علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : ذكر الأحاديث المختلفة في النهى عن كراء الأرض بالثلث والربع واختلاف ألفاظ الناقلين للخبر
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3932
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَقَالَ:" حَلَالٌ لَا بَأْسَ بِهِ ذَلِكَ فَرْضُ الْأَرْضِ". رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، وَرَفَعَهُ. كَمَا رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ.
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے، چاندی کے بدلے صاف زمین کرائے پر اٹھانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: حلال ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، یہ زمین کا حق ہے۔ یحییٰ بن سعید نے بھی اسے حنظلہ بن قیس سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع کیا ہے جیسا کہ مالک نے ربیعہ سے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر أیضا حدیث رقم: 3930 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥رافع بن خديج الأنصاري، أبو رافع، أبو خديج، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥حنظلة بن قيس الأنصاري حنظلة بن قيس الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري | ثقة | |
👤←👥ربيعة الرأي، أبو عثمان، أبو عبد الرحمن ربيعة الرأي ← حنظلة بن قيس الأنصاري | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← ربيعة الرأي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥محمد بن عبد الله المخرمي، أبو جعفر محمد بن عبد الله المخرمي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ أمين |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3932 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3932
اردو حاشہ:
معلوم یوں ہوتا ہے کہ سونے چاندی کے عوض جائز قراردینا حضرت رافع بن خدیج کا اپنا اجتہاد ہے جیسا کہ آئندہ حدیث سے واضح ہورہا ہے ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس انداز سے بٹائی سے منع فرمایا ہے اس انداز کے مطابق سونے چاندی کے عوض بھی درست نہ ہونا چاہیے کیونکہ آپ نے غرباء سے ہمدردی کے طور پر بٹائی سے روکا ہے جیسا کہ سابقہ احادیث میں صراحت ہے‘ لہٰذا سونے چاندی کے عوض بھی منع ہونا چاہیے کیونکہ یہ بھی غریب سے ہمدردی کے خلاف ہے بلکہ غریب کے لیے بٹائی ٹھیکے سے بہتر ہے۔ (دیکھئے‘ حدیث:3921)
معلوم یوں ہوتا ہے کہ سونے چاندی کے عوض جائز قراردینا حضرت رافع بن خدیج کا اپنا اجتہاد ہے جیسا کہ آئندہ حدیث سے واضح ہورہا ہے ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس انداز سے بٹائی سے منع فرمایا ہے اس انداز کے مطابق سونے چاندی کے عوض بھی درست نہ ہونا چاہیے کیونکہ آپ نے غرباء سے ہمدردی کے طور پر بٹائی سے روکا ہے جیسا کہ سابقہ احادیث میں صراحت ہے‘ لہٰذا سونے چاندی کے عوض بھی منع ہونا چاہیے کیونکہ یہ بھی غریب سے ہمدردی کے خلاف ہے بلکہ غریب کے لیے بٹائی ٹھیکے سے بہتر ہے۔ (دیکھئے‘ حدیث:3921)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3932]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3932 in Urdu
حنظلة بن قيس الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري