🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ : سُقُوطِ الْقَوَدِ مِنَ الْمُسْلِمِ لِلْكَافِرِ
باب: کافر کے بدلے مسلمان کے قتل نہ کیے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4748
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ , فَإِذَا فِيهَا:" الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے کچھ پوچھا، ہم نے کہا: کیا آپ کے پاس قرآن کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم، جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ایک بندے کو جو قرآن کی سمجھ دیدے، یا جو اس صحیفہ میں ہے، میں نے کہا: اس صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں دیت کے احکام ہیں، قیدیوں کو چھوڑنے کا بیان ہے، اور یہ حکم ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4748]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قرآن مجید کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑ کر انگوری نکالی اور روح کو پیدا فرمایا! نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو اپنی کتاب کی سمجھ عطا فرمائے (اس میں فرق ہو سکتا ہے) یا پھر اس تحریر میں کچھ باتیں ہیں۔ میں نے کہا: اس تحریر میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس میں دیت کے مسائل ہیں، قیدی کو چھڑانے کی فضیلت کا بیان ہے اور یہ کہ ”کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 39 (111)، الجہاد 171 (3047)، الدیات 24 (6903)، 31 (6915)، سنن الترمذی/الدیات 16 (1412)، سنن ابن ماجہ/الدیات 21 (2658)، (تحفة الأشراف: 10311)، مسند احمد (1/79)، سنن الدارمی/الدیات 5 2401) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
8146

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥مسلم بن عبد الله البصري، أبو حسان
Newمسلم بن عبد الله البصري ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← مسلم بن عبد الله البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥الحجاج بن المنهال الأنماطي، أبو محمد
Newالحجاج بن المنهال الأنماطي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← الحجاج بن المنهال الأنماطي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4748 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4748
اردو حاشہ:
(1) یہ روایت تفصیلاً پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھیے فوائد ومسائل حدیث: 4738۔
(2) ”اس تحریر میں“ اور یہ باتیں بھی حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ یا اہل بیت سے خاص نہیں تھیں بلکہ عام لوگ بھی جانتے تھے۔
(3)”قیدی کو چھڑانا“ مراد وہ قیدی ہے جو کافروں کی قید میں پھنس جائے یا حکومت کی قید میں بے گناہ ہو۔ گناہ گار قیدی جو کسی جرم میں ماخوذ ہو کر قید میں ہو، اسے چھڑانا جائز نہیں، البتہ اس سے طعام ولباس یا اس کے اہل خانہ کے طعام وغیرہ کے سلسلے میں تعاون ہو سکتا ہے۔ بسا اوقات بعض لوگ قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں قید ہو جاتے ہیں۔ ان کی طرف سے قرض ادا کر کے ان کو چھڑانا بھی فضیلت کی بات ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4748]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4748 in Urdu