سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : وقت الطلاق للعدة التي أمر الله عز وجل أن تطلق لها النساء
باب: عورتوں کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دی جانے والی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3422
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُهُ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ".
مجاہد (اپنے استاذ) ابن عباس رضی الله عنہما سے اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» یعنی ”جب عورت حیض سے پاک ہو جائے اور اس سے اس طہر میں صحبت بھی نہ کی جائے تب طلاق دینی چاہیئے“ کے سلسلے میں روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «لعدتهن» کی جگہ «قبل عدتهن» پڑھا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6389) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3422 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3422
اردو حاشہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ طلاق عدت سے پہلے ہونی چاہیے‘ یعنی طہر میں کیونکہ عدت کا آغاز حیض سے ہوتا ہے۔ اگر طلاق حیض میں ہوئی تو وہ عدت کے دوران میں ہوگی جو درست نہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ طلاق عدت سے پہلے ہونی چاہیے‘ یعنی طہر میں کیونکہ عدت کا آغاز حیض سے ہوتا ہے۔ اگر طلاق حیض میں ہوئی تو وہ عدت کے دوران میں ہوگی جو درست نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3422]
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي