🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : النهى عن التبتل
باب: مجرد (عورتوں سے الگ تھلگ) رہنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3219
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَصُومُ فَلَا أُفْطِرُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا؟ لَكِنِّي أُصَلِّي، وَأَنَامُ، وَأَصُومُ، وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں سے بعض نے کہا: میں نکاح (شادی بیاہ) نہیں کروں گا، بعض نے کہا: میں گوشت نہ کھاؤں گا، بعض نے کہا: میں بستر پر نہ سوؤں گا، بعض نے کہا: میں مسلسل روزے رکھوں گا، کھاؤں پیوں گا نہیں، یہ خبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے (لوگوں کے سامنے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ (مجھے دیکھو) میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، اور عورتوں سے شادیاں بھی کرتا ہوں۔ (سن لو) جو شخص میری سنت سے اعراض کرے (میرے طریقے پر نہ چلے) سمجھ لو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3219]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ چند اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم (اکٹھے ہوئے ان) میں سے ایک نے کہا: میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا۔ دوسرے نے کہا: میں گوشت نہیں کھاؤں گا۔ تیسرے نے کہا: میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ چوتھے نے کہا: میں روزے رکھوں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر فرمایا: کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ایسی ایسی باتیں کہتے ہیں، حالانکہ میں (نفل) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، (نفل) روزے بھی رکھتا ہوں اور ناغے بھی کرتا ہوں اور میں نے (ایک سے زائد) عورتوں سے شادی بھی کر رکھی ہے، لہٰذا جو شخص میری سنت اور طریق کار کو ناپسند کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 1 (5063)، صحیح مسلم/النکاح 1 (1401)، (تحفة الأشراف: 334)، مسند احمد (3/241، 259، 285) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان
Newعفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عفان بن مسلم الباهلي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5063
أخشاكم لله وأتقاكم له لكني أصوم وأفطر أصلي وأرقد أتزوج النساء من رغب عن سنتي فليس مني
صحيح مسلم
3403
أصلي وأنام أصوم وأفطر أتزوج النساء من رغب عن سنتي فليس مني
سنن النسائى الصغرى
3219
أصلي وأنام أصوم وأفطر أتزوج النساء من رغب عن سنتي فليس مني
مشكوة المصابيح
145
جاء ثلاثة رهط إلى بيوت ازواج النبي صلى الله عليه وسلم يسالون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم فلما اخبروا كانهم تقالوها
بلوغ المرام
825
لكني أنا أصلي ،‏‏‏‏ وأنام ،‏‏‏‏ وأصوم ،‏‏‏‏ وأفطر ،‏‏‏‏ وأتزوج النساء ،‏‏‏‏ فمن رغب عن سنتي فليس مني
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3219 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظہ الله سنن نسائي3219
اردو حاشہ:
(1) حدیث کے آخری الفاظ تہدید کے طور پر ہیں‘ یعنی گویا کہ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ یا اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ وہ میرے طریق کار سے ہٹ چکا ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ مسلمان نہیں کیونکہ اسلام کے بعد کسی گناہ یا معصیت کا ارتکاب انسان کو کافر نہیں بناتا۔ بہرصورت مندرجہ بالا امور سخت منع ہیں‘ خواہ کوئی شخص بھی انہیں نیکی سمجھ کر کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر نیک بننا حماقت ہے۔ آپ کا طریقہ ہی بہترین طریقہ ہے۔
(2) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرص کا اندازہ کیجیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اعمال وافعال کے بارے میں بھی پوچھتے تھے جو آپ گھر میں کرتے تھے تاکہ ان اعمال میں بھی وہ آپ کی پیروی کریں‘ کوئی کام اتباع سے رہ نہ جائے۔
(3) جن مسائل کا علم مردوں سے حاصل ہونا ممکن نہیں نہ ہو‘ وہ خواتین سے دریافت کیے جاسکتے ہیں۔
(4) شرعی حدود قیود میں رہ کر خواتین سے علم حاصل کیا جاسکتا ہے۔
(5) اگر ریا کاری مقصود نہ ہو تو اپنے نیک عمل یا نیک عمل پر عزم کا اظہار کرنے میں حرج نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3219]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، مشكوة المصابيح حدیث 145
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حدیث قیامت تک ہر دور میں حجت ہے
. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کی کیفیت ان سے دریافت کریں جب ان لوگوں کو آپ کی عبادت کا حال بتایا گیا تو اس کو یہ لوگ کم اور بہت معمولی سمجھ کر آپس میں کہنے لگے کہ ... [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 145]
تخریج:
[صحيح بخاري 5063] ،
[صحيح مسلم 3403]

فقہ الحدیث:
➊ ہمیشہ سنت پر عمل اور بدعات سے مکمل اجتناب کرنا چاہئیے۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے جان بوجھ کر منہ پھیرنے والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کا مخالف ہے۔
➌ دین اسلام میں رہبانیت اور کلیتاً ترک دنیا کا کوئی تصور نہیں ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حدیث قیامت تک ہر دور میں حجت ہے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے بالکل معصوم ہونے کے باوجود کثرت سے عبادت کرتے تھے۔
➏ بہتر سے بہتر عمل کی تلاش اور تحقیق میں مسلسل مصروف رہنا چاہئیے۔
➐ کتاب و سنت کے خلاف ہر بات کا رد کرنا اہل ایمان کا شیوہ ہے۔
