🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب : بيع حبل الحبلة
باب: حمل والے جانور کا حمل بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4626
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" السَّلَفُ فِي حَبَلِ الْحَبَلَةِ رِبًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حمل والے جانور کے حمل کی بیع سلم کرنا سود ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5440) مسند احمد (1/240) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← أيوب السختياني
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥يحيى بن حكيم المقوم، أبو سعيد
Newيحيى بن حكيم المقوم ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ مصنف
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4626 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4626
اردو حاشہ:
اس قسم کی بیوع جاہلیت میں عام تھیں۔ ایک آدمی کے پاس حاملہ اونٹنی ہوتی۔ کوئی اس سے سودا کرتا کہ اس اونٹنی کے پیٹ میں جو حمل ہے، وہ پیدا ہونے کے بعد، پھر جوان ہونے کے بعد وہ حاملہ ہو کر بچہ جنے گی، اس بچے کی اتنی قیمت میں تجھے ابھی دیتا ہوں۔ وہ بچہ میرا ہو گا۔ یہ ہے حمل کے حمل کی بیع سلف یہ نا جائز ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں موجودہ حمل مؤنث ہی ہے؟ وہ صحیح پیدا ہو گا یا عیب دار؟ وہ اپنے حمل تک زندہ رہے گی؟ پھر حاملہ ہو گی؟ اور پھر بچہ جن سکے گی؟ جب ان میں سے کوئی بات بھی معلوم نہیں تو سودا کس چیز کا؟ اسے دھوکے اور غرر کی بیع بھی کہتے ہیں، نیز وہ بیچنے والے کے پاس موجود بھی نہیں۔ گویا یہ کئی لحاظ سے منع ہے۔ اس بیع کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز فروخت کی جائے اور قیمت کی ادائیگی کے لیے حمل کے حمل کی پیدائش کو وقت مقرر کر لیا جائے یا رقم پہلے دے دی جائے اور چیز فروخت کی جائے قیمت حمل کے حمل کی پیدائش کو قرار دیا جائے۔ یہ سب صورتیں منع ہیں کیونکہ یہ مجہول مدت ہے۔ پتا نہیں آئے گی بھی یا نہیں؟ اور آئے گی تو کب؟ ادائیگی کی مدت واضح اور معلوم ہونی چاہیے، مثلاََ: تاریخ، مہینہ یا سال گندم کٹائی یا سردیوں کا آغاز وغیرہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4626]