🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ: سُقُوطِ الْقَوَدِ مِنَ الْمُسْلِمِ لِلْكَافِرِ
باب: کافر کے بدلے مسلمان کے قتل نہ کیے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4747
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَحِلُّ قَتْلُ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: زَانٍ مُحْصَنٌ فَيُرْجَمُ، وَرَجُلٌ يَقْتُلُ مُسْلِمًا مُتَعَمِّدًا، وَرَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ فَيُحَارِبُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ فَيُقْتَلُ أَوْ يُصَلَّبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے مگر جب تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہو ۱؎: شادی شدہ ہو کر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا، کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کرے، کوئی اسلام سے نکل جائے اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ جنگ بناتا پھرے، تو اسے قتل کیا جائے گا، یا سولی پر چڑھایا جائے گا، یا پھر جلا وطن کیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4747]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں الا یہ کہ وہ ان تین جرائم میں سے کوئی جرم کرے: شادی شدہ ہو کر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا، کسی مسلمان شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دے، یا اسلام سے خارج ہو جائے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ شروع کر دے تو اسے قتل کیا جائے گا یا سولی پر لٹکایا جائے گا یا اپنے علاقے سے جلا وطن کر دیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4053 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور ان تین صورتوں میں کافر کے بدلے مسلم کو قتل کرنے کی بات نہیں ہے اسی سے مؤلف کا باب پر استدلال ہے، جو بہرحال مبہم ہے، لیکن اگلی حدیث اس باب میں بالکل واضح ہے۔ کافر چاہے حربی ہو یا ذمی، یہی جمہور علماء امت کا قول ہے۔ البتہ ذمی کے قتل کا گناہ بہت ہی زیادہ ہے، دیکھئیے اگلی حدیث۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4748
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ , فَإِذَا فِيهَا:" الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے کچھ پوچھا، ہم نے کہا: کیا آپ کے پاس قرآن کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم، جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ایک بندے کو جو قرآن کی سمجھ دیدے، یا جو اس صحیفہ میں ہے، میں نے کہا: اس صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں دیت کے احکام ہیں، قیدیوں کو چھوڑنے کا بیان ہے، اور یہ حکم ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4748]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قرآن مجید کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑ کر انگوری نکالی اور روح کو پیدا فرمایا! نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو اپنی کتاب کی سمجھ عطا فرمائے (اس میں فرق ہو سکتا ہے) یا پھر اس تحریر میں کچھ باتیں ہیں۔ میں نے کہا: اس تحریر میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس میں دیت کے مسائل ہیں، قیدی کو چھڑانے کی فضیلت کا بیان ہے اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 39 (111)، الجہاد 171 (3047)، الدیات 24 (6903)، 31 (6915)، سنن الترمذی/الدیات 16 (1412)، سنن ابن ماجہ/الدیات 21 (2658)، (تحفة الأشراف: 10311)، مسند احمد (1/79)، سنن الدارمی/الدیات 5 2401) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4749
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ , فَإِذَا فِيهَا:" الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو چھوڑ کر مجھے کوئی بات نہیں بتائی سوائے اس کے جو میری تلوار کی نیام میں رکھے اس صحیفہ میں ہے، لوگوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا یہاں تک کہ انہوں نے وہ صحیفہ نکالا، اس میں لکھا تھا: سب مسلمانوں کے خون برابر ہیں، ان کا ادنیٰ اور معمولی آدمی بھی کسی کا ذمہ لے سکتا ہے، اور وہ اپنے دشمن کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح (متحد) ہیں، کسی کافر کے بدلے کوئی مومن نہیں مارا جائے گا، اور نہ کوئی ذمی جب تک وہ ذمہ میں رہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4749]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کے علاوہ مجھے کوئی خصوصی وصیت نہیں فرمائی مگر میری تلوار کی میان میں ایک تحریر ہے، لوگ آپ سے اصرار کرتے رہے (کہ آپ وہ تحریر دکھائیں) حتیٰ کہ آپ نے وہ تحریر نکالی، اس میں لکھا تھا: تمام اہل ایمان کے خون برابر حیثیت رکھتے ہیں، ایک عام مومن بھی کسی شخص کو تمام مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی طرح یکجان ہیں، کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا سکتا اور کسی ذمی کو اس کے ذمی ہوتے ہوئے قتل نہیں کیا جا سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4739 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4750
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنْ الْأَشْتَرِ , أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ تَفَشَّغَ بِهِمْ مَا يَسْمَعُونَ، فَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْكَ عَهْدًا فَحَدِّثْنَا بِهِ، قَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ، غَيْرَ أَنَّ فِي قِرَابِ سَيْفِي صَحِيفَةً , فَإِذَا فِيهَا:" الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ" , مُخْتَصَرٌ.
اشتر کہتے ہیں کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگوں میں مشہور ہو رہی ہیں جو وہ سن رہے ہیں، لہٰذا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کوئی بات کہی ہو تو اسے بیان کر دیجئیے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی بات ایسی نہیں بتائی جو لوگوں کو نہ بتائی ہو، سوائے اس کے جو ایک صحیفہ میری تلوار کی نیام میں ہے، اس میں لکھا ہے: مومنوں کا خون برابر ہے، ان کا معمولی آدمی بھی کسی کا ذمہ لے سکتا ہے، کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کوئی ذمی جب تک