یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب : بيع الفضة بالذهب نسيئة
باب: سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4579
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ , قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ فَجَاءَنِي فَأَخْبَرَنِي , فَقُلْتُ: هَذَا لَا يَصْلُحُ , فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ أَحَدٌ , فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ , فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ , فَقَالَ:" مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ , وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا" , ثُمَّ قَالَ لِي: ائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ , فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
ابومنہال کہتے ہیں کہ شریک نے کچھ چاندی ادھار بیچی، پھر میرے پاس کر مجھے بتایا تو میں نے کہا: یہ درست نہیں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو اسے بازار میں بیچا ہے، لیکن کسی نے اسے غلط نہیں کہا، چنانچہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم اسی طرح سے بیچا کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”جب تک نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن ادھار ہو تو یہ سود ہے“، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، میں نے ان کے پاس جا کر معلوم کیا تو انہوں نے بھی اسی جیسا بتایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4579]
حضرت ابومنہال سے روایت ہے کہ میرے ایک شریک نے چاندی کا سودا ادھار کر لیا، پھر وہ میرے پاس آیا اور مجھے بتایا۔ میں نے کہا: یہ تو درست نہیں۔ وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں نے یہ سودا بازار میں کیا ہے اور کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم اس قسم کی بیع کیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”جو (خرید و فروخت) نقد ہو، اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو، وہ سود ہے۔“ پھر انہوں نے مجھے کہا: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو۔ میں ان کے پاس گیا اور پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 8 (2060، 2061)، (2180، 2181)، الشرکة 10(2497، 2498)، مناقب الأنصار 51 (3939، 3940)، صحیح مسلم/المساقاة 16 (البیوع 37) (1589)، (تحفة الأشراف: 1788)، مسند احمد (4/289، 368، 371، 372، 274) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3940
| ما كان يدا بيد فليس به بأس وما كان نسيئة فلا يصلح |
صحيح البخاري |
2061
| إن كان يدا بيد فلا بأس وإن كان نساء فلا يصلح |
صحيح مسلم |
4071
| ما كان يدا بيد فلا بأس به وما كان نسيئة فهو ربا |
سنن النسائى الصغرى |
4579
| ما كان يدا بيد فلا بأس وما كان نسيئة فهو ربا |
سنن النسائى الصغرى |
4580
| إن كان يدا بيد فلا بأس وإن كان نسيئة فلا يصلح |
Sunan an-Nasa'i Hadith 4579 in Urdu
البراء بن عازب الأنصاري ← زيد بن أرقم الأنصاري