🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب : الرخصة في ثمن كلب الصيد
باب: شکاری کتے کی قیمت لینے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4300
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ، وَالْكَلْبِ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَحَدِيثُ حَجَّاجٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، لَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی ۱؎ اور کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا، سوائے شکاری کتے کے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: حماد بن سلمہ سے حجاج (حجاج بن محمد) نے جو حدیث روایت کی ہے وہ صحیح نہیں ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2697)، ویأتي عند المؤلف في البیوع 90 (برقم: 4672) (صحیح) ’’إلا کلب صید‘‘ کا جملہ امام نسائی کے یہاں صحیح نہیں ہے، لیکن البانی صاحب نے طرق اور شواہد کی روشنی میں اس کو بھی صحیح قرار دیا ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 2971، 2990، وتراجع الالبانی 226)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ بلی سے کوئی ایسا فائدہ جو مقصود ہو حاصل ہونے والا نہیں اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے اور یہی اس کے حرام ہونے کی علت اور اس کا سبب ہے۔ ۲؎: اس کے راوی ابوالزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور یہ لفظ مسلم کی روایت میں ہے بھی نہیں ہے، انہیں اسباب و وجوہ سے بہت سے ائمہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئیے فتح الباری (۴/۴۲۷) اور التعلیقات السلفیہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الحديث الآتي (4672) أبو الزبير عنعن. وللحديث شواهد ضعيف،ة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← محمد بن مسلم القرشي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن الحسن المقسمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن الحسن المقسمي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1280
أكل الهر وثمنه
سنن أبي داود
3480
ثمن الهرة
سنن أبي داود
3807
نهى عن ثمن الهر
سنن ابن ماجه
2161
عن ثمن السنور
سنن ابن ماجه
3250
عن أكل الهرة وثمنها
سنن النسائى الصغرى
4300
نهى عن ثمن السنور الكلب إلا كلب صيد
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4300 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،سنن نسائی4300
کیا کتوں کا بیچنا جائز ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی شخص کتے کی قیمت لینے آئے تو اس کے ہاتھوں کو مٹی سے بھر دو۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بھی کتے اور بلی کی قیمت کو ناجائز سمجھتے تھے۔
جن روایات میں بعض کتوں کا بیچنا جائز قرار دیاگیا ہے وہ ساری کی ساری ضعیف و مردود ہیں۔
کتے کی قیمت حرام و خبیث ہونے کے مقابلے میں بعض الناس نے لکھا ہے کہ کتا بیچنا جائز ہے۔ یہ سارے اقوال صحیح احادیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔
موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم حدیث نمبر 57:
«مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْ مَسْعُوْدٍ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم نَهَي عَنْ ثَمَنِ الكَلْبِ وَمَهْرِ البَغْيِ وَحُلْوانِ الكَاهِنِ.»
(سیدنا) ابو مسعود (عقبہ بن عمرو) الانصاری (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے، زانیہ کی خرچی سے اور کاہن (نجومی) کی مٹھائی سے منع فرمایا ہے۔
تحقیق: صحیح
وصرح ابن شہاب بالسماع عند الحمیدی [بتحقيقي: 451]
تخریج: متفق علیہ
[الموطأ رواية يحييٰ 2/ 656 ح 1400، ك 31 ب 29 ح 68 التمهيد 8/ 397، الاستذكار: 1321]
٭ وأخرجہ البخاری (2237) ومسلم (1567) من حدیث مالک بہ۔
تفقہ:
یہ حدیث ان لوگوں کا زبردست رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ کتا بیچنا جائز ہے۔!
