🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : الكراهية في تأخير الوصية
باب: وصیت میں تاخیر مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3642
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ، مَالُكَ مَا قَدَّمْتَ وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کون شخص ہے جس کو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پسند ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر شخص کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمجھو اس بات کو، تم میں سے ہر شخص کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ عزیز و محبوب ہے، تمہارا مال تو وہ ہے جو تم نے (مرنے سے پہلے اپنی آخرت میں کام آنے کے لیے) آگے بھیج دیا اور تمہارے وارث کا مال وہ ہے جو تم نے (مرنے کے بعد) اپنے پیچھے چھوڑ دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 12 (6442)، (تحفة الأشراف: 9192)، مسند احمد (1/382) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اپنی زندگی ہی میں کسی کو دے دلا دینا زیادہ بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥الحارث بن سويد التيمي، أبو عائشة
Newالحارث بن سويد التيمي ← عبد الله بن مسعود
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن يزيد التيمي، أبو أسماء
Newإبراهيم بن يزيد التيمي ← الحارث بن سويد التيمي
ثقة يرسل
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← إبراهيم بن يزيد التيمي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6442
أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله قالوا يا رسول الله ما منا أحد إلا ماله أحب إليه قال فإن ماله ما قدم ومال وارثه ما أخر
سنن النسائى الصغرى
3642
ليس منكم من أحد إلا مال وارثه أحب إليه من ماله مالك ما قدمت ومال وارثك ما أخرت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3642 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3642
اردو حاشہ:
(1) قربان جائیں اس ذات اقدس پر۔ کس خوبی سے اس حقیقت کو واضح فرمایا جس سے سب ہی غافل ہیں۔ الا ماشاء اللہ۔
(2) حدیث میں نیکی کی ترقی کی ترغیب دلائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں جو کچھ بھلائی اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرے گا وہی آخرت میں اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوگا۔ موت کے فرشتے کے بعد ورثے میں سے اگر کوئی خرچ کرے گا تو اسے اس خرچ کا اجر نہیں ملے گا کیونکہ اب مال ورثاء کا ہے نہ کہ میت کا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3642]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6442
6442. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال کے بجائے اپنے وارث کا مال زیادہ محبوب ہو؟ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے ہر ایک کو اپنا ہی مال محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس کا مال تو وہی ہے جو اس نے آگے بھیج دیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو وہ (اپنے) پیچھے چھوڑ کر چلا گیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6442]
حدیث حاشیہ:
حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے۔
مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنی زندگی میں آخرت کے لئے زیادہ سے زیادہ اثاثہ جمع کر سکیں اور اللہ کے راستہ سے مراد اسلام ہے جس کی اشاعت اور خدمت میں مال اور جان سے پر خلوص حصہ لینا مسلمان کی زندگی کا واحد نصب العین ہونا چاہئے۔
وفقنا اللہ لما یحب ویرضیٰ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6442]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6442
6442. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال کے بجائے اپنے وارث کا مال زیادہ محبوب ہو؟ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے ہر ایک کو اپنا ہی مال محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس کا مال تو وہی ہے جو اس نے آگے بھیج دیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو وہ (اپنے) پیچھے چھوڑ کر چلا گیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6442]
حدیث حاشیہ:
درحقیقت انسان کا مال تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے کر آخرت کے خزانے میں جمع کر دیا، اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ درحقیقت اس کا نہیں بلکہ اس کے وارثوں کا ہے جن کے لیے وہ اسے چھوڑ کر جانے والا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بندہ رٹ لگاتا ہے کہ میرا مال، میری دولت، حالانکہ اس کا مال تو صرف تین چیزیں ہیں:
ایک وہ جو اس نے کھا کر ختم کر دیا، دوسرا وہ جو اس نے پہن کر پرانا کر ڈالا اور تیسرا وہ جو اس نے اللہ کی راہ میں دے کر آخرت کے خزانے میں جمع کر دیا، اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ دوسروں کے لیے چھوڑ جانے والا ہے جبکہ وہ خود یہاں سے رخصت ہو جانے والا ہے۔
(صحیح مسلم، الزھد، حدیث: 7422 (2959)
جب صورت حال یہ ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ آخرت ہی کو اپنا مقصود بنائے اور اسے سنوارنے کی فکر کرے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6442]