🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب : هجرة البادي
باب: اعرابی (دیہاتی) کی ہجرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4170
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَأَمَّا الْبَادِي، فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی ہجرت زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ وہ تمام چیزیں چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناپسند ہیں، اور فرمایا: ہجرت دو قسم کی ہے: ایک شہری کی ہجرت اور ایک اعرابی (دیہاتی) کی ہجرت، رہا اعرابی تو وہ جب بلایا جاتا ہے آ جاتا ہے اور اسے جو حکم دیا جاتا ہے مانتا ہے، لیکن شہری کی آزمائش زیادہ ہوتی ہے، اور اسی (حساب سے) اس کو بڑھ کر ثواب ملتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8630)، مسند احمد (3/160، 191، 193، 194، 195) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حقیقی ہجرت تو اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے روکا ہے اس کا چھوڑنا ہی ہے، خود ترک وطن بھی ممنوع چیزوں سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے، اور شہر میں رہنے والے سے زیادہ اعرابی (دیہاتی) کے لیے وطن چھوڑنا آسان ہے، کیونکہ آبادی میں رہنے والوں کے معاشرتی مسائل بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے ترک وطن بڑا ہی تکلیف دہ معاملہ ہوتا ہے، اور اسی لیے ان کی ہجرت (ترک وطن) کا ثواب بھی زیادہ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن مالك الزبيدي، أبو كثير
Newعبد الله بن مالك الزبيدي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن الحارث الزبيدي
Newعبد الله بن الحارث الزبيدي ← عبد الله بن مالك الزبيدي
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← عبد الله بن الحارث الزبيدي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥أحمد بن عبد الله الهاشمي، أبو الحسين
Newأحمد بن عبد الله الهاشمي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4170 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4170
اردو حاشہ:
(1) ان کاموں کو چھوڑ دے ہجرت کے لغوی معنیٰ چھوڑ دینے کے ہیں۔ معروف ہجرت میں گھر بار‘ رشتہ دار اور مال ومنال چھوڑا جاتا ہے۔ آپ نے اس لحاظ سے فرمایا کہ افضل ہجرت گناہوں کو چھوڑنا ہے کیونکہ ہجرت بھی تودین کے تحفظ کے لیے کی جاتی ہے۔ گناہوں کے چھوڑنے سے بھی دین محفوظ ہوجاتا ہے۔ اگر گناہ نہ چھوڑنا‘ وطن چھوڑنے سے بہتر ہے اور ہجرت میں بھی وطن چھوڑنے کا اصل مقصد تو گناہ چھوڑنا اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنا ہی ہے۔
(2) جب اسے بلایا جائے یعنی جب اسے جہاد کے لیے بلایا جائے تو وہ آجائے۔ اور اپنے گھر میں رہ کر شریعت پر عمل کرتا رہے۔ گاؤں اور قبائل کے رہنے والوں پر ہجرت فرض نہیں تھی جبکہ مکہ شہر میں رہنے والے مسلمانوں پر ہجرت فرض تھی لہٰذا شہری کے لیے مشقت بھی زیادہ اور اس کا اجر بھی زیادہ تھا۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4170]