تھلگ) رہنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3217
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ قَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِيَ الْعَنَتَ وَلَا أَجِدُ طَوْلًا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، أَفَأَخْتَصِي؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى قَالَ: ثَلَاثًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ، فَاخْتَصِ عَلَى ذَلِكَ أَوْ دَعْ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْأَوْزَاعِيُّ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ الزُّهْرِيِّ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ , قَدْ رَوَاهُ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں جوان آدمی ہوں اور اپنے بارے میں ہلاکت میں پڑ جانے سے ڈرتا ہوں، اور عورتوں سے شادی کر لینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا، تو کیا میں خصی ہو جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ نہ ہوئے انہوں نے اپنی یہی بات تین بار کہی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! جس سے تم کو دوچار ہونا ہے اس سے تو تم دوچار ہو کر رہو گے اسے لکھ کر قلم (بہت پہلے) خشک ہو چکا ہے، اب چاہو تو تم خصی ہو جاؤ یا نہ ہو“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اوزاعی نے (ابن شہاب) زہری سے اس حدیث کو نہیں سنا ہے، لیکن یہ حدیث اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ اس حدیث کو یونس نے (ابن شہاب) زہری سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15207) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جو کچھ تمہاری قسمت میں لکھا جا چکا ہے اس میں ذرہ برابر کوئی تبدیلی نہیں ہونی ہے لہٰذا تمہاری قسمت میں اگر اولاد لکھی جا چکی ہے تو ضرور ہو گی اب سوچ لو کہ خصی ہونے سے کیا فائدہ ہو گا؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥أبو هريرة الدوسي أبو هريرة الدوسي ← يونس بن يزيد الأيلي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة مأمون | |
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة أنس بن عياض الليثي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن موسى الحداني، أبو زكريا يحيى بن موسى الحداني ← أنس بن عياض الليثي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3217 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3217
اردو حاشہ:
(1) یعنی یہ روایت اوزاعی کے طریق سے منقطع ہے لیکن یونس کے واسطے سے صحیح ہے۔
(2) آپ کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تیرے آئندہ اعمال کا بھی علم ہے جو لامحالہ صادر ہوں گے، لہٰذا تجھے خصی جیسا حرام کام کرنے کا کیا فائدہ؟ اس سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ سے وسعت کی دعا کیا کر اور گناہ سے بچنے کی کوشش کر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری الفاظ ”خصی ہویا نہ ہو۔“ اجازت کے لیے نہیں بلکہ یہ تو غصہ اور ڈانٹ ظاہر کرتے ہیں اور یہ عام محاورہ ہے۔ آپ کا اعراض فرمانا واضح دلیل ہے۔
(1) یعنی یہ روایت اوزاعی کے طریق سے منقطع ہے لیکن یونس کے واسطے سے صحیح ہے۔
(2) آپ کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تیرے آئندہ اعمال کا بھی علم ہے جو لامحالہ صادر ہوں گے، لہٰذا تجھے خصی جیسا حرام کام کرنے کا کیا فائدہ؟ اس سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ سے وسعت کی دعا کیا کر اور گناہ سے بچنے کی کوشش کر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری الفاظ ”خصی ہویا نہ ہو۔“ اجازت کے لیے نہیں بلکہ یہ تو غصہ اور ڈانٹ ظاہر کرتے ہیں اور یہ عام محاورہ ہے۔ آپ کا اعراض فرمانا واضح دلیل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3217]
يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري