🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : تعظيم الدم
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4011
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93 الْآيَةُ كُلُّهَا بَعْدَ الْآيَةِ الَّتِي نَزَلَتْ فِي الْفُرْقَانِ بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي الزِّنَادِ.
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها‏» یہ پوری آیت آخر تک، سورۃ الفرقان والی آیت کے چھ ماہ بعد نازل ہوئی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: محمد بن عمرو نے اسے ابوالزناد سے نہیں سنا، (اس کی دلیل اگلی روایت ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4011]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، اس میں ہمیشہ رہے گا… الخ سورۂ فرقان والی آیت سے چھ ماہ بعد اتری ہے۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ محمد بن عمرو نے یہ روایت ابو الزناد سے نہیں سنی (اس طرح یہ سند منقطع ہو گئی)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفتن 6 (4272)، (تحفة الأشراف: 3706)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4012، 4013) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥خارجة بن زيد الأنصاري، أبو زيد
Newخارجة بن زيد الأنصاري ← زيد بن ثابت الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← خارجة بن زيد الأنصاري
إمام ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
صدوق له أوهام
👤←👥محمد بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الأنصاري ← محمد بن عمرو الليثي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4011 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4011
اردو حاشہ:
یہ انقطاع، صحت حدیث میں مضر نہیں کیونکہ درمیان والا واسطہ معروف ہے اور وہ موسیٰ بن عقبہ ہیں جیسا کہ آئندہ حدیث میں ہے۔ تو ممکن ہے انہوں نے پہلے بواسطۂ موسی، ابو الزناد سے بیان کیا ہو اور پھر بلاواسطہ خود بھی ابو الزناد سے سن لیا ہو، اس لیے وہ کبھی واسطے کے ساتھ بیان کر دیتے ہوں اور کبھی بغیر واسطے کے۔ محدثین کی روایات میں ایسا عام ہے، لہٰذا اس سے حدیث کی صحت متاثر نہیں ہوئی۔ حدیث صحیح اور قابل عمل ہے۔ و اللہ أعلم۔ دیکھئے: (ذخیرة العقبی شرح سنن النسائي: 31/278)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4011]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4011 in Urdu