سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. باب : اختلاف المتبايعين في الثمن
باب: بیچنے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت کے بارے میں اختلاف ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4653
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ , وَاللَّفْظُ لإِبْرَاهِيمَ , قَالُوا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَضَرْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , أَتَاهُ رَجُلَانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً , فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَبِكَذَا , وَقَالَ هَذَا: بِعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا , فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي مِثْلِ هَذَا , فَقَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمِثْلِ هَذَا ," فَأَمَرَ الْبَائِعَ أَنْ يَسْتَحْلِفَ , ثُمَّ يَخْتَارَ الْمُبْتَاعُ , فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ , وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ".
عبدالملک بن عبید کہتے ہیں کہ ہم ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس حاضر ہوئے، ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے ایک سامان کی خرید و فروخت کر رکھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا: میں نے اسے اتنے اور اتنے میں لیا ہے، دوسرے نے کہا: میں نے اسے اتنے اور اتنے میں بیچا ہے تو ابوعبیدہ نے کہا: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بھی ایسا ہی مقدمہ آیا تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس ایسا ہی مقدمہ آیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائع کو قسم کھانے کا حکم دیا پھر (فرمایا: خریدار) کو اختیار ہے، چاہے تو اسے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4653]
حضرت عبدالملک بن عبید سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رحمہ اللہ کی مجلس میں حاضر تھے کہ ان کے پاس دو آدمی آئے۔ انہوں نے آپس میں کسی سامان کا سودا کیا تھا۔ ایک کہہ رہا تھا: میں نے اتنے میں لیا۔ دوسرا کہہ رہا تھا: میں نے اتنے کا بیچا۔ حضرت ابوعبیدہ فرمانے لگے: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایسا مسئلہ پیش ہوا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کا مقدمہ لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”بیچنے والے سے قسم لی جائے، پھر خریدنے والے کو اختیار ہوگا، چاہے اس بھاؤ میں لے لے یا پھر سودا چھوڑ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9611) (صحیح) (پچھلی روایت نیز دیگر متابعات و شواہد کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ’’عبدالملک بن عبید‘‘ مجہول ہیں، اور ’’ابو عبیدہ‘‘ کا اپنے باپ ’’ابن مسعود رضی الله عنہ‘‘ سے سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 4653 in Urdu
أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود