سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : بيعة المماليك
باب: غلاموں کی بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4189
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ , فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ , وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ , فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْنِيهِ" , فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا , حَتَّى يَسْأَلَهُ:" أَعَبْدٌ هُوَ؟".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، آپ یہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ یہ غلام ہے، پھر اس کا مالک اسے ڈھونڈتے ہوئے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے ہاتھ بیچ دو“، چنانچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا، پھر آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی یہاں تک کہ آپ اس سے معلوم کر لیتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 23 (1602)، سنن ابی داود/البیوع 17 (3358مختصرا)، سنن الترمذی/البیوع 22 (1239)، السیر 36 (1596)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 41 (2896)، (تحفة الأشراف: 2904)، یأتي عند المؤلف في البیوع 66 (برقم4625) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: غلام اپنے مالک کا تابع ہے، تو وہ کیسے ہجرت کر سکتا ہے اس لیے آپ غلاموں سے بیعت نہیں لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
4189
| اشتراه بعبدين أسودين ثم لم يبايع أحدا حتى يسأله أعبد هو |
سنن النسائى الصغرى |
4625
| جاء عبد فبايع رسول الله على الهجرة ولا يشعر النبي أنه عبد فجاء سيده يريده فقال النبي بعنيه فاشتراه بعبدين أسودين ثم لم يبايع أحدا بعد حتى يسأله أعبد هو |
صحيح مسلم |
4113
| جاء عبد فبايع النبي على الهجرة ولم يشعر أنه عبد فجاء سيده يريده فقال له النبي بعنيه فاشتراه بعبدين أسودين ثم لم يبايع أحدا بعد حتى يسأله أعبد هو |
جامع الترمذي |
1239
| اشتراه بعبدين أسودين ثم لم يبايع أحدا بعد حتى يسأله أعبد هو |
جامع الترمذي |
1596
| اشتراه بعبدين أسودين ولم يبايع أحدا بعد حتى يسأله أعبد هو |
سنن ابن ماجه |
2869
| اشتراه بعبدين أسودين ثم لم يبايع أحدا بعد ذلك حتى يسأله أعبد هو |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4189 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4189
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مالک کی اجازت کے بغیر غلام کی بیعت ناجائز ہے۔
(2) یہ حدیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مکارم اخلاق اور عام لوگوں کے ساتھ احسان کرنے پر بھی دلالت کرتی ہے کہ آپ نے غلام کو والپس کرنا پسند نہیں فرمایا تا کہ وہ آزردہ خاطر نہ ہو، نیز جس غرض کے لیے وہ آیا تھا اس میں بھی خلل واقع نہ ہو، چنانچہ آپ نے احسان عظیم فرماتے ہوئے اسے خرید لیا تاکہ اس کا مقصد پورا ہوجائے۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ دو غلاموں کے بدلے ایک غلام کی بیع جائز ہے، خواہ قیمت ایک جیسی ہو یا قیمت کا فرق ہو۔ تمام جانوروں اور حیوانات کا حکم بھی یہی ہے۔ جمہور اہل علم اس بیع کے جواز کے قائل ہیں جبکہ امام ابو حنیفہ اور اہل کوفہ اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔
(4) اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نہ عالم الغیب تھے اور نہ آپ کو عطائی علم غیب حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس غلام کی بیعت قبول فرمالی جو اپنے آقا کی اجازت کے بغیر آگیا تھا۔ اسی طرح اس واقعے کے بعد آپ بیعت کی خاطر آنے والے ہر شخص سے پوچھا کرتے تھے کہ وہ غلام تو نہیں ہے؟
(5) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم احتیاط پسند تھے، اسی لیے آپ بیعت کے لیے آنے والوں سے پوچھتے تھے۔
(6) غلام اپنی مرضی کا مالک نہیں ہوتا۔ وہ مالک کے حکم کا پابند ہوتا ہے لہٰذا غلام کا اسلام تو معبتر اور مقبول ہے مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ کی بیعت معتبر نہیں۔ ممکن ہے مالک اسے اجازت نہ دے جیسا کہ مندرجہ بالا واقعہ میں ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ نے اس کی بیعت ہجرت کی لاج رکھتے ہوئے اسے خرید لیا مگر ہر غلام کے ساتھ ایسے ممکن نہ تھا۔
(1) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مالک کی اجازت کے بغیر غلام کی بیعت ناجائز ہے۔
(2) یہ حدیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مکارم اخلاق اور عام لوگوں کے ساتھ احسان کرنے پر بھی دلالت کرتی ہے کہ آپ نے غلام کو والپس کرنا پسند نہیں فرمایا تا کہ وہ آزردہ خاطر نہ ہو، نیز جس غرض کے لیے وہ آیا تھا اس میں بھی خلل واقع نہ ہو، چنانچہ آپ نے احسان عظیم فرماتے ہوئے اسے خرید لیا تاکہ اس کا مقصد پورا ہوجائے۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ دو غلاموں کے بدلے ایک غلام کی بیع جائز ہے، خواہ قیمت ایک جیسی ہو یا قیمت کا فرق ہو۔ تمام جانوروں اور حیوانات کا حکم بھی یہی ہے۔ جمہور اہل علم اس بیع کے جواز کے قائل ہیں جبکہ امام ابو حنیفہ اور اہل کوفہ اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔
(4) اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نہ عالم الغیب تھے اور نہ آپ کو عطائی علم غیب حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس غلام کی بیعت قبول فرمالی جو اپنے آقا کی اجازت کے بغیر آگیا تھا۔ اسی طرح اس واقعے کے بعد آپ بیعت کی خاطر آنے والے ہر شخص سے پوچھا کرتے تھے کہ وہ غلام تو نہیں ہے؟
(5) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم احتیاط پسند تھے، اسی لیے آپ بیعت کے لیے آنے والوں سے پوچھتے تھے۔
(6) غلام اپنی مرضی کا مالک نہیں ہوتا۔ وہ مالک کے حکم کا پابند ہوتا ہے لہٰذا غلام کا اسلام تو معبتر اور مقبول ہے مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ کی بیعت معتبر نہیں۔ ممکن ہے مالک اسے اجازت نہ دے جیسا کہ مندرجہ بالا واقعہ میں ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ نے اس کی بیعت ہجرت کی لاج رکھتے ہوئے اسے خرید لیا مگر ہر غلام کے ساتھ ایسے ممکن نہ تھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4189]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4625
ذی روح کو ذی روح کے بدلے کمی زیادتی کے ساتھ نقد بیچنے کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ غلام ہے، اتنے میں اسے ڈھونڈتا ہوا اس کا مالک آ پہنچا تو آپ نے فرمایا: ”اسے میرے ہاتھ بیچ دو“، چنانچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا، پھر آپ نے اس کے بعد کسی سے بیعت نہیں لی جب تک کہ اس سے پوچھ نہ لیتے کہ وہ غلام ہے؟۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4625]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ غلام ہے، اتنے میں اسے ڈھونڈتا ہوا اس کا مالک آ پہنچا تو آپ نے فرمایا: ”اسے میرے ہاتھ بیچ دو“، چنانچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا، پھر آپ نے اس کے بعد کسی سے بیعت نہیں لی جب تک کہ اس سے پوچھ نہ لیتے کہ وہ غلام ہے؟۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4625]
اردو حاشہ:
(1) یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکارم اخلاق اور آپ کے احسان عظیم پر واضح دلالت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے غلام واپس نہ کیا، حالانکہ اس کا مالک پہنچ گیا۔ آپ نے غلام کا مقصد، یعنی ارادۂ ہجرت پورا فرما دیا۔ اسے اپنی رفاقت میں رہنے سے محروم نہ کیا اور دو غلاموں کے بدلے اسے خرید لیا۔
(2) اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ ایک غلام کی دو غلاموں کے عوض بیع (خرید و فروخت) جائز ہے، خواہ ان کی قیمت ایک جیسی ہو یا مختلف۔ اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے لیکن شرط یہ ہے کہ بیع نقد ہو۔ دونوں طرف سے ادھار نہ ہو۔ تمام حیوانات کا یہی حکم ہے، چاہے ایک غلام دو غلاموں کے عوض ہو یا ایک اونٹ دو کے بدلے۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں میں اصل حریت اور آزادی ہی ہے، یہی وجہ ہے کہ آنے والے غلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آزاد یا غلام ہونے کی بابت نہیں پوچھا بلکہ مذکورہ اصول کے مطابق بیعت فرما لی۔
(4) یہ حدیث مبارکہ اس اہم مسئلے کی بھی صریح دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس علمِ غیب ہرگز نہیں تھا۔ اگر آپ کو غیب کا علم ہوتا تو فورََا معلوم ہو جاتا کہ آنے والا شخص غلام ہے، نیز یہ بھی ضرور معلوم ہو جاتا کہ اس کا مالک بھی اس کے پیچھے پیچھے آ رہا ہے۔ مزید برآں یہ بھی کہ آپ آئندہ بھی بیعت کے لیے آنے والے کسی شخص سے نہ پوچھتے کہ تو آزاد ہے یا غلام؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اس بات کا علم ہوتا جو آپ کو اللہ تعالیٰ بتا دیتا تھا۔
