🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب : بيع الفضة بالذهب نسيئة
باب: سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4579
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ , قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ فَجَاءَنِي فَأَخْبَرَنِي , فَقُلْتُ: هَذَا لَا يَصْلُحُ , فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ أَحَدٌ , فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ , فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ , فَقَالَ:" مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ , وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا" , ثُمَّ قَالَ لِي: ائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ , فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
ابومنہال کہتے ہیں کہ شریک نے کچھ چاندی ادھار بیچی، پھر میرے پاس کر مجھے بتایا تو میں نے کہا: یہ درست نہیں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو اسے بازار میں بیچا ہے، لیکن کسی نے اسے غلط نہیں کہا، چنانچہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم اسی طرح سے بیچا کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: جب تک نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن ادھار ہو تو یہ سود ہے، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، میں نے ان کے پاس جا کر معلوم کیا تو انہوں نے بھی اسی جیسا بتایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4579]
حضرت ابومنہال سے روایت ہے کہ میرے ایک شریک نے چاندی کا سودا ادھار کر لیا، پھر وہ میرے پاس آیا اور مجھے بتایا۔ میں نے کہا: یہ تو درست نہیں۔ وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں نے یہ سودا بازار میں کیا ہے اور کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم اس قسم کی بیع کیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: جو (خرید و فروخت) نقد ہو، اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو، وہ سود ہے۔ پھر انہوں نے مجھے کہا: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو۔ میں ان کے پاس گیا اور پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 8 (2060، 2061)، (2180، 2181)، الشرکة 10(2497، 2498)، مناقب الأنصار 51 (3939، 3940)، صحیح مسلم/المساقاة 16 (البیوع 37) (1589)، (تحفة الأشراف: 1788)، مسند احمد (4/289، 368، 371، 372، 274) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمرو
Newالبراء بن عازب الأنصاري ← زيد بن أرقم الأنصاري
صحابي
👤←👥عبد الرحمن بن مطعم البناني، أبو المنهال
Newعبد الرحمن بن مطعم البناني ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عبد الرحمن بن مطعم البناني
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن منصور الخزاعي، أبو عبد الله
Newمحمد بن منصور الخزاعي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3940
ما كان يدا بيد فليس به بأس وما كان نسيئة فلا يصلح
صحيح البخاري
2061
إن كان يدا بيد فلا بأس وإن كان نساء فلا يصلح
صحيح مسلم
4071
ما كان يدا بيد فلا بأس به وما كان نسيئة فهو ربا
سنن النسائى الصغرى
4579
ما كان يدا بيد فلا بأس وما كان نسيئة فهو ربا
سنن النسائى الصغرى
4580
إن كان يدا بيد فلا بأس وإن كان نسيئة فلا يصلح
Sunan an-Nasa'i Hadith 4579 in Urdu