سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ : النُسكِ عَنِ الولدِ
باب: نومولود کی طرف سے عقیقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4217
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ؟، فَقَالَ:" لَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْعُقُوقَ" , وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا نَسْأَلُكَ أَحَدُنَا يُولَدُ لَهُ، قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَنْسُكْ عَنْهُ عَنَ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ". قَالَ دَاوُدُ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ عَنِ الْمُكَافَأَتَانِ؟، قَالَ: الشَّاتَانِ الْمُشَبَّهَتَانِ , تُذْبَحَانِ جَمِيعًا.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ عقوق کو پسند نہیں کرتا“۔ گویا کہ آپ کو یہ نام ناپسند تھا۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہم تو آپ سے صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ جب ایک شخص کے یہاں اولاد پیدا ہو تو کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: ”جو اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرنا چاہے ۱؎ کرے، لڑکے کی طرف سے ایک ہی عمر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری“۔ داود بن قیس کہتے ہیں: میں نے زید بن اسلم سے «مكافئتان» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: دو مشابہ بکریاں جو ایک ساتھ ذبح کی جائیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4217]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ «عُقُوق» کو ناپسند فرماتا ہے۔“ (معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ عقیقہ کو اچھا نہیں سمجھا)۔ اس سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جب ہم میں سے کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تو وہ جانور ذبح کرتا ہے۔ (ہم تو اس کے متعلق پوچھ رہے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بچے کی طرف سے جانور ذبح کرنا چاہے تو وہ لڑکے کی طرف سے دو پوری بکریاں ذبح کرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔“ (راویٔ حدیث) داؤد نے کہا کہ میں نے زید بن اسلم رحمہ اللہ سے «الْمُكَافَأَتَانِ» کی بابت پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد دو ایک جیسی بکریاں ہیں جو بیک وقت ذبح کی جائیں۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 21 (2842)، (تحفة الأشراف: 8700)، مسند احمد (2/182، 183، 187، 193، 194) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی جملے سے استدلال کرتے ہوئے بعض ائمہ کہتے ہیں کہ ”عقیقہ“ فرض نہیں مندوب و مستحب ہے، جب کہ فرض قرار دینے والے حدیث نمبر ۴۲۱۹ سے استدلال کرتے ہیں جس میں حکم ہے کہ ”بچے کی طرف سے خون بہاؤ“ نیز اور بھی کچھ الفاظ ایسے وارد ہیں جن سے عقیقہ کی فرضیت معلوم ہوتی ہے، إلا یہ کہ کسی کو عقیقہ کے وقت استطاعت نہ ہو تو بعد میں استطاعت ہونے پر قضاء کر لے۔ ۲؎: عمر میں برابر ہوں یا وصف میں ایک دوسرے سے قریب تر ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2842
| شاتان مكافئتان عن الجارية شاة |
سنن النسائى الصغرى |
4217
| شاتان مكافأتان عن الجارية شاة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4217 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4217
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث سے عقیقے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ شریعت مطہرہ نے لڑکے اور لڑکی کے عقیقے میں یہ فرق کیا ہے کہ لڑکے کی طرف سے ایک جیسی دو بکریاں جبکہ لڑکی کی طرف سے ایک بکری بطور عقیقہ ذبح کی جائے گی، تاہم اگر استطاعت نہ ہو تو لڑکے کی طرف سے بھی ایک بکری کفایت کر جائے گی۔ لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے عقیقہ میں ایک جانور ذبح کرنا متفقہ مسئلہ ہے اور اس میں کوئی تعجب خیز بات نہیں۔ وراثت میں بھی تو لڑکے اور لڑکی کے حصوں میں فرق ہے۔ ویسے بھی عموماً لوگ لڑکے کی پیدائش پر زیادہ خوشی مناتے ہیں، لہٰذا اس کا شکرانہ بھی زیادہ ہی ہونا چاہیے۔