(5) معلوم ہوا حیوانات کی باہمی خریداری اور تبادلے میں کمی بیشی جائز ہے کیونکہ حیوانات کی حیثیت میں بسا اوقات فرق ہوتا ہے، گویا وہ الگ الگ جنس ہیں اور جب جنسیں مختلف ہوں تو کمی بیشی جائز ہوتی ہے۔ ایک اونٹ پندرہ ہزار کا مل سکتا ہے تو ایک اونٹ کئی لاکھ کا بھی ملتا ہے، لہٰذا جانوروں کو یوں سمجھا گیا جیسے وہ الگ الگ جنس کے ہوں۔ شریعت اپنے احکام میں لوگوں کی مجبوریوں کا بھی لحاظ رکھتی ہے، خواہ کوئی فرعی اصول بدلنا پڑے، عدم حرج بنیادی اصول ہے۔
(1) یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکارم اخلاق اور آپ کے احسان عظیم پر واضح دلالت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے غلام واپس نہ کیا، حالانکہ اس کا مالک پہنچ گیا۔ آپ نے غلام کا مقصد، یعنی ارادۂ ہجرت پورا فرما دیا۔ اسے اپنی رفاقت میں رہنے سے محروم نہ کیا اور دو غلاموں کے بدلے اسے خرید لیا۔
(2) اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ ایک غلام کی دو غلاموں کے عوض بیع (خرید و فروخت) جائز ہے، خواہ ان کی قیمت ایک جیسی ہو یا مختلف۔ اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے لیکن شرط یہ ہے کہ بیع نقد ہو۔ دونوں طرف سے ادھار نہ ہو۔ تمام حیوانات کا یہی حکم ہے، چاہے ایک غلام دو غلاموں کے عوض ہو یا ایک اونٹ دو کے بدلے۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں میں اصل حریت اور آزادی ہی ہے، یہی وجہ ہے کہ آنے والے غلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آزاد یا غلام ہونے کی بابت نہیں پوچھا بلکہ مذکورہ اصول کے مطابق بیعت فرما لی۔
(4) یہ حدیث مبارکہ اس اہم مسئلے کی بھی صریح دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس علمِ غیب ہرگز نہیں تھا۔ اگر آپ کو غیب کا علم ہوتا تو فورََا معلوم ہو جاتا کہ آنے والا شخص غلام ہے، نیز یہ بھی ضرور معلوم ہو جاتا کہ اس کا مالک بھی اس کے پیچھے پیچھے آ رہا ہے۔ مزید برآں یہ بھی کہ آپ آئندہ بھی بیعت کے لیے آنے والے کسی شخص سے نہ پوچھتے کہ تو آزاد ہے یا غلام؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اس بات کا علم ہوتا جو آپ کو اللہ تعالیٰ بتا دیتا تھا۔
(5) معلوم ہوا حیوانات کی باہمی خریداری اور تبادلے میں کمی بیشی جائز ہے کیونکہ حیوانات کی حیثیت میں بسا اوقات فرق ہوتا ہے، گویا وہ الگ الگ جنس ہیں اور جب جنسیں مختلف ہوں تو کمی بیشی جائز ہوتی ہے۔ ایک اونٹ پندرہ ہزار کا مل سکتا ہے تو ایک اونٹ کئی لاکھ کا بھی ملتا ہے، لہٰذا جانوروں کو یوں سمجھا گیا جیسے وہ الگ الگ جنس کے ہوں۔ شریعت اپنے احکام میں لوگوں کی مجبوریوں کا بھی لحاظ رکھتی ہے، خواہ کوئی فرعی اصول بدلنا پڑے، عدم حرج بنیادی اصول ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4625]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2869
بیعت کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے غلام ہونے کا معلوم ہی نہ ہوا، چنانچہ اس کا مالک جب اسے لینے کے مقصد سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ غلام مجھے بیچ دو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد کسی سے بھی یہ معلوم کئے بغیر بیعت نہیں کرتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2869]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے غلام ہونے کا معلوم ہی نہ ہوا، چنانچہ اس کا مالک جب اسے لینے کے مقصد سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ غلام مجھے بیچ دو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد کسی سے بھی یہ معلوم کئے بغیر بیعت نہیں کرتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2869]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر ہجرت نہیں کرسکتا کیونکہ اس طرح آقا اس سے خدمت لینے کے حق سے محروم ہوجاتا ہے۔
(2)
غلاموں اور مویشیوں کی خرید وفروخت تعداد میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی صورت جائز ہے مثلاً:
ایک عمدہ بھیڑ کے بدلے میں دو ادنٰی قسم کی بھیڑیں یا دو میمنے لینا یا دینا جائز ہے جبکہ زرعی اشیاء کا تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ درست نہیں مثلاً:
ایک من عمدہ گندم کا ڈیڑھ من ہلکی قسم کی گندم سے تبادلہ درست نہیں۔ (دیکھیے: سنن ابن ماجه حديث: 2252) 3۔
(3)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے۔
علم غیب صرف اللہ کی ذات ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر ہجرت نہیں کرسکتا کیونکہ اس طرح آقا اس سے خدمت لینے کے حق سے محروم ہوجاتا ہے۔
(2)
غلاموں اور مویشیوں کی خرید وفروخت تعداد میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کی صورت جائز ہے مثلاً:
