🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3940
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ، قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ نَسِيئَةً، فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَيَصْلُحُ هَذَا، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ , فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ:" مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ , وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ" , وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً , فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَقَالَ: مِثْلَهُ، وَقَالَ سُفْيَانُ: مَرَّةً، فَقَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ، وَقَالَ:" نَسِيئَةً إِلَى الْمَوْسِمِ أَوِ الْحَجِّ".
ہم سے علی بن عبداللہ المدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے ابومنہال (عبدالرحمٰن بن مطعم) سے سنا، عبدالرحمٰن بن مطعم نے بیان کیا کہ میرے ایک ساجھی نے بازار میں چند درہم ادھار فروخت کیے، میں نے اس سے کہا: سبحان اللہ! کیا یہ جائز ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کی قسم! میں نے بازار میں اسے بیچا تو کسی نے بھی قابل اعتراض نہیں سمجھا۔ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (ہجرت کر کے) تشریف لائے تو اس طرح خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید و فروخت کی اس صورت میں اگر معاملہ دست بدست (نقد) ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر ادھار پر معاملہ کیا تو پھر یہ صورت جائز نہیں اور زید بن ارقم سے بھی مل کر اس کے متعلق پوچھ لو کیونکہ وہ ہم میں بڑے سوداگر تھے۔ میں نے زید بن ارقم سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ سفیان نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے یہاں مدینہ تشریف لائے تو ہم (اس طرح کی) خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور بیان کیا کہ ادھار موسم تک کے لیے یا (یوں بیان کیا کہ) حج تک کے لیے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3940]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمرو
Newالبراء بن عازب الأنصاري ← زيد بن أرقم الأنصاري
صحابي
👤←👥عبد الرحمن بن مطعم البناني، أبو المنهال
Newعبد الرحمن بن مطعم البناني ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عبد الرحمن بن مطعم البناني
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3940
ما كان يدا بيد فليس به بأس وما كان نسيئة فلا يصلح
صحيح البخاري
2061
إن كان يدا بيد فلا بأس وإن كان نساء فلا يصلح
صحيح مسلم
4071
ما كان يدا بيد فلا بأس به وما كان نسيئة فهو ربا
سنن النسائى الصغرى
4579
ما كان يدا بيد فلا بأس وما كان نسيئة فهو ربا
سنن النسائى الصغرى
4580
إن كان يدا بيد فلا بأس وإن كان نسيئة فلا يصلح
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3940 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3940
حدیث حاشیہ:
یہ بیع جائز نہیں ہے، کیونکہ بیع صرف میں تقابض اسی مجلس میں ضروری ہے جیسے کہ کتاب البیوع میں گزر چکا ہے، آخر حدیث میں راوی کو شک ہے کہ موسم کا لفظ کہا یا حج کا مطابقت باب اس سے نکالی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3940]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3940
حدیث حاشیہ:

یعنی سفیان روایت کرتے وقت کبھی تو ادھار کی مدت کا تعین نہیں کرتے تھے اور کبھی ادھار کی مدت بیان کرتے کہ وہ موسم یا حج تک مدت ادھار کرتے تھے۔

بہرحال اس طرح کہ خریدوفروخت جائز نہیں کیونکہ کرنسی کی خریدوفروخت میں ادھار جائز نہیں ہوتا بلکہ اسی مجلس میں لین دین کرنا ضروری ہے، جیسا کہ کتاب البیوع میں یہ مسئلہ بیان ہواہے۔

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3940]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4580
سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے کا بیان۔
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم دونوں تاجر تھے، ہم نے آپ سے بیع صرف (اثمان کی خرید و فروخت) کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: اگر وہ نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھار ہو تو یہ صحیح نہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4580]
اردو حاشہ:
سونے چاندی کے تبادلے سے مراد سونا دے کر چاندی لینا اور چاندی دے کر سونا لینا ہے۔ دوسرے لفظوں میں دینار کے بدلے درہم لینا یا درہم کے بدلے دینار لینا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سونے چاندی کے باہمی تناسب میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور بھاؤ بدلنے رہتے ہیں، اس لیے نقد تبادلہ تو جائز ہے مگر ادھار جائز نہیں کیونکہ ممکن ہے ادائیگی تک بھاؤ میں فرق پڑ جائے، پھر تنازع کا امکان پیدا ہو جائے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4580]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4071
ابو منہال بیان کرتے ہیں کہ میرے ایک شریک (ساجھی) نے، چاندی حج کے موسم یا حج تک ادھار فروخت کی، پھر آ کر مجھے اس کی اطلاع دی، تو میں نے کہا، یہ معاملہ درست نہیں ہے، اس نے کہا، میں نے اسے بازار میں فروخت کیا، تو اس پر کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا، تو میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا، اور ان سے، اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، تو ہم اس قسم کی خرید و فروخت... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4071]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابو منہال کے ساجھی کا مقصد یہ تھا،
اگر سونے اور چاندی کا باہمی تبادلہ ادھار کی صورت میں جائز نہ ہوتا،
تو بازار والے لوگ اس پر اعتراض کرتے،
ان کا اعتراض نہ کرنا،
اس کے جائز ہونے کی دلیل ہے،
لیکن اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا،
اگر بازار کے لوگ واقفیت کے باوجود اعتراض نہ کریں،
تو یہ جواز کی دلیل نہیں ہے،
اس کا سبب کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4071]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2061
2061. حضرت ابو منہال سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ میں کرنسی کا کاروبار کرتاتھا۔ میں نے اس کے متعلق حضرت زید بن ارقم ؓ سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک دوسری سندکے مطابق حضرت ابو منہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم ؓ سے کرنسی کے کاروبار کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تجارت کرتے تھے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیع صرف یعنی کرنسی کے کاروبار کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: اگر نقد بنقد ہوتو کوئی حرج نہیں، اگر ادھار ہوتو جائز نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2061]
حدیث حاشیہ:
مثلاً ایک شخص نقد روپیہ دے اور دوسرا کہے میں اس کے بدل کا روپیہ ایک مہینہ کے بعد دوں گا تو یہ درست نہیں ہے۔
بیع صرف میں سب کے نزدیک تقابض یعنی دونوں بدلوں کا نقدانقد دیا جانا شرط ہے اور میعاد کے ساتھ درست نہیں ہوتی اب اس میں اختلاف ہے کہ اگر جنس ایک ہی ہو مثلاً روپے کو روپے سے یا اشرفیوں کو اشرفیوں سے تو کمی یا زیادتی درست ہے یا نہیں؟ حنفیہ کے نزدیک کمی اور زیادتی جب جنس ایک ہو تو درست نہیں اور ان کے مذہب پر کلدار اور حالی سکہ کا بدلنا مشکل ہو جاتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ کچھ پیسے شریک کردے، تاکہ کمی اور زیادتی سب کے نزدیک جائز ہو جائے۔
(وحیدی)
اس حدیث کے عموم سے امام بخاری ؒ نے یہ نکالا ہے کہ خشکی میں تجارت کرنا درست ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2061]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2061
2061. حضرت ابو منہال سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ میں کرنسی کا کاروبار کرتاتھا۔ میں نے اس کے متعلق حضرت زید بن ارقم ؓ سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک دوسری سندکے مطابق حضرت ابو منہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم ؓ سے کرنسی کے کاروبار کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تجارت کرتے تھے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیع صرف یعنی کرنسی کے کاروبار کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: اگر نقد بنقد ہوتو کوئی حرج نہیں، اگر ادھار ہوتو جائز نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2061]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے آیت کریمہ اور حدیث کے عموم سے خشکی وغیرہ میں تجارت کرنے کو ثابت کیا ہے،چنانچہ حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم ؓ نے فرمایا:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی میں پیشۂ تجارت سے منسلک تھے۔
ان الفاظ سے امام بخاری ؒ نے اپنا مدعا ثابت کیا ہے۔
(2)
سونے چاندی کے سکوں کا باہمی تبادلہ"صرف" کہلاتا ہے۔
اس کی دو صورتیں ہیں:
٭چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا۔
اس کے جائز ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں:
٭ دونوں کا وزن برابر ہو۔
٭دست بدست ہوں۔
اگر ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار ہویا نقد کی صورت میں وزن میں کمی بیشی کی گئی تو معاملہ حرام ہوجائے گا۔
٭ سونے کو چاندی یا چاندی کو سونے کے عوض خریدنا۔
اس صورت میں وزن کا برابر ہونا تو ضروری نہیں،تاہم اس کا نقد بنقد ہونا ضروری ہے۔
اگر کمی بیشی کے ساتھ معاملہ ادھار ہوا تو جائز نہیں ہوگا۔
اس کی تفصیل ہم آئندہ بیان کریں گے،البتہ امام بخاری ؒ نے اس حدیث کے عموم سے خشکی میں تجارت کے جائز ہونے کو ثابت کیا ہے۔
والله أعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2061]