🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب : بيع الذهب بالذهب
باب: سونا کے بدلے سونا بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4576
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ مُعَاوِيَةَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ , أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا , فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا , إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ".
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے پینے کا برتن جو سونے یا چاندی کا تھا اس سے زائد وزن کے بدلے بیچا تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کی بیع سے منع فرماتے ہوئے سنا، سوائے اس کے کہ وہ برابر برابر ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4576]
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سونے یا چاندی کا ایک برتن اس کے وزن سے زیادہ سونے یا چاندی کے عوض خریدا۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جیسے سودے سے منع فرماتے سنا الا یہ کہ دونوں کا وزن برابر ہو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10953)، موطا امام مالک/البیوع 16 (33)، مسند احمد (6/448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عويمر بن مالك الأنصاري، أبو الدرداءصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← عويمر بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← زيد بن أسلم القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4576 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4576
اردو حاشہ:
(1) سونے کی خرید و فروخت سونے یا چاندی کی چاندی کے عوض درست ہے بشرطیکہ دونوں طرف سے برابری ہو اور سودا نقد بہ نقد ہو۔ اگر ایسا نہیں تو وہ بیع فاسد اور حرام ہے۔
(2) برتن عربی میں لفظ سِقَایَة استعمال کیا گیا ہے، یعنی پانی وغیرہ پینے کا برتن۔ ویسے شریعت اسلامیہ میں سونے یا چاندی کے برتن میں کھانے پینے سے روکا گیا ہے۔ ممکن ہے انھوں نے زینت اور آرائش کے لیے خریدا ہو، یا کوئی اور مقصد بھی ہو سکتا ہے، المختصر وہ پینے کے لیے نہیں خرید سکتے۔
(3) وزن سے زیادہ کیونکہ برتن میں سونے کے علاوہ اس کے بنانے کی اجرت بھی تو شامل ہے لیکن شریعت میں سونے کے بدلے سونے کی بیع میں کمی بیشی منع ہے، لہٰذا اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ اگر سونے کا برتن سونے کے ساتھ ہی خریدنا ہے تو برتن کے برابر سونا دیا جائے اور اجرت الگ چاندی وغیرہ کی صورت میں دی جائے، یا ایسے برتن کا سودا چاندی کے ساتھ کیا جائے اور چاندی کے برتن کا سونے سے تاکہ اجرت بھی وصول ہو جائے اور شرعی ضابطہ بھی برقرار رہے۔ سونے اور چاندی کی باہم بیع میں کمی بیشی کی کوئی حد مقرر نہیں، اس لیے اجرت کو بھی قیمت میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے۔ آج کل کرنسی نوٹوں نے ایسے مسائل حل کر دیے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4576]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4576 in Urdu