🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
100. بَابُ : مَطْلِ الْغَنِيِّ
باب: قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4693
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ".
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض ادا کرنے میں مالدار کے ٹال مٹول کرنے سے اس کی عزت اور اس کی سزا حلال ہو جاتی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4693]
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادائیگی کی گنجائش رکھنے والا شخص ادائیگی میں ٹال مٹول کرے تو اس کی بے عزتی کی جا سکتی ہے اور اسے سزا بھی دی جا سکتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأقضیة 29 (3628)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (الأحکام 58) (2427)، (تحفة الأشراف: 4838)، مسند احمد (4/222، 388، 389) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی برائی کر سکتا ہے اور حاکم اسے سزا دے سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الشريد بن سويد الثقفي، أبو عمروصحابي
👤←👥عمرو بن الشريد الثقفي، أبو الوليد
Newعمرو بن الشريد الثقفي ← الشريد بن سويد الثقفي
ثقة
👤←👥محمد بن مسيكة الطائفي
Newمحمد بن مسيكة الطائفي ← عمرو بن الشريد الثقفي
مقبول
👤←👥وبر بن أبي دليلة الطائفي
Newوبر بن أبي دليلة الطائفي ← محمد بن مسيكة الطائفي
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← وبر بن أبي دليلة الطائفي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥محمد بن آدم الجهني
Newمحمد بن آدم الجهني ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4693
لي الواجد يحل عرضه وعقوبته
سنن النسائى الصغرى
4694
لي الواجد يحل عرضه وعقوبته
سنن أبي داود
3628
الواجد يحل عرضه وعقوبته
سنن ابن ماجه
2427
لي الواجد يحل عرضه وعقوبته
بلوغ المرام
728
لي الواجد يحل عرضه وعقوبته
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4693 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4693
اردو حاشہ:
بے عزتی تو قرض خواہ کرے گا کہ اسے لوگوں کے سامنے ذلیل کرے اور سزا حکومت دے گی کہ اسے قید کر دے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4693]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 728
مفلس قرار دینے اور تصرف روکنے کا بیان
سیدنا عمرو بن شرید رحمہ اللہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مالدار آدمی کا ادائیگی قرض میں ٹال مٹول کرنا، اس کی بے عزتی اور سزا دینے کو حلال کرنا ہے۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اسے تعلیق کے طور پر نقل کیا ہے اور ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 728»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، القضاء، باب في الدين هل يحبس به، حديث:3628، والنسائي، البيوع، حديث:4693، 4694، والبخاري، الاستقراض، قبل حديث:2401، وابن حبان (الموارد)، حديث:1164.»
تشریح:
اس حدیث کی رو سے مال دار اور صاحب ثروت آدمی محض اپنی خساست طبع کی وجہ سے قرض کی ادائیگی میں حیلے بہانے‘ ٹال مٹول اور لیت و لعل کرے جبکہ وہ آسانی سے قرض ادا کرنے کی حالت میں ہو تو ایسے آدمی کو قرض خواہ زبانی کلامی بے عزت بھی کر سکتا ہے اور بذریعۂ عدالت اسے سزا دلوانے کا بھی مجاز ہے۔
جمہور علماء نے تو صرف دس درہم تک کی مالیت یا مقدار کے مساوی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے والے شخص کو فاسق اور مردود الشھادۃ قرار دیا ہے۔
(سبل السلام)
راویٔ حدیث:
«حضرت عمرو» ابوالولید عمرو بن شرید ”شین“ پر فتحہ اور ”را“ کے نیچے کسرہ) بن سوید۔
طائف کے قبیلۂثقیف سے تھے‘ اسی لیے ثقفی طائفی کہلائے۔
ثقہ تابعی ہیں اور تیسرے طبقے میں سے ہیں۔
«حضرت شرید رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ شرید بن سوید ثقفی۔
ان کا نام مالک تھا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام شرید رکھا۔
آپ نے ان کا یہ نام اس وجہ سے رکھا کہ یہ اپنی قوم کا ایک فرد قتل کر کے مکہ میں آ گئے تھے اور پھر اسلام قبول کر لیا۔
(تلقیح لابن الجوزي) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق حضر موت سے تھا اور ان کا شمار قبیلۂثقیف میں سے تھا۔
اور ایک قول یہ بھی ہے کہ انھیں اہل طائف میں شمار کیا جاتا تھا۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 728]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2427
قرض کی وجہ سے قید کرنے اور قرض دار کو پکڑے رہنے کا بیان۔
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قرض ادا کر سکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے، اور اس کو سزا (عقوبت) پہنچانا جائز ہو جاتا ہے۔‏‏‏‏“ علی طنافسی کہتے ہیں: عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کر سکتا ہے، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2427]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرض بروقت ادا کرنا ضروری ہے۔

(2)
  اگر مقروض وقت پر قرض ادا نہ کرے تو اس کے خلاف حکمران یا قاضی سےشکایت کی جا سکتی ہے۔
حاکم اورقاضی کا فرض ہے کہ حق وارکواس کا حق دلوائیں۔

(3)
اگر مقروض واقعی قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے مزید مہلت دی جائے یا قرض معاف کردیا جائے یا بیت المال سےاس کی مدد جائے۔
بیت المال کا نظام موجود نہ ہونے کی صورت میں دوسرے لوگوں کا فرض ہےکہ زکاۃ وصدقات کےذریعے سےاس کی مدد کریں۔

(4)
  جن جرائم میں حد نہیں ان میں مجرم کوتعزیر کے طور پرقید کی سزا جا سکتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2427]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4693 in Urdu