سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب : الرجل يبيع السلعة فيستحقها مستحق
باب: ایک شخص سامان بیچے پھر اس کا مالک کوئی اور نکلے۔
حدیث نمبر: 4684
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , وَلَقَدْ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ، ثُمَّ أَحَدَ بَنِي حَارِثَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ عَامِلًا عَلَى الْيَمَامَةِ , وَأَنَّ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ , أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ: أَنَّ أَيَّمَا رَجُلٍ سُرِقَ مِنْهُ سَرِقَةٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا حَيْثُ وَجَدَهَا، ثُمَّ كَتَبَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ إِلَيَّ , فَكَتَبْتُ إِلَى مَرْوَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِأَنَّهُ:" إِذَا كَانَ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنَ الَّذِي سَرَقَهَا غَيْرُ مُتَّهَمٍ يُخَيَّرُ سَيِّدُهَا، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الَّذِي سُرِقَ مِنْهُ بِثَمَنِهَا، وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ" , ثُمَّ قَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِي إِلَى مُعَاوِيَةَ , وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ إِنَّكَ لَسْتَ أَنْتَ وَلَا أُسَيْدٌ تَقْضِيَانِ عَلَيَّ وَلَكِنِّي أَقْضِي فِيمَا وُلِّيتُ عَلَيْكُمَا، فَأَنْفِذْ لِمَا أَمَرْتُكَ بِهِ، فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِ مُعَاوِيَةَ، فَقُلْتُ: لَا أَقْضِي بِهِ مَا وُلِّيتُ بِمَا قَالَ مُعَاوِيَةُ.
بنی حارثہ کے ایک فرد اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ یمامہ کے گورنر تھے، مروان نے ان کو لکھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا ہے کہ جس کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے، جہاں بھی اسے پائے، پھر مروان نے یہ بات مجھے لکھی تو میں نے مروان کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ چوری کرنے والے سے ایک ایسے شخص نے کوئی چیز خریدی جس پر چوری کا الزام نہ ہو تو اس چیز کے مالک کو اختیار دیا جائے گا چاہے تو وہ اس کی قیمت دے کر اسے لے لے (جتنی قیمت اس نے چور کو دی ہے) اور اگر چاہے تو چور کا پیچھا کرے، یہی فیصلہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے کیا، پھر مروان نے میری یہ تحریر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی، معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو لکھا: تمہیں اور اسید کو حق نہیں کہ تم دونوں مجھ پر حکم چلاؤ بلکہ تمہارا والی اور امیر ہونے کی وجہ سے میں تم کو حکم کروں گا، لہٰذا جو حکم میں نے تمہیں دیا ہے، اس پر عمل کرو، مروان نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی تحریر (میرے پاس) بھیجی تو میں نے کہا: جب تک میں حاکم ہوں ان کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کروں گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4684]
حضرت اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہما جو کہ یمامہ کے گورنر تھے، نے بتایا کہ مجھے حضرت مروان نے لکھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھا ہے کہ جس آدمی کی کوئی چیز چوری ہو جائے، وہ جہاں بھی اسے پا لے اس کا زیادہ حق دار ہے۔ میں نے ان کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا: ”جب چور سے خریدنے والا شخص مشکوک اور متہم نہ ہو تو اس چیز کے مالک کو اختیار ہے، چاہے تو قیمت دے کر وہ چیز لے لے اور چاہے تو چور کا پیچھا کرے“، پھر حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی یہی فیصلہ دیا۔ حضرت مروان نے میرا خط حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کو لکھا کہ تم یا اسید مجھ پر فیصلہ نافذ نہیں کر سکتے بلکہ میں اپنی حدودِ خلافت میں فیصلہ نافذ کرنے کا مجاز ہوں، اس لیے تم میرے حکم کے مطابق فیصلہ کرو۔ حضرت مروان نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا خط مجھے بھیج دیا۔ میں نے کہا: جب تک میں گورنر ہوں میں تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کے مطابق فیصلہ نہیں کروں گا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 156) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کروں گا، معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے مطابق نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4684 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4684
اردو حاشہ:
(1) حضرت اسید اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہما دونوں صحابی ہیں۔ حضرت مروان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود تھے، مسلمان تھے مگر اپنے والد کے ساتھ طائف میں رہتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں مدینہ منورہ آئے، لہٰذا وہ تابعی ہیں۔ علم سے خاص شغف تھا۔ راویان حدیث میں شمار ہے۔ معتبر اور ثقہ راوی ہیں۔ تمام حدیث کی کتابوں میں ان کی روایات موجود ہیں۔ رحمه اللہ
(2) حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس حدیث سے واقف نہیں تھے جو حضرت اسید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان فرمائی، اس لیے ان کو یقین نہ آیا، البتہ انھیں تحقیق کرنا چاہیے تھی۔ اسی لیے حضرت اسید رضی اللہ تعالٰی عنہ ان سے ناراض ہوئے اور ان کے قول کے مطابق فیصلہ کرنے سے انکار فرمایا۔ اگرچہ وہ خلیفہ تھے اور حضرت اسید اور حضرت مروان گورنر تھے مگر شریعت کی ہدایات کے ہوتے ہوئے کسی کی ہدایت واجب الاتباع نہیں۔ مومن اسی کردار کا حامل ہوتا ہے۔
(1) حضرت اسید اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہما دونوں صحابی ہیں۔ حضرت مروان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود تھے، مسلمان تھے مگر اپنے والد کے ساتھ طائف میں رہتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں مدینہ منورہ آئے، لہٰذا وہ تابعی ہیں۔ علم سے خاص شغف تھا۔ راویان حدیث میں شمار ہے۔ معتبر اور ثقہ راوی ہیں۔ تمام حدیث کی کتابوں میں ان کی روایات موجود ہیں۔ رحمه اللہ
(2) حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس حدیث سے واقف نہیں تھے جو حضرت اسید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان فرمائی، اس لیے ان کو یقین نہ آیا، البتہ انھیں تحقیق کرنا چاہیے تھی۔ اسی لیے حضرت اسید رضی اللہ تعالٰی عنہ ان سے ناراض ہوئے اور ان کے قول کے مطابق فیصلہ کرنے سے انکار فرمایا۔ اگرچہ وہ خلیفہ تھے اور حضرت اسید اور حضرت مروان گورنر تھے مگر شریعت کی ہدایات کے ہوتے ہوئے کسی کی ہدایت واجب الاتباع نہیں۔ مومن اسی کردار کا حامل ہوتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4684]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4684 in Urdu
عكرمة بن خالد المخزومي ← أسيد بن حضير الأشهلي