➑ اگر کوئی مسئلہ پیش آ جائے تو کوشش کر کے بڑے عالم کے پاس جا کر پوچھنا چاہئے۔
➒ کتنا ہی بڑا عالم و زاہد ہو، اسے اجتہادی غلطی لگ سکتی ہے، لہذا دین اسلام میں تقلید کا کوئی تصور نہیں ہے۔
➓ یہ تین آدمی کون تھے؟ کسی صحیح حدیث میں اس کی وضاحت نہیں ہے۔
◄ اس سلسلے میں فتح الباری [105، 104/9] وغیرہ میں مذکور سارے اقوال غیر ثابت ہیں۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 145]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، صحيح بخاري: 5063
سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آئے تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق معلومات حاصل کریں۔ جب انہیں (اس کی) خبر دی گئی تو انہوں نے اسے کم خیال کیا، کہنے لگے کہ ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت سے کیا مقابلہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ بخش دیے ہیں، چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: میں ہمیشہ رات بھی نماز پڑھتا ہوں رہوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا، اور افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے علیحدگی اختیار کروں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور آپ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے یہ باتیں کہی ہیں؟ خبردار! اللہ کی قسم! میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہوں ... [صحيح بخاري، حديث: 5063]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کے لانے سے محدث کی غرض نکاح کی اہمیت بتلانا ہے کہ نکاح اسلام میں سخت ضروری عمل ہے۔
ساتھ ہی اسی حدیث سے حقیقت اسلام پر بھی روشنی پڑتی ہے جس سے ادیان عالم کے مقابلہ پر اسلام کا دین فطرت ہونا ظاہر ہوتا ہے اسلام دنیا و دین ہر دو کی تعمیر چاہتا ہے وہ غلط رہبانیت اور غلط طور پر ترک دنیا کا قائل نہیں ہے۔
ایک عالمگیر آخری دین کے لئے ان ہی اوصاف کا ہونا لابدی تھا، اسی لئے اسے ناسخ ادیان قرار دے کر بنی نوع انسان کا آخری دین قرار دیا گیا، سچ ہے ﴿إن الدِینَ عِندَ اللہِ الإسلَامُ﴾ (آل عمران: 19)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5063]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظہ الله، فوائد و مسائل، صحيح مسلم: 3403
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ساتھیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے آپ کے خفیہ اعمال یا پوشیدہ عبادات کے بارے میں دریافت کیا، اس کے بعد ان میں سے ایک نے کہا، میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا، اور دوسرے نے کہا، میں گوشت نہیں کھاؤں گا، تیسرے نے کہا، میں بستر پر نہیں سوؤں گا، (آپ کو پتہ چلا) تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے... [صحيح مسلم، حديث: 3403]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت سعید بن المسیب کی مرسل روایت سے معلوم ہوتا ہے، ازواج مطہرات سے پوچھ کر، کہ آپ کا گھر میں عمل کیا تھا، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ باتیں کیں، کیونکہ انہیں اپنے اعتبار سے ازواج مطہرات کے بیان کردہ اعمال کم محسوس ہوئے اور انہوں نے خیال کیا، آپ کے اعتبار کے لحاظ سے تو یہ کافی ہیں، لیکن ہماری حیثیت ومقام کے لحاظ سے ہمیں ان سے زیادہ اعمال کی ضرورت ہے تو آپ نے غلط فہمی دور فرمائی اور ایک اصول بیان فرمایا، کہ میں تم سب سےاللہ تعالیٰ کا خوف وخشیت زیادہ رکھتا ہوں اور اللہ کے احکام و حدود کا سب سے بڑھ کر پابند ہوں، (جیساکہ بخاری شریف میں تصریح موجودہے) اس لیے تمہارے لیے میرا طرز عمل یا طریق کار اور رویہ مشعل راہ ہے تمہیں اس کی پابندی کرنی چاہیے اور جو میرا لائحہ عمل اور طریقہ کافی نہیں سمجھتا، اس کا میرے ساتھ کوئی محبت و عقیدت کا تعلق نہیں ہے اور وہ میرا ساتھی نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3403]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظہ الله، فوائد و مسائل، صحيح بخاري: 5063
... اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور آپ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے یہ باتیں کہی ہیں؟ خبردار! اللہ کی قسم! میں تمہاری نسبت اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہوں لیکن میں روزے رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی... [صحيح بخاري، حديث:5063]
حدیث حاشیہ:
(1)
اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔
اس میں بےجا رہبانیت اور بلاوجہ ترک دنیا کا تصور نہیں ہے کیونکہ یہ دین فطرت ہے اور عورتوں سے نکاح نہ کرنا فطرت کی خلاف ورزی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے متعلق فرمایا:
آپ سے پہلے ہم نے بہت سے رسول بھیجے اور انھیں ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا۔ (الرعد: 38)
عام طور پر جاہل لوگ خیال کرتے ہیں کہ نکاح کرنا اور بال بچوں والا ہونا تو دنیا دار قسم کے لوگوں کا کام ہے۔ لیکن ان کا یہ خیال درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ بشر ہی تھے اور بشری تقاضوں کو پورا کرنے والے تھے۔
(2) درج بالا حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قسم کی فکری اصلاح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے تارک دنیا ہونا ضروری نہیں بلکہ ایسا کرنا اپنی فطرت سے جنگ کرنا ہے۔ شادی نکاح کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے جو اس سے روگردانی کرتا ہے اس کا تعلق دین اسلام سے کٹ جاتا ہے۔ والله اعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5063]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3219 in Urdu