یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : الحلف باللات والعزى
باب: لات و عزّیٰ (نامی بتوں) کی قسم کھانے پر کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3807
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نَذْكُرُ بَعْضَ الْأَمْرِ , وَأَنَا حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ , فَحَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَقَالَ لِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِئْسَ مَا قُلْتَ , ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ , فَإِنَّا لَا نَرَاكَ إِلَّا قَدْ كَفَرْتَ , فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي:" قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَاتْفُلْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَلَا تَعُدْ لَهُ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک معاملے کا ذکر کر رہے تھے اور میں نیا نیا مسلمان ہوا تھا، میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی، تو مجھ سے صحابہ کرام نے کہا کہ تم نے بری بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ کو اس کی خبر دو کیونکہ ہمارے خیال میں تو تم نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تین بار: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له» کہو اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو اور تین بار اپنے بائیں طرف تھوک دو اور پھر دوبارہ کبھی ایسا نہ کہنا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3807]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم ایک دفعہ کسی معاملے میں بحث کرتے تھے، میرا دورِ جاہلیت ابھی تازہ تھا، میں لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کہنے لگے: تو نے بری بات کہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ کو یہ بات بتاؤ، ہم تو سمجھتے ہیں کہ تو نے کلمہ کفر کہا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو پوری بات بتائی، آپ نے مجھے فرمایا: ”تین دفعہ کہہ: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، کوئی اس کا ساجھی نہیں“ اور تین دفعہ شیطان سے (بچنے کے لیے) اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ اور تین دفعہ اپنے بائیں طرف تھوک دے اور دوبارہ ایسی بات نہ کہنا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الکفارات 2 (2097)، (تحفة الأشراف: 3938)، مسند احمد (1/183، 186) والمؤلف في عمل الیوم واللیلة 285 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق عنعن فى هذا اللفظ،وصرح بالسماع فى الرواية الآتية (الأصل: 3808 وسنده صحيح) و هي تغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 349
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3807
| قل لا إله إلا الله وحده لا شريك له ثلاث مرات وتعوذ بالله من الشيطان ثلاث مرات واتفل عن يسارك ثلاث مرات ولا تعد له |
سنن النسائى الصغرى |
3808
| قل لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وانفث عن يسارك ثلاثا وتعوذ بالله من الشيطان ثم لا تعد |
سنن ابن ماجه |
2097
| قل لا إله إلا الله وحده لا شريك له ثم انفث عن يسارك ثلاثا وتعوذ ولا تعد |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3807 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3807
اردو حاشہ:
(1) حضرت سعد رضی اللہ عنہ بالکل ابتدائی دور کے مسلمان ہیں۔ سابقون اولون میں شامل ہیں۔ چند بزرگ ہی آپ سے قبل مسلمان ہوئے تھے۔ خود ان کے مطابق وہ تیسرے نمبر پر مسلمان ہوگئے۔ عشرۂ مبشرہ میں داخل ہیں۔ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُ وَأَرْضَاہُ۔
(2) عزیٰ بھی ایک بت تھا جس کی پوجا عام تھی۔ جاہلیت میں بتوں کی قسمیں کھانے کا رواج تھا۔ انہوں نے بھی بلاقصد عادتاً ایسی قسم کھالی۔ (تفصیل سابقہ حدیث میں دیکھیے)۔
(3) کسی شخص سے گناہ ہوجائے تو اس پر استغفار کرنا واجب ہے اور دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب بھی نہ کرے کیونکہ یہ توبہ کی شروط میں ہے۔
(1) حضرت سعد رضی اللہ عنہ بالکل ابتدائی دور کے مسلمان ہیں۔ سابقون اولون میں شامل ہیں۔ چند بزرگ ہی آپ سے قبل مسلمان ہوئے تھے۔ خود ان کے مطابق وہ تیسرے نمبر پر مسلمان ہوگئے۔ عشرۂ مبشرہ میں داخل ہیں۔ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُ وَأَرْضَاہُ۔
(2) عزیٰ بھی ایک بت تھا جس کی پوجا عام تھی۔ جاہلیت میں بتوں کی قسمیں کھانے کا رواج تھا۔ انہوں نے بھی بلاقصد عادتاً ایسی قسم کھالی۔ (تفصیل سابقہ حدیث میں دیکھیے)۔
(3) کسی شخص سے گناہ ہوجائے تو اس پر استغفار کرنا واجب ہے اور دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب بھی نہ کرے کیونکہ یہ توبہ کی شروط میں ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3807]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3808
لات و عزّیٰ (نامی بتوں) کی قسم کھانے پر کیا کرے؟
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: تم نے بری بات کہی ہے، تم نے فحش بات کہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: ”کہو: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3808]
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: تم نے بری بات کہی ہے، تم نے فحش بات کہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: ”کہو: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3808]
اردو حاشہ:
گویا یہ شیطانی وسوسہ تھا جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاج تجویز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھ اور شیطان سے نفرت کرتے ہوئے تھوک دے۔ اور زبان سے بھی اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ پڑھ۔
گویا یہ شیطانی وسوسہ تھا جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاج تجویز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھ اور شیطان سے نفرت کرتے ہوئے تھوک دے۔ اور زبان سے بھی اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ پڑھ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3808]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3807 in Urdu
مصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري