🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
104. باب : حسن المعاملة والرفق في المطالبة
باب: قرض وصول کرنے میں اچھے سلوک اور نرمی برتنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4698
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا فَلَمَّا هَلَكَ. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ , قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَإِذَا بَعَثْتُهُ لِيَتَقَاضَى، قُلْتُ لَهُ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کبھی کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا تھا لیکن وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا، پھر اپنے قاصد سے کہتا: جو قرض آسانی سے واپس ملے اسے لے لو اور جس میں دشواری پیش آئے، اسے چھوڑ دو اور معاف کر دو، شاید اللہ تعالیٰ ہماری غلطیوں کو معاف کر دے، جب وہ مر گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: کیا تم نے کبھی کوئی خیر کا کام کیا؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ میرے پاس ایک لڑکا تھا، میں لوگوں کو قرض دیتا تھا جب میں اس لڑکے کو تقاضا کرنے کے لیے بھیجتا تو اس سے کہتا کہ جو آسانی سے ملے اسے لے لینا اور جس میں دشواری ہو، اسے چھوڑ دینا اور معاف کر دینا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4698]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کبھی نیکی نہیں کی تھی، وہ لوگوں سے لین دین کیا کرتا تھا، وہ اپنے کارندے سے کہتا تھا کہ جو آسانی سے مہیا ہو سکے، لے لینا اور جس میں مقروض کو تنگی ہو، وہ چھوڑ دینا بلکہ معاف کر دینا، امید ہے اللہ تعالیٰ بھی ہمیں معاف کرے گا، پھر جب وہ فوت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا: کیا تو نے کبھی کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، مگر میرا ایک غلام تھا اور میں لوگوں سے لین دین کیا کرتا تھا، جب میں اسے وصولی کے لیے بھیجتا تھا تو میں اسے کہتا تھا: جو آسانی سے مل جائے، لے لینا اور جس میں دینے والے کو تنگی ہو، چھوڑ دینا اور معاف کر دینا، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرما دے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جا میں نے تجھے معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12326)، مسند احمد (2/ 361) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← زيد بن أسلم القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عيسى بن حماد التجيبي، أبو موسى
Newعيسى بن حماد التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3480
إذا أتيت معسرا فتجاوز عنه لعل الله أن يتجاوز عنا قال فلقي الله فتجاوز عنه
صحيح البخاري
2078
تاجر يداين الناس فإذا رأى معسرا قال لفتيانه تجاوزوا عنه لعل الله أن يتجاوز عنا فتجاوز الله عنه
صحيح مسلم
3998
رجل يداين الناس فكان يقول لفتاه إذا أتيت معسرا فتجاوز عنه لعل الله يتجاوز عنا فلقي الله فتجاوز عنه
سنن النسائى الصغرى
4698
يداين الناس فيقول لرسوله خذ ما تيسر واترك ما عسر وتجاوز لعل الله أن يتجاوز عنا فلما هلك قال الله له هل عملت خيرا قط قال لا إلا أنه كان لي غلام وكنت أداين الناس فإذا بعثته ليتقاضى قلت له خذ ما تيسر واترك ما عسر وتجاوز لعل الله يتجاوز عنا قال الله قد تجاوزت
سنن النسائى الصغرى
4699
رجل يداين الناس وكان إذا رأى إعسار المعسر قال لفتاه تجاوز عنه لعل الله يتجاوز عنا فلقي الله فتجاوز عنه
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4698 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4698
اردو حاشہ:
(1) جو شخص اللہ عزوجل کے بندوں کے ساتھ حسن معاملہ اور شفقت ونرمی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اللہ عزوجل بھی اس کے ساتھ یہی معاملہ فرمائے گا، اور اس کا بدلہ جنت کی صورت میں دے گا۔
(2) یہ حدیث مبارکہ اس اہم مسئلے پر بھی دلالت کرتی ہے کہ سابقہ شریعت بھی ہمارے لیے، ہماری اپنی شریعت ہی کی طرح واجب العمل اور واجب الطاعۃ ہے الا یہ کہ قرآن وحدیث کی تردید کر دیں۔ اس مسئلے کی بابت اگرچہ اہل علم کا اختلاف ہے، تاہم اہل علم کا صحیح قول ہے یہی ہے۔ امام بخاری، امام مسلم اور امام نسائی رحمہم اللہ  وغیرہ کا مسلک یہی ہے۔
(3) اس حدیث مبارکہ سے جہاں تنگ دست شخص کو مہلت دینے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے وہاں مفلس و قلاش شخص کے ذمہ تمام یا کچھ قرض معاف کر دینے کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔ ﴿وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ﴾ (المطففین:83: 26)
(4) خالص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی معمولی سی نیکی بھی بہت سے گناہوں کے مٹا دینے کا سبب بن سکتی ہے۔
(5) غلام کو وکیل بنانے اور معاملات میں تصرف کرنے کا اختیار دینا جائز ہے۔
(6) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی انسان خود نیکی کا کام نہ کرے بلکہ کسی اور سے کرائے تو اس کام کرنے والے کے ساتھ ساتھ کرانے والے کو بھی پورا اجر ملے گا۔
(7) شریعت مطہرہ نے یہ ہدایات اس لیے دی ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے والے شخص کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ یہ بالکل واضح بات ہے کہ خوش اخلاقی بہت بڑی نیکی ہے، نیز یہ بھی حقیقت ہے کہ خوش اخلاق تاجر کے کاروبار میں بہت برکت ہوتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4698]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3998
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی لوگوں سے ادھار لین دین کرتا تھا، لوگوں کو ادھار سامان دیتا تھا، اور اپنے خادم سے کہتا تھا، جب تو تنگدست کے پاس جائے تو اس سے درگزر کرنا، امید ہے، اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے گا، تو جب وہ اللہ سے ملا، اللہ تعالیٰ نے اس سے (اس کے گمان کے مطابق) درگزر فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3998]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
تنگدست سے درگزر کرنے کی مختلف صورتیں ہیں،
مثلا اس کو رقم کلی طور پر چھوڑدینا،
قرضہ کا کچھ حصہ معاف کر دینا،
اس کو سہولت اور آسانی کے ساتھ قرض ادا کرنے کی مہلت دینا،
رقم قسطوں کی صورت میں لینا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3998]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2078
2078. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر تے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "ایک تاجر شخص لوگوں سے قرض کا لین دین کرتا تھا۔ جب وہ دیکھتا کہ کوئی تنگ دست آدمی ہے تو اپنے اہل کاروں سے کہتا کہ قرض معاف کردو، شایداللہ ہمیں معاف کردے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر کا معاملہ فرمایا۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2078]
حدیث حاشیہ:
تنگ دست کو مہلت دینا اور اس پر سختی نہ کرنا عنداللہ محبوب ہے، مگر ایسے لوگوں کو بھی ناجائز فائدہ نہ اٹھانا چاہئیے کہ مال والے کا مال تلف ہو۔
دوسری روایت میں ہے کہ مقروض اگر دل میں ادائیگی قرض کی نیت رکھے گا تو اللہ پاک بھی ضرور اس کا قرض ادا کرا دے گا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2078]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2078
2078. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر تے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "ایک تاجر شخص لوگوں سے قرض کا لین دین کرتا تھا۔ جب وہ دیکھتا کہ کوئی تنگ دست آدمی ہے تو اپنے اہل کاروں سے کہتا کہ قرض معاف کردو، شایداللہ ہمیں معاف کردے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر کا معاملہ فرمایا۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2078]
حدیث حاشیہ:
(1)
قرآن کریم میں ہے:
(وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ)
اگر مقروض تنگ دست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینا لازم ہے اور اور اگر تم اس پر صدقہ کردو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔
"(البقرۃ280: 2)
لہٰذا غریب اور نادار آدمی پر مہربانی کرنی چاہیے جس کی دوصورتیں ہیں:
٭اسے حالات درست ہونے تک مزید مہلت دی جائے۔
٭اسے قرض بالکل معاف کردیا جائے۔
(2)
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ایسے شخص کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دیتا ہے یا اسے معاف کردیتا ہے تو قیامت کے دن اللہ اسے اپنے عرش کے سائے تلے جگہ دے گا۔
"(صحیح مسلم،الذھد،حدیث: 7512(3006)
ایک دوسری حدیث میں ہے:
"جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اسے قیامت کے دن پریشانیوں سے نجات مل جائے تو اسے چاہیے کہ تنگ دست مقروض کو مزید مہلت دے یا اسے قرض معاف کردے۔
"(صحیح مسلم،المساقاۃ،حدیث: 4000(1563)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2078]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3480
3480. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص لوگوں کوقرض دیا کرتاتھا۔ اس نے اپنے نوکر کو یہ کہہ رکھا تھا کہ جب تم نے کسی تنگدست کے پاس جاؤ تو اسے معاف کردیاکرو، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے سے ہمیں بھی معاف کردے، چنانچہ جب اس کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3480]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کی تشریح کے لیے حدیث: 3451 کے فوائد ملاحظہ کریں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3480]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4698 in Urdu