سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب : نحر ما يذبح
باب: ذبح کیے جانے والے جانور کو نحر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4426
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ:" ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَكَلْنَاهُ".
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا، ہم مدینے میں تھے پھر ہم نے اسے کھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4426]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں مدینہ میں رہتے ہوئے گھوڑا ذبح ( «نَحْر») کیا اور پھر اسے کھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4411 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی «نحرنا» کی جگہ «ذبحنا» ہے، اور ہشام کے اکثر شاگردوں کی روایت «نحرنا» ہی کی ہے، صرف ”عبدہ“ کی روایت میں «ذبحنا» ہے اسی اختلاف الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے مؤلف نے یہ باب باندھا ہے بہرحال نحر و ذبح دونوں جائز ہیں، مقصد خون بہانا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5025
| نحرنا فرسا على عهد رسول الله فأكلناه |
سنن النسائى الصغرى |
4411
| نحرنا فرسا على عهد رسول الله فأكلناه |
سنن النسائى الصغرى |
4426
| ذبحنا على عهد رسول الله فرسا ونحن بالمدينة فأكلناه |
سنن النسائى الصغرى |
4425
| نحرنا فرسا على عهد رسول الله فأكلناه |
سنن ابن ماجه |
3190
| نحرنا فرسا فأكلنا من لحمه على عهد رسول الله |
مسندالحميدي |
324
| نحرنا فرسا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأكلناه |
Sunan an-Nasa'i Hadith 4426 in Urdu
فاطمة بنت المنذر الأسدية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية