سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب : الحلف باللات والعزى
باب: لات و عزّیٰ (نامی بتوں) کی قسم کھانے پر کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3808
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فقال لِي أَصْحَابِي: بِئْسَ مَا قُلْتَ , قُلْتَ هُجْرًا. فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَانْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثًا , وَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ لَا تَعُدْ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی تو میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا: تم نے بری بات کہی ہے، تم نے فحش بات کہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: ”کہو: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ اور تین بار بائیں طرف تھوک لو اور شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور پھر کبھی ایسا نہ کرنا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3808]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھا تو مجھے میرے ساتھی کہنے لگے: تو نے بہت برا کلمہ کہا اور بہت قبیح بات کی ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات آپ سے ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دفعہ کہہ: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے بادشاہی ہے۔ اسی کے لیے تعریف ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ اور تین دفعہ اپنے بائیں جانب تھوک دے اور شیطان سے بچاؤ کے لیے اللہ کی پناہ طلب کر اور پھر دوبارہ ایسی بات نہ کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3807
| قل لا إله إلا الله وحده لا شريك له ثلاث مرات وتعوذ بالله من الشيطان ثلاث مرات واتفل عن يسارك ثلاث مرات ولا تعد له |
سنن النسائى الصغرى |
3808
| قل لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير وانفث عن يسارك ثلاثا وتعوذ بالله من الشيطان ثم لا تعد |
سنن ابن ماجه |
2097
| قل لا إله إلا الله وحده لا شريك له ثم انفث عن يسارك ثلاثا وتعوذ ولا تعد |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3808 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3808
اردو حاشہ:
گویا یہ شیطانی وسوسہ تھا جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاج تجویز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھ اور شیطان سے نفرت کرتے ہوئے تھوک دے۔ اور زبان سے بھی اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ پڑھ۔
گویا یہ شیطانی وسوسہ تھا جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاج تجویز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھ اور شیطان سے نفرت کرتے ہوئے تھوک دے۔ اور زبان سے بھی اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ پڑھ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3808]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3807
لات و عزّیٰ (نامی بتوں) کی قسم کھانے پر کیا کرے؟
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک معاملے کا ذکر کر رہے تھے اور میں نیا نیا مسلمان ہوا تھا، میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی، تو مجھ سے صحابہ کرام نے کہا کہ تم نے بری بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ کو اس کی خبر دو کیونکہ ہمارے خیال میں تو تم نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تین بار: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له» ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3807]
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک معاملے کا ذکر کر رہے تھے اور میں نیا نیا مسلمان ہوا تھا، میں نے لات و عزیٰ کی قسم کھا لی، تو مجھ سے صحابہ کرام نے کہا کہ تم نے بری بات کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ کو اس کی خبر دو کیونکہ ہمارے خیال میں تو تم نے کفر کا ارتکاب کیا ہے، چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تین بار: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له» ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3807]
اردو حاشہ:
(1) حضرت سعد رضی اللہ عنہ بالکل ابتدائی دور کے مسلمان ہیں۔ سابقون اولون میں شامل ہیں۔ چند بزرگ ہی آپ سے قبل مسلمان ہوئے تھے۔ خود ان کے مطابق وہ تیسرے نمبر پر مسلمان ہوگئے۔ عشرۂ مبشرہ میں داخل ہیں۔ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُ وَأَرْضَاہُ۔
(2) عزیٰ بھی ایک بت تھا جس کی پوجا عام تھی۔ جاہلیت میں بتوں کی قسمیں کھانے کا رواج تھا۔ انہوں نے بھی بلاقصد عادتاً ایسی قسم کھالی۔ (تفصیل سابقہ حدیث میں دیکھیے)۔
(3) کسی شخص سے گناہ ہوجائے تو اس پر استغفار کرنا واجب ہے اور دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب بھی نہ کرے کیونکہ یہ توبہ کی شروط میں ہے۔
(1) حضرت سعد رضی اللہ عنہ بالکل ابتدائی دور کے مسلمان ہیں۔ سابقون اولون میں شامل ہیں۔ چند بزرگ ہی آپ سے قبل مسلمان ہوئے تھے۔ خود ان کے مطابق وہ تیسرے نمبر پر مسلمان ہوگئے۔ عشرۂ مبشرہ میں داخل ہیں۔ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْهُ وَأَرْضَاہُ۔
(2) عزیٰ بھی ایک بت تھا جس کی پوجا عام تھی۔ جاہلیت میں بتوں کی قسمیں کھانے کا رواج تھا۔ انہوں نے بھی بلاقصد عادتاً ایسی قسم کھالی۔ (تفصیل سابقہ حدیث میں دیکھیے)۔
(3) کسی شخص سے گناہ ہوجائے تو اس پر استغفار کرنا واجب ہے اور دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب بھی نہ کرے کیونکہ یہ توبہ کی شروط میں ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3807]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3808 in Urdu
مصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري