🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : تحريم الدم
باب: خون کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3984
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ , فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ" , ثُمَّ قَالَ:" أَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنَّمَا يَقُولُهَا تَعَوُّذًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقْتُلُوهُ , فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ , وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ سے رازدارانہ گفتگو کی۔ آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو، پھر آپ نے فرمایا: کیا وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں؟ کہا: جی ہاں، مگر اپنے کو بچانے کے لیے وہ ایسا کہتا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو۔ اس لیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں: جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال کو محفوظ کر لیا، مگر اس کے (جان و مال کے) حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3984]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11623) (صحیح)»
وضاحت: : مزی نے تحفۃ الأشراف (۹/۲۱) میں اس حدیث کے ذکر کے بعد نسائی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اسود کی روایت صحیح نہیں ہے۔ (جنہوں نے یہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کی مسند سے روایت کیا ہے، صحیح اگلی پانچ روایتیں ہیں، جن میں یہ حدیث اوس رضی اللہ عنہ کی مسند سے روایت کی گئی ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد اللهصحابي صغير
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← النعمان بن بشير الأنصاري
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة
👤←👥الأسود بن عامر الشامي، أبو عبد الرحمن
Newالأسود بن عامر الشامي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله المخرمي، أبو جعفر
Newمحمد بن عبد الله المخرمي ← الأسود بن عامر الشامي
ثقة حافظ أمين
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3984 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3984
اردو حاشہ:
(1) خفیہ بات چیت کی یعنی کسی اور شخص کے بارے میں کہ اس نے یہ کام کیا ہے یا یہ کام کیا ہے۔ واللہ أعلم۔
(2) اسے قتل کر دو اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی شکایت کی گئی تھی، لیکن پھر پتا چلا کہ اس نے کلمہ پڑھ لیا ہے اور مسلمان ہو چکا ہے تو آپ نے اپنا پہلا حکم واپس فرما لیا کیونکہ مسلمان کا قتل ناجائز ہے۔
(3) اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو مسلمانوں کو ان کے بعض تاویلی عقائد کی وجہ سے کافر سمجھتے ہیں اور ان کے قتل کو جائز بلکہ کار ثواب جانتے ہیں۔ یاد رہے حدود اللہ کا نفاذ حکومت کا کام ہے افراد کا نہیں اور اسلام میں مقررہ حدود کے علاوہ کسی مسلمان کو کسی عقیدے یا عمل کی وجہ سے قتل کرنا عظیم گناہ ہے۔ قاتل جہنمی ہو گا، خواہ وہ کتنے ہی خوش نما نعرے کی بنیاد پر قتل کرے۔
(4) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے کیونکہ یہ اس کا منصب ہے، ہمارا منصب نہیں۔ حدود شرعیہ کے علاوہ باقی عقائد اور گناہوں کی سزا اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ ہم اس میں دخل نہیں دے سکتے۔
(5) اگر کوئی مسلمان شرک یا کفر کا ارتکاب کرے تو اسے اسلام کی دعوت دے کر اس پر حجت قائم کی جائے گی اور اگر وہ اپنے شرک و کفر پر اصرار کرے تو شرعی عدالت اس کے قتل کا حکم جاری کر دے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3984]