(2) ”ناپسند فرماتا ہے“ یعنی لفظ عقوق کو، جیسا کہ راوی نے وضاحت کی ہے۔ عقوق کے معنیٰ نافرمانی کے ہیں۔ یہ لفظ اچھا نہیں، لہٰذا بہتر ہے کہ بجائے عقیقہ کے نسیکۃ (اللہ تعالیٰ کے راستے میں ذبح ہونے والا جانور) کہا جائے لیکن یہ بھی ضروری نہیں۔ بعض احادیث میں صراحتاً لفظ عقیقہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں لے سکتے کہ اللہ تعالیٰ فعل عقیقہ کو ناپسند فرماتا ہے کیونکہ آئندہ الفاظ میں تو آپ خود عقیقے کی سنیت ذکر فرما رہے ہیں۔ یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عقیقہ نہ کرنے کو ناپسند فرماتا ہے کیونکہ عقوق کے معنیٰ قطع رحم کے بھی ہیں، جیسے کہ نافرمان اولاد کو عاق کہا جاتا ہے۔ جو والد اپنے بچے کا عقیقہ نہ کرے، گویا اس نے اس رشتے کا حق ادا نہیں کیا، لہٰذا اسے بھی عاق کہا جائے گا کیونکہ اس نے عقوق کیا۔ لیکن یہ معنیٰ ذرا پیچیدہ ہیں۔
(3) ”ذبح کرنا چاہے“ ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبح کرنا ضروری نہیں۔ لیکن دوسری روایات کو ساتھ ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیقہ سنت ہے اور سنت کو بلاوجہ چھوڑنے والا گناہ گار ہوتا ہے۔
(4) ”دو پوری بکریاں“ یعنی عمر میں بھی پوری ہوں اور اوصاف میں بھی۔ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ عقیقے کا جانور کم از کم قربانی کے جانور کی طرح ہو اور اس میں کوئی عیب نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ پورا نہیں ہو گا۔ اس لفظ کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے: ”دو بکریاں جو قربانی کے جانور کے برابر ہوں۔“ تیسرا ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ ایک جیسی دو بکریاں۔ تینوں ترجمے صحیح ہیں۔
(5) عقیقہ میں بکرا، بکری، مینڈھا، بھیڑ برابر ہیں۔ ان میں کوئی فرق نہیں۔
(1) اس حدیث سے عقیقے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ شریعت مطہرہ نے لڑکے اور لڑکی کے عقیقے میں یہ فرق کیا ہے کہ لڑکے کی طرف سے ایک جیسی دو بکریاں جبکہ لڑکی کی طرف سے ایک بکری بطور عقیقہ ذبح کی جائے گی، تاہم اگر استطاعت نہ ہو تو لڑکے کی طرف سے بھی ایک بکری کفایت کر جائے گی۔ لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے عقیقہ میں ایک جانور ذبح کرنا متفقہ مسئلہ ہے اور اس میں کوئی تعجب خیز بات نہیں۔ وراثت میں بھی تو لڑکے اور لڑکی کے حصوں میں فرق ہے۔ ویسے بھی عموماً لوگ لڑکے کی پیدائش پر زیادہ خوشی مناتے ہیں، لہٰذا اس کا شکرانہ بھی زیادہ ہی ہونا چاہیے۔
(2) ”ناپسند فرماتا ہے“ یعنی لفظ عقوق کو، جیسا کہ راوی نے وضاحت کی ہے۔ عقوق کے معنیٰ نافرمانی کے ہیں۔ یہ لفظ اچھا نہیں، لہٰذا بہتر ہے کہ بجائے عقیقہ کے نسیکۃ (اللہ تعالیٰ کے راستے میں ذبح ہونے والا جانور) کہا جائے لیکن یہ بھی ضروری نہیں۔ بعض احادیث میں صراحتاً لفظ عقیقہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں لے سکتے کہ اللہ تعالیٰ فعل عقیقہ کو ناپسند فرماتا ہے کیونکہ آئندہ الفاظ میں تو آپ خود عقیقے کی سنیت ذکر فرما رہے ہیں۔ یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عقیقہ نہ کرنے کو ناپسند فرماتا ہے کیونکہ عقوق کے معنیٰ قطع رحم کے بھی ہیں، جیسے کہ نافرمان اولاد کو عاق کہا جاتا ہے۔ جو والد اپنے بچے کا عقیقہ نہ کرے، گویا اس نے اس رشتے کا حق ادا نہیں کیا، لہٰذا اسے بھی عاق کہا جائے گا کیونکہ اس نے عقوق کیا۔ لیکن یہ معنیٰ ذرا پیچیدہ ہیں۔
(3) ”ذبح کرنا چاہے“ ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبح کرنا ضروری نہیں۔ لیکن دوسری روایات کو ساتھ ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیقہ سنت ہے اور سنت کو بلاوجہ چھوڑنے والا گناہ گار ہوتا ہے۔
(4) ”دو پوری بکریاں“ یعنی عمر میں بھی پوری ہوں اور اوصاف میں بھی۔ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ عقیقے کا جانور کم از کم قربانی کے جانور کی طرح ہو اور اس میں کوئی عیب نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ پورا نہیں ہو گا۔ اس لفظ کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے: ”دو بکریاں جو قربانی کے جانور کے برابر ہوں۔“ تیسرا ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ ایک جیسی دو بکریاں۔ تینوں ترجمے صحیح ہیں۔
(5) عقیقہ میں بکرا، بکری، مینڈھا، بھیڑ برابر ہیں۔ ان میں کوئی فرق نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4217]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2842
عقیقہ کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ «عقوق» (ماں باپ کی نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا“ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو ناپسند فرمایا، اور مکروہ جانا، اور فرمایا: ”جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی (عقیقہ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «فرع» کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ” «فرع» حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہو جائے، ایک برس کا یا ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2842]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ «عقوق» (ماں باپ کی نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا“ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو ناپسند فرمایا، اور مکروہ جانا، اور فرمایا: ”جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی (عقیقہ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «فرع» کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ” «فرع» حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہو جائے، ایک برس کا یا ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2842]
فوائد ومسائل:
1۔
نام ہمیشہ ایسے ہونے چاہیں۔
جن میں ظاہری اور معنوی حسن ہو۔
اور لفظ عقیقہ بھی پسندیدہ نہیں، اگرچہ زبان زد عام ہے۔
اس لئے کہ اس کا مادہ عقوق ہے۔
جس کے معنی نافرمانی کے ہیں۔
تاہم اشتراک مادہ کے باوجود بہت سے الفاظ ایک دوسرے سے مختلف معانی میں استعمال میں ہوتے ہیں۔
اس اعتبار سے لفظ عقیقہ میں ایک گونہ معنوی کراہت ضرور پائی جاتی ہے۔
اس کے باوجود اس کے استعمال سے روکا نہیں گیا۔
اس لئے اس کا استعمال بھی صحیح ہے۔
2۔
فرع۔
ابتدائے اسلام میں اس پر عمل کی کیا جاتا تھا۔
مگر بعد میں مستحب قرار دیا گیا، جیسے کہ پیچھے گزرا ہے۔
3۔
صدقہ دینے میں لوگوں کو کھلانے کے علاوہ اور بھی کئی بہتر انداز ہیں۔
جو صاحب صدقہ کے لئے زیادہ اجر کا باعث ہیں۔
4۔
جانوروں کے نوزائیدہ بچوں کو ذبح کرنا کسی طرح پسندیدہ نہیں۔
اس سے ماں کو بے قراری ہوتی ہے۔
اور دودھ بھی کم ہو جاتا ہے۔
1۔
نام ہمیشہ ایسے ہونے چاہیں۔
جن میں ظاہری اور معنوی حسن ہو۔
اور لفظ عقیقہ بھی پسندیدہ نہیں، اگرچہ زبان زد عام ہے۔
اس لئے کہ اس کا مادہ عقوق ہے۔
جس کے معنی نافرمانی کے ہیں۔
تاہم اشتراک مادہ کے باوجود بہت سے الفاظ ایک دوسرے سے مختلف معانی میں استعمال میں ہوتے ہیں۔
اس اعتبار سے لفظ عقیقہ میں ایک گونہ معنوی کراہت ضرور پائی جاتی ہے۔
اس کے باوجود اس کے استعمال سے روکا نہیں گیا۔
اس لئے اس کا استعمال بھی صحیح ہے۔
2۔
فرع۔
ابتدائے اسلام میں اس پر عمل کی کیا جاتا تھا۔
مگر بعد میں مستحب قرار دیا گیا، جیسے کہ پیچھے گزرا ہے۔
3۔
صدقہ دینے میں لوگوں کو کھلانے کے علاوہ اور بھی کئی بہتر انداز ہیں۔
جو صاحب صدقہ کے لئے زیادہ اجر کا باعث ہیں۔
4۔
جانوروں کے نوزائیدہ بچوں کو ذبح کرنا کسی طرح پسندیدہ نہیں۔
اس سے ماں کو بے قراری ہوتی ہے۔
اور دودھ بھی کم ہو جاتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2842]
ڈاکٹرمحمدجاوید حفظہ اللہ،ابوداود 2842
قربانی کے بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ۔
بچی بچے کی ولادت پہ بکری، دنبہ، بھیڑ نسل کے جانور ذبح کرنے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
➊ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا اونٹ کے مقابلہ میں بکری ذبح کرنا افضل قرار دیتی ہیں۔
❀ «نَذَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ آلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِنْ وَلَدَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نَحَرْنَا جَزُورًا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا بَلِ السُّنَّةُ أَفْضَلُ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»
”حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر کے گھر والوں میں سے ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر عبدالرحمن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی بیوی کو بچہ پیدا ہو، تو ہم اونٹ ذبح کریں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا: نہیں، بلکہ سنت افضل ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے۔“ [المستدرک علی الصحیحین: 7787، قال حاکم رحمہ اللّٰہ: صحیح الاسناد وقال الذھبی رحمہ اللّٰہ: صحیح]
➋ اس باب میں جواز کی مرفوع حدیث پہ سخت جرح ہے۔
❀ «مَنْ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَلْيَعِقَّ عَنْهُ مِنَ الْإِبِلِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الْغَنَمِ»
”جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو تو وہ اس کی طرف سے اونٹ، گائے یا بکری ذبح کرے۔“ [المعجم الصغیر: 229]
◈ امام طبرانی رحمہ اللّٰہ نے اسے بیان کرتے ہوئے ضعف کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ ◈ ہیثمی رحمہ اللّٰہ نے اپنی دو کتب میں اسے نقل کر کے جرح کی ہے۔
الف: ◈ «لم یروہ عن مسعدۃ، تفرد بہ عبد الملک» [مجمع البحرین فی زوائد المعجمین: 1910]
یہ مسعدہ امام ابو داؤد رحمہ اللّٰہ کے نزدیک کذاب ہے۔
ب: ◈ «رواہ الطبرانی فی الصغیر وفیہ مسعدۃ بن الیسع وھو کذاب» [مجمع الزوائد: 6195]
➌ ❀ «أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَعِقُّ عَنْ بَنِيهِ الْجَزُورَ»
”سیدنا انس بن مالک رضی اللَّہ تعالٰی عنہ اپنے بیٹوں کی طرف سے اونٹ عقیقہ کیا کرتے تھے۔“ [المعجم الکبیر: 685]
◈ ہیثمی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
«رواہ الطبرانی فی الکبیر ورجالہ رجال الصحیح» [مجمع الزوائد: 6201]
➍ اس صحیح اثر اور مرفوع ضعیف ہر دو میں پورا جانور اونٹ وغیرہ کا عقیقہ کرنے کا ثبوت ہے۔
➎ بعض علماء کے نزدیک بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ ہو سکتا ہے جبکہ امام احمد رحمہ اللّٰہ کے نزدیک بڑا جانور ہو تو حصہ نہیں بلکہ پورا ایک جانور عقیقہ میں ذبح ہو گا۔
◈ حافظ رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:
«وَالْجُمْهُورُ عَلَى إِجْزَاءِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ أَيْضًا، وَفِيهِ حَدِيثٌ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ وَأَبِي الشَّيْخِ عَنْ أَنَسٍ رَفَعَهُ: «يُعَقُّ عَنْهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ» ، وَنَصَّ أَحْمَدُ عَلَى اشْتِرَاطِ كَامِلَةٍ، وَذَكَرَ الرَّافِعِيُّ بَحْثًا أَنَّهَا تَتَأَدَّى بِالسُّبُعِ، كَمَا فِي الْأُضْحِيَّةِ»
”یعنی جمہور اونٹ گائے جیسا بڑا جانور عقیقہ میں ذبح کرنے کے قائل ہیں، احمد رحمہ اللّٰہ کے نزدیک پورا بڑا جانور ذبح کیا جا سکتا ہے جب کہ الرافعی رحمہ اللّٰہ کے نزدیک اس میں قربانی کی طرح سات شریک ہو سکتے ہیں۔“ [فتح الباری: 593/9]
خلاصۃ الکلام:
ہماری ناقص رائے میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللَّہ تعالٰی عنہا کے فرمان کے مطابق بکری، بھیڑ، دنبہ کا عقیقہ افضل، اتقٰی اور احوط ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے عمل کی روشنی میں بڑا جانور بھی ذبح ہو سکتا ہے۔
انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے اثر اور امام احمد رحمہ اللّٰہ کے فتوٰی کے مطابق بڑا جانور ذبح کرنا ہو تو پورا ایک عقیقہ میں ذبح ہو گا، حصہ نہیں۔
جب کہ الرافعی رحمہ اللّٰہ اور احناف رحمہم اللَّہ عقیقہ میں حصہ کے قائل ہیں جو ہماری ناقص رائے میں مرجوح ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
ڈاکٹر محمد جاوید۔
بچی بچے کی ولادت پہ بکری، دنبہ، بھیڑ نسل کے جانور ذبح کرنے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
➊ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا اونٹ کے مقابلہ میں بکری ذبح کرنا افضل قرار دیتی ہیں۔
❀ «نَذَرَتِ امْرَأَةٌ مِنْ آلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِنْ وَلَدَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نَحَرْنَا جَزُورًا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا بَلِ السُّنَّةُ أَفْضَلُ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»
”حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر کے گھر والوں میں سے ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر عبدالرحمن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی بیوی کو بچہ پیدا ہو، تو ہم اونٹ ذبح کریں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا: نہیں، بلکہ سنت افضل ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے۔“ [المستدرک علی الصحیحین: 7787، قال حاکم رحمہ اللّٰہ: صحیح الاسناد وقال الذھبی رحمہ اللّٰہ: صحیح]
➋ اس باب میں جواز کی مرفوع حدیث پہ سخت جرح ہے۔
❀ «مَنْ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَلْيَعِقَّ عَنْهُ مِنَ الْإِبِلِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الْغَنَمِ»
”جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو تو وہ اس کی طرف سے اونٹ، گائے یا بکری ذبح کرے۔“ [المعجم الصغیر: 229]
◈ امام طبرانی رحمہ اللّٰہ نے اسے بیان کرتے ہوئے ضعف کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ ◈ ہیثمی رحمہ اللّٰہ نے اپنی دو کتب میں اسے نقل کر کے جرح کی ہے۔
الف: ◈ «لم یروہ عن مسعدۃ، تفرد بہ عبد الملک» [مجمع البحرین فی زوائد المعجمین: 1910]
یہ مسعدہ امام ابو داؤد رحمہ اللّٰہ کے نزدیک کذاب ہے۔
ب: ◈ «رواہ الطبرانی فی الصغیر وفیہ مسعدۃ بن الیسع وھو کذاب» [مجمع الزوائد: 6195]
➌ ❀ «أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَعِقُّ عَنْ بَنِيهِ الْجَزُورَ»
”سیدنا انس بن مالک رضی اللَّہ تعالٰی عنہ اپنے بیٹوں کی طرف سے اونٹ عقیقہ کیا کرتے تھے۔“ [المعجم الکبیر: 685]
◈ ہیثمی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
«رواہ الطبرانی فی الکبیر ورجالہ رجال الصحیح» [مجمع الزوائد: 6201]
➍ اس صحیح اثر اور مرفوع ضعیف ہر دو میں پورا جانور اونٹ وغیرہ کا عقیقہ کرنے کا ثبوت ہے۔
➎ بعض علماء کے نزدیک بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ ہو سکتا ہے جبکہ امام احمد رحمہ اللّٰہ کے نزدیک بڑا جانور ہو تو حصہ نہیں بلکہ پورا ایک جانور عقیقہ میں ذبح ہو گا۔
◈ حافظ رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:
«وَالْجُمْهُورُ عَلَى إِجْزَاءِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ أَيْضًا، وَفِيهِ حَدِيثٌ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ وَأَبِي الشَّيْخِ عَنْ أَنَسٍ رَفَعَهُ: «يُعَقُّ عَنْهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ» ، وَنَصَّ أَحْمَدُ عَلَى اشْتِرَاطِ كَامِلَةٍ، وَذَكَرَ الرَّافِعِيُّ بَحْثًا أَنَّهَا تَتَأَدَّى بِالسُّبُعِ، كَمَا فِي الْأُضْحِيَّةِ»
”یعنی جمہور اونٹ گائے جیسا بڑا جانور عقیقہ میں ذبح کرنے کے قائل ہیں، احمد رحمہ اللّٰہ کے نزدیک پورا بڑا جانور ذبح کیا جا سکتا ہے جب کہ الرافعی رحمہ اللّٰہ کے نزدیک اس میں قربانی کی طرح سات شریک ہو سکتے ہیں۔“ [فتح الباری: 593/9]
خلاصۃ الکلام:
ہماری ناقص رائے میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللَّہ تعالٰی عنہا کے فرمان کے مطابق بکری، بھیڑ، دنبہ کا عقیقہ افضل، اتقٰی اور احوط ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے عمل کی روشنی میں بڑا جانور بھی ذبح ہو سکتا ہے۔
انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے اثر اور امام احمد رحمہ اللّٰہ کے فتوٰی کے مطابق بڑا جانور ذبح کرنا ہو تو پورا ایک عقیقہ میں ذبح ہو گا، حصہ نہیں۔
جب کہ الرافعی رحمہ اللّٰہ اور احناف رحمہم اللَّہ عقیقہ میں حصہ کے قائل ہیں جو ہماری ناقص رائے میں مرجوح ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
ڈاکٹر محمد جاوید۔
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4217 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي