🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : بيع التمر بالتمر
باب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4563
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّمْرُ بِالتَّمْرِ , وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ , وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ , وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ يَدًا بِيَدٍ , فَمَنْ زَادَ , أَوِ ازْدَادَ , فَقَدْ أَرْبَى , إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کے بدلے کھجور، گیہوں کے بدلے گی ہوں، جَو کے بدلے جَو اور نمک کے بدلے نمک میں خرید و فروخت نقدا نقد ہے، جس نے زیادہ دیا، یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا، سوائے اس کے کہ جنس بدل جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 15 (البیوع36) (1588)، (تحفة الأشراف: 14921)، مسند احمد (2/232) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سود صرف انہی چار چیزوں میں کمی زیادتی میں نہیں ہے، بلکہ اگلی حدیث میں دو اور چیزوں کا تذکرہ ہے، نیز صرف انہی چھ کی بیع میں تفاضل سود نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی ہر چیز میں موجود ہے سوائے ان چیزوں کے جن کو شریعت نے مستثنیٰ کر دیا ہے جیسے: جانور، پس ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ بیچ سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو زرعة بن عمرو البجلي، أبو زرعة
Newأبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥الفضيل بن غزوان الضبي، أبو الفضل
Newالفضيل بن غزوان الضبي ← أبو زرعة بن عمرو البجلي
ثقة
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← الفضيل بن غزوان الضبي
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥واصل بن عبد الأعلى الأسدي، أبو محمد، أبو القاسم
Newواصل بن عبد الأعلى الأسدي ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4069
الدينار بالدينار لا فضل بينهما الدرهم بالدرهم لا فضل بينهما
صحيح مسلم
4066
التمر بالتمر الحنطة بالحنطة الشعير بالشعير الملح بالملح مثلا بمثل يدا بيد من زاد فقد أربى إلا ما اختلفت ألوانه
صحيح مسلم
4068
الذهب وزنا بوزن مثلا بمثل الفضة بالفضة وزنا بوزن مثلا بمثل من زاد فهو ربا
سنن ابن ماجه
2255
الفضة بالفضة الذهب بالذهب الشعير بالشعير الحنطة بالحنطة مثلا بمثل
سنن النسائى الصغرى
4563
التمر بالتمر الحنطة بالحنطة الشعير بالشعير الملح بالملح يدا بيد من زاد فقد أربى إلا ما اختلفت ألوانه
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
515
لدينار بالدينار، والدرهم بالدرهم، لا فضل بينهما
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4563 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4563
اردو حاشہ:
(1) امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ کھجور کا کھجور کے عوض سودا جائز ہے بشر طیکہ دونوں طرف سے نقد بہ نقد اور برابری ہو۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکورہ اشیاء کی ایک دوسرے کے عوض بیع جائز ہے بشرطیکہ وہ اشیاء برابر مقدار میں ہوں، سودا نقد ہو اور اسی مجلس میں دونوں فریق چیز کو اپنے اپنے قبضے میں لے لیں۔
(3) سود لینے سے، صرف لینے والا ہی گناہ گار نہیں ہوتا بلکہ دینے والا بھی مجرم ہوتا ہے، لہٰذا سود لینے والے اور دینے والے دونوں کو اس سے بچنا چاہیے۔
(4) حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جنس بدل جائے تو کمی بیشی جائز ہے۔ امام نو وی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنس کے مختلف ہونے کی صورت میں بھی تقابض (دونوں فریقوں کا چیز قبضے میں لینا) ضروری اور و اجب ہے۔ اس پر تقریباََ تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔
(5) جنسیں بدل جائیں مثلاََ: کھجور کا سودا گندم کے ساتھ، گندم کا جو کے ساتھ، جو کا نمک کے ساتھ۔ ایسی صورت میں کمی بیشی جائز ہے، مثلاََ: دوکلو گندم دے کر نصف کلو کھجور لے تو کوئی حرج نہیں، البتہ سودا نقد ہونا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4563]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 515
خرید و فروخت برابر برابر ہے
«. . . مالك عن موسى بن ابى تميم عن سعيد بن يسار عن ابى هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الدينار بالدينار، والدرهم بالدرهم، لا فضل بينهما . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دینار دینار کے بدلے اور درہم درہم کے بدلے (برابر برابر ہوں) ان کے درمیان کوئی اضافہ نہ ہو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 515]
تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 588/85، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک سنار نے پوچھا: میں سونا ڈھال کر (زیور بناتا ہوں) پھر اس کے وزن سے زیادہ قیمت پر دیتا ہوں اور یہ زیادہ قیمت (اضافہ) اپنی محنت کے بدلے میں لیتا ہوں؟ تو انہوں نے اس سنارکو منع کیا۔ وہ بار بار پوچھتا رہا اور آپ اسے منع کرتے رہے حتیٰ کہ سواری پر سوار ہونے کے لئے مسجد کے دروازے تک پہنچ گئے پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دینار دینار کے بدلے اور درہم درہم کے بدلے، اس میں کوئی زیادتی نہ ہو، یہی ہم سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد و پیان ہے اور یہی ہماراتم سے عہد و پیان ہے۔ [الموطا 633/2 ح 1362، وسنده صحيح]
● نیز دیکھتے [الموطأ حديث: 153]
➋ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ سونے چاندی کا ایک برتن، اس کے وزن سے زیادہ قیمت پر بیچا تو سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے انھیں کہا: میں نے رسول اللہ کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے الا یہ کہ وہ برابر برابر ہو۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: معاویہ کے معاملے میں کون میرا عذر مانتا ہے، میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے سناتا ہے۔ میں اس علاقے میں ہی نہیں رہوں گا جس میں(اے معاویہ!) تم رہتے ہو۔ پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ((مدینہ میں) عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یہ قصہ سنایا تو انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ بھیجا: ایسی خرید و فروخت دوبارہ نہ کرومگر برابر برابر۔ [الموطا 634/2 ح 1364، وسنده صحيحي،]
●اس قسم کے اور بھی بہت سے آثار موطا امام مالک میں موجود ہیں جن سےاس قسم کے سودے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
➌ سود کی بہت کی قسمیں ہیں جن میں بہت سے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
➍ نیز دیکھئے [الموطأ ح 259، البخاري 2177، و مسلم 1584]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 192]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4066
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور، کھجور کے عوض، گندم، گندم کے عوض، جو، جو کے عوض اور نمک نمک کے عوض، برابر، برابر اور نقد بنقد ہوں گے، تو جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا، تو اس نے سودی لین دین کیا، الا یہ کہ ان کی اقسام (جنس) بدل جائیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4066]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
ألوان،
لون کی جمع ہے،
انواع و اقسام کو کہتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4066]