سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب في الحبس في الدين وغيره
باب: قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3628
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَبْرِ بْنِ أَبِي دُلَيْلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ"، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُحِلُّ عِرْضَهُ: يُغَلَّظُ لَهُ، وَعُقُوبَتَهُ: يُحْبَسُ لَهُ.
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی ہتک عزتی اور سزا کو جائز کر دیتا ہے“۔ ابن مبارک کہتے ہیں: ہتک عزتی سے مراد اسے سخت سست کہنا ہے، اور سزا سے مراد اسے قید کرنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3628]
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا اس کی بے عزتی اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔“ ابن مبارک رحمہ اللہ نے کہا: ”اس کی بے عزتی کو حلال کر دیتا ہے۔ یعنی اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے۔ اور اس کو سزا دینا حلال ہے۔ یعنی اسے قید کیا جا سکتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 98 (4693)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (2427)، (تحفة الأشراف: 4838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/222، 388، 389) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2919)
أخرجه النسائي (4693 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (2427 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2919)
أخرجه النسائي (4693 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (2427 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
4693
| لي الواجد يحل عرضه وعقوبته |
سنن النسائى الصغرى |
4694
| لي الواجد يحل عرضه وعقوبته |
سنن أبي داود |
3628
| الواجد يحل عرضه وعقوبته |
سنن ابن ماجه |
2427
| لي الواجد يحل عرضه وعقوبته |
بلوغ المرام |
728
| لي الواجد يحل عرضه وعقوبته |
Sunan Abi Dawud Hadith 3628 in Urdu
عمرو بن الشريد الثقفي ← الشريد بن سويد الثقفي