ایک عمدہ بھیڑ کے بدلے میں دو ادنٰی قسم کی بھیڑیں یا دو میمنے لینا یا دینا جائز ہے جبکہ زرعی اشیاء کا تبادلہ کمی بیشی کے ساتھ درست نہیں مثلاً:
ایک من عمدہ گندم کا ڈیڑھ من ہلکی قسم کی گندم سے تبادلہ درست نہیں۔ (دیکھیے: سنن ابن ماجه حديث: 2252) 3۔
(3)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے۔
علم غیب صرف اللہ کی ذات ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2869]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1596
غلام کی بیعت کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اسے بیچ دو“، پھر آپ نے اس کو دو کالے غلام دے کر خرید لیا، اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1596]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اسے بیچ دو“، پھر آپ نے اس کو دو کالے غلام دے کر خرید لیا، اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1596]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدنا اور بیچنا جائز ہے،
اس شرط کے ساتھ کہ یہ خرید وفروخت بصورت نقد ہو،
حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیعت کے لیے آئے ہوئے شخص سے اس کی غلامی و آزادی سے متعلق پوچھ لینا ضروری ہے،
کیوں کہ غلام ہونے کی صورت میں اس سے بیعت لینی صحیح نہیں۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدنا اور بیچنا جائز ہے،
اس شرط کے ساتھ کہ یہ خرید وفروخت بصورت نقد ہو،
حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیعت کے لیے آئے ہوئے شخص سے اس کی غلامی و آزادی سے متعلق پوچھ لینا ضروری ہے،
کیوں کہ غلام ہونے کی صورت میں اس سے بیعت لینی صحیح نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1596]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4113
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ محسوس نہ ہوا کہ یہ غلام ہے، تو اس کا آقا اسے لینے کے لیے آ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”اسے مجھے فروخت کر دو،“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو سیاہ غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے بیعت نہیں لی، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پوچھ لیتے ”کیا وہ غلام ہے؟“... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4113]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ،
غیب کا علم نہیں رکھتے تھے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کی ہجرت پر بیعت قبول فرما لی،
حالانکہ غلام،
مالک کی اجازت کے بغیر ہجرت نہیں کر سکتا،
لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت قبول فرما لی تھی،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس کے آقا کی طرف لوٹانا مناسب خیال نہ کیا،
اور اخلاق کریمہ کی بنا پر،
اس کے مالک سے اسے دو غلاموں کے عوض خرید لیا،
حیوانات کی نقد بہ نقد کمی و بیشی کے ساتھ بیع بالاتفاق جائز ہے،
اور ادھار کی صورت میں ائمہ حجاز (مالک،
شافعی،
احمد)
اور جمہور کے نزدیک جائز ہے،
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ کی تیاری کے لیے،
ایک اونٹ،
دو اونٹ کے عوض ادھار لیا تھا،
لیکن ائمہ احناف کے نزدیک حیوان کے عوض ادھار بیع جائز نہیں ہے،
اور جس حدیث سے انہوں نے استدلال کیا ہے،
اس کا معنی ہے کہ دونوں طرف ادھار ہو،
تو پھر جائز نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ،
غیب کا علم نہیں رکھتے تھے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کی ہجرت پر بیعت قبول فرما لی،
حالانکہ غلام،
مالک کی اجازت کے بغیر ہجرت نہیں کر سکتا،
لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت قبول فرما لی تھی،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس کے آقا کی طرف لوٹانا مناسب خیال نہ کیا،
اور اخلاق کریمہ کی بنا پر،
اس کے مالک سے اسے دو غلاموں کے عوض خرید لیا،
حیوانات کی نقد بہ نقد کمی و بیشی کے ساتھ بیع بالاتفاق جائز ہے،
اور ادھار کی صورت میں ائمہ حجاز (مالک،
شافعی،
احمد)
اور جمہور کے نزدیک جائز ہے،
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ کی تیاری کے لیے،
ایک اونٹ،
دو اونٹ کے عوض ادھار لیا تھا،
لیکن ائمہ احناف کے نزدیک حیوان کے عوض ادھار بیع جائز نہیں ہے،
اور جس حدیث سے انہوں نے استدلال کیا ہے،
اس کا معنی ہے کہ دونوں طرف ادھار ہو،
تو پھر جائز نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4113]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري