🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. باب : الرجل يبيع السلعة فيستحقها مستحق
باب: ایک شخص سامان بیچے پھر اس کا مالک کوئی اور نکلے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4685
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّجُلُ أَحَقُّ بِعَيْنِ مَالِهِ إِذَا وَجَدَهُ , وَيَتْبَعُ الْبَائِعُ مَنْ بَاعَهُ".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے جب کسی کے پاس پائے، اور بیچنے والا جس کے پاس چیز پائی گئی ہے وہ اپنے بیچنے والے کا پیچھا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4685]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے «عَيْن» (اصل) مال کا زیادہ حق دار ہے جب (اور جہاں) بھی اسے پا لے۔ خریدنے والا خود بیچنے والے کا پیچھا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع80(3531)، (تحفة الأشراف: 4595)، مسند احمد (5/13، 18) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور متن پچھلے متن کا مخالف بھی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3531) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 355
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥موسى بن السائب الواسطي، أبو سعدة
Newموسى بن السائب الواسطي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← موسى بن السائب الواسطي
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥عمرو بن عون السلمي، أبو عثمان
Newعمرو بن عون السلمي ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن داود المصيصي، أبو جعفر
Newمحمد بن داود المصيصي ← عمرو بن عون السلمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3531
من وجد عين ماله عند رجل فهو أحق به ويتبع البيع من باعه
سنن ابن ماجه
2331
إذا ضاع للرجل متاع فوجده في يد رجل يبيعه فهو أحق به ويرجع المشتري على البائع بالثمن
سنن النسائى الصغرى
4685
الرجل أحق بعين ماله إذا وجده ويتبع البائع من باعه
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4685 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4685
اردو حاشہ:
عین، یعنی اصل مال سے مراد وہ مال ہے جو چوری ہوگیا یا کسی نے چھین لیا، پھر وہ کسی اور آدمی کے پاس مل گیا۔ اس حدیث کی رو سے اصل مالک اپنا مالک دوسرے شخص سے بلا معاوضہ لے لے گا۔ دوسرا شخص اپنی رقم کا مطالبہ بیچنے والے سے کرے گا نہ کہ اصل مالک سے کیونکہ وہ تو اس کا ذاتی مال ہے۔ (تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے، حدیث: 4683)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4685]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3531
جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس پائے تو کیا کرے؟
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس ہو بہو پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اس شخص کا پیچھا کرے جس نے اس کے ہاتھ بیچا ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3531]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
کوئی غصب شدہ چوری شدہ یا گم شدہ مال اگر کسی کے پاس ملے۔
تو وہ اصل مالک کا حق ہے۔
یعنی خریدار تو وہ مالک اصل مالک کو دے دے۔
اور اپنا نقصان یعنی اس مال کی قیمت اس سے وصول کرے۔
جس سے اس نے خریدا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3531]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4685 in Urdu