اس پر اجماع ہے کہ زانیہ کی خرچی اور کاہن کی مٹھائی حرام ہے۔ [التمهيد 8/ 398]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«ثمن الكلب خبيث ومهر البغي خبيث وكسب الحجام خبيث»
کتے کی قیمت خبیث ہے اور زانیہ کی خرچی خبیث ہے اور حجام کی کمائی خبیث ہے۔
[صحيح مسلم: 41/ 1568، 4012]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لايحل ثمن الكلب»
کتے کی قیمت حلال نہیں ہے۔
[سنن ابي داود: 3484 وسنده حسن]
ایک حدیث میں آیا ہے کہ:
اگر کوئی شخص کتے کی قیمت لینے آئے تو اس کے ہاتھوں کو مٹی سے بھر دو۔
[سنن ابي داود: 3482 وسنده صحيح]
جن روایات میں بعض کتوں کا بیچنا جائز قرار دیاگیا ہے وہ ساری کی ساری ضعیف و مردود ہیں۔ مثلاً:
«عن جابر أن النبى صلی اللہ علیہ وسلم نهي عن ثمن السنور والكلب إلا كلب صيد»
[سنن النسائي 7/191 ح 4300 وقال: ليس هو بصحيح 7/309 ح 4672 وقال: هٰذا منكر]
یہ روایت ابو الزبیر محمد بن مسلم بن تدرس کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ابو الزبیر مشہور مدلس تھے۔ دیکھئے: [الفتح المبين فى تحقيق طبقات المدلسين ص 61، 62 رقم 3/ 101]
«عن أبى هريرة نهي عن مهر البغي وعسب الفحل وعن ثمن السنور وعن الكلب إلا كلب صيد»
[السنن الكبريٰ للبيهقي 6/6]
یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے:
1- محمد بن یحییٰ بن مالک الضبی کی توثیق نامعلوم ہے۔
2- حماد بن سلمہ اور قیس بن سعد دونوں ثقہ ہیں لیکن حماد کی قیس سے روایت ضعیف ہوتی ہے۔ «قال البيهقي: ورواية حماد عن قيس فيها نظر» [ايضاً 6/6]
حماد بن سلمہ عن قیس بن سعد والی یہی روایت صحیح ابن حبان میں موجود ہے لیکن اس میں کتا بیچنے کی اجازت نہیں بلکہ لکھا ہوا ہے کہ:
«إنّ مهر البغي وثمن الكلب والسنور وكسب الحجام من السحت»
[الاحسان7/ 217 ح 4920]
سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا:
«زجر النبى صلی اللہ علیہ وسلم عن ذلك»
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔
[صحيح مسلم: 42/1569، 4015]
اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بھی کتے اور بلی کی قیمت کو ناجائز سمجھتے تھے۔
سنن دارقطنی (3/ 72، 73 ح 3045، 3046، 3047) میں بعض روایتیں مروی ہیں جن سے بعض کتوں کی فروخت کا جواز معلوم ہوتا ہے لیکن یہ ساری روایتیں ضعیف و مردود ہیں اور ان میں سے بعض کے راویوں کو خود امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
آلِ تقلید کی پیش کردہ بعض مزید روایات کی تحقیق درج ذیل ہے:
«أبو حنيفة عن الهيثم عن عكرمة عن ابن عباس قال: رخص رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فى ثمن كلب الصيد»
[مسند ابي حنيفه رواية الحصكفي ص 169، اردو مترجم ص 319، جامع المسانيد للخوارزمي 2/ 10، 11]
مسند الحصکفی (متوفی 650 ھ) کا ایک سابق راوی ابو محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب الحارثی تھا۔ [اردو مترجم ص 24 مسند الحصكفي ص 27]
عبداللہ بن محمد بن یعقوب الحارثی محدثینِ کرام کے نزدیک سخت مجروح ہے۔ ابو زرعہ احمد بن الحسین الرازی نے کہا: ضعیف [سوالات حمزه بن يوسف السهمي: 318]
ابو احمدالحافظ اور حاکم نیشاپوری نے کہا: «الأستاذ ينسج الحديث» یہ استاد تھا، حدیث بناتا تھا۔ [كتاب القراءت خلف الامام للبيهقي ص178 ح 388]
