سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : تعظيم الدم
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4012
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدٍ فِي قَوْلِهِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 , قَالَ:" نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بَعْدَ الَّتِي فِي تَبَارَكَ الْفُرْقَانِ بِثَمَانِيَةِ أَشْهُرٍ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَدْخَلَ أَبُو الزِّنَادِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ خَارِجَةَ مُجَالِدَ بْنَ عَوْفٍ.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس آیت: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» کے بارے میں کہا: یہ آیت سورۃ الفرقان کی اس آیت: «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق» کے آٹھ مہینہ بعد نازل ہوئی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابوالزناد نے اپنے اور خارجہ کے درمیان میں مجالد بن عوف کو داخل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4012]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کر دے، اس کی سزا جہنم ہے... الخ“ سورة الفرقان والی (آئندہ) آیت ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ... الخ“ سے آٹھ ماہ بعد نازل ہوئی ہے۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (اگلی روایت میں) ابو الزناد نے اپنے اور خارجہ کے درمیان (انقطاع ختم کرنے کے لیے) مجالد بن عوف داخل کر دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن صحیح) اور لفظ ’’ستة أشہر‘‘ زیادہ صحیح ہے»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح ولفظ بستة أشهر أصح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4012 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4012
اردو حاشہ:
لگتا ہے اس میں انقطاع نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ابو الزناد نے مجاہد سے سنا ہو اور پھر خارجہ سے بھی سن لیا ہو۔ محدثین کے ہاں یہ عام ہوتا ہے، پھر طبرانی کی روایت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خارجہ نے اسے روایت بیان کی ہے۔ و اللہ أعلم۔ (ذخیرة العقبی شرح سنن النسائي: 31/279)
لگتا ہے اس میں انقطاع نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ابو الزناد نے مجاہد سے سنا ہو اور پھر خارجہ سے بھی سن لیا ہو۔ محدثین کے ہاں یہ عام ہوتا ہے، پھر طبرانی کی روایت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خارجہ نے اسے روایت بیان کی ہے۔ و اللہ أعلم۔ (ذخیرة العقبی شرح سنن النسائي: 31/279)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4012]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4012 in Urdu
خارجة بن زيد الأنصاري ← زيد بن ثابت الأنصاري