یعنی یہ شخص حدیثیں گھڑنے میں پورا استاد تھا۔ اس پر خطیب بغدادی، خلیلی، ابن جوزی اور حافظ ذہبی وغیرہ نے جرح کی ہے۔ [تاريخ بغداد 10/ 126 ت 5262، الارشاد للخليلي، 3/972 ت 899، كتاب الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي 2/ 141، ديوان الضعفاء للذهبي 2/ 63 ت 2297]
نیز دیکھئے میزان الاعتدال (2/ 496) ولسان المیزان (3/ 348، 349)
اس کی توثیق کسی قابلِ اعتماد محدث سے ثابت نہیں ہے۔
جامع المسانید للخوارزمی کی سندوں کاجائزہ درج ذیل ہے:
1- خوارزمی بذاتِ خود غیر موثق ومجہول التوثیق ہے۔
2- ابو محمد البخاری الحارثی کذاب ہے۔ کما تقدم
3- احمد بن محمد بن سعید عرف ابن عقدہ جمہور محدثین کے نزدیک مجروح راوی ہے۔ امام دارقطنی نے اس کی تعریف کے باوجود فرمایا کہ یہ خراب آدمی یعنی رافضی تھا۔ [تاريخ بغداد 5/ 22 ت 2365 وسنده صحيح]
اور فرمایا: یہ منکر روایتیں کثرت سے بیان کرتا تھا۔ [ايضاً وسنده صحيح]
ابو عمر محمد بن العباس بن محمد بن زکریا البغدادی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ شخص جامع براثا میں صحابۂ کرام یعنی ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما وغیرہما پر تنقیدیں لکھوایا کرتا تھا لہٰذا میں نے اس کی حدیث کو ترک کر دیا۔ [سوالات حمزة السهمي: 166، وسنده صحيح]
یہ (ابن عقدہ) چور بھی تھا، اس نے عثمان بن سعید المری کے بیٹے کے گھر سے کتابیں چُرا لی تھیں۔ [الكامل فى الضعفاء لابن عدي 1/209 وسنده صحيح، محمد بن الحسين بن مكرم البغدادي ثقة وثقه الدارقطني وغيره]
معلوم ہوا کہ ابن عقدہ چور، ساقط العدالت اور رافضی تھا۔
4- احمد بن عبداللہ بن محمد الکندی اللجلاج نے امام ابو حنیفہ کے لئے منکرحدیثیں بیان کی ہیں۔ [الكامل لابن عدي 1/ 197]
امام ابو حنیفہ ایسی منکر حدیثوں کے محتاج نہیں ہیں۔ والحمدللہ
احمد بن عبداللہ الکندی کی اس کتے والی روایت کو حافظ عبدالحق اشبیلی رحمہ اللہ نے باطل حدیث قرار دیا ہے۔ [الاحكام الوسطيٰ 3/ 249، 248، لسان الميزان 1/ 199]
5- محمد بن الحسن بن فرقد الشیبانی کے بارے میں اسماء الرجال کے امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: لیس بشئ وہ کچھ چیز نہیں ہے۔ [تاريخ ابن معين: 1770]
امام ابن معین نے مزید فرمایا: «جهمي كذاب» محمدبن الحسن الشیبانی جہمی کذاب ہے۔ [كتاب الضعفاء للعقيلي 4/ 52 وسنده صحيح]
دوسری سندمیں احمد بن عبداللہ الکندی اور محمد بن الحسن الشیبانی دونوں مجروح ہیں اور الحسن بن الحسین الانطاکی نامعلوم ہے۔ تیسری سند میں ابن عقدہ چور، عبداللہ بن محمد البخاری کذاب اور احمد بن عبداللہ الکندی و محمد بن الحسن دونوں مجروح ہیں۔ چوتھی سند میں حسین بن محمدبن خسرو البلخی، الحسین بن الحسین انطاکی (؟) احمد بن عبداللہ اور محمد بن الحسن مجروح ہیں۔ پانچویں سند میں ابن خسرو، حسین بن حسین، احمد بن عبداللہ الکندی اور محمد بن الحسن ہیں۔ چھٹی اور آخری سندمیں ابن خسرو معتزلی مجروح ہے۔ دیکھئے لسان المیزان (2/ 312) وسیر اعلام النبلاء (19/ 592) قاضی ابو نصر بن اشکاب اور عبداللہ بن طاہر نامعلوم اور محمدبن الحسن الشیبانی مجروح ہے۔
خلاصۃ التحقیق: یہ روایت باطل و مردود ہے اور امام ابو حنیفہ سے ثابت ہی نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ بعض کتوں کی فروخت کے جواز والی سب روایتیں ضعیف و مردود ہیں۔
کتے کی قیمت حرام و خبیث ہونے کے مقابلے میں بعض الناس نے لکھا ہے کہ کتابیچنا جائز ہے۔ دیکھئے الہدایہ للمرغینانی (2/ 101، واللفظ لہ، 3/ 79) القدوری (ص74 قبل باب الصرف) فتح القدیر لابن ہمام (6/ 345) بدائع الصنائع (5/ 142) کنز الدقائق (ص257) البحر الرائق (6/ 172) الدرالمختار مع کشف الاستار (2/ 50) رد المحتار المعروف بفتاویٰ شامی (4/ 238، 239) حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار (3/ 127) کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ (2/ 232) اور الفقہ الاسلامی وادلتہ (4/ 446) وغیرہ، بلکہ بعض الناس نے لکھا ہے کہ کتا ذبح کر کے اس کا گوشت بیچنا جائز ہے۔ دیکھئے فتاویٰ عالمگیری (3/ 115)!
یہ سارے اقوال صحیح احادیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔
ملا مرغینانی نے لکھا ہے کہ:
«وإذا ذبح مالا يؤكل لحمه طهر جلده ولحمه إلا الآدمي والخنزير»
آدمی اور خنزیر کے علاوہ جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا، اسے ذبح کرنے سے اس کا گوشت اور چمڑا پاک ہو جاتا ہے۔
[الهدايه 2/ 441 دوسرا نسخه4/ 69]
یہ فتویٰ بھی بلادلیل ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے الاتحاف الباسم شرح موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم حدیث 57 صفحہ 132 تا 135
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4300
اردو حاشہ:
امام صاحب کی بات کی تائید دوسرے محدثین نے بھی کی ہے کیونکہ یہ روایت شکاری کتے کے استشنا کے بغیر صحیح سندوں کے ساتھ آتی ہے۔ صحیح مسلم میں یہ روایت موجود ہے مگر شکاری کتے کا استشنا مذکور نہیں۔ اس روایت کے الفاظ ہیں: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی اجرت اور کاہن کی شیرینی (نذرو نیاز) سے منع کیا ہے۔ (صحیح مسلم‘المساقاة‘باب تحریم ثمن الکلب.....حدیث:1567)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4300]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2161
کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی، کاہن کی اجرت اور نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے احکام کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2161]
اردو حاشہ:
فائدہ:
بلی میں وہ فوائد نہیں جو کتے میں ہیں، اس لیے اس کی خریدو فروخت جائز نہیں۔
اور جن علماء کے نزدیک کتے کی خریدو فروخت منع ہے ان کے نزدیک بلی کی خریدو فروخت بالاولیٰ منع ہوگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2161]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3250
بلی کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3250]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
بلی، کچلی والا جانور ہے لہٰذا یہ حرام ہے۔
کچلی کی وضاحت کےلیے دیکھیے فوائد حدیث: 3232۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3250]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1280
کتے اور بلی کی قیمت کی کراہت کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1280]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عمربن زید صنعانی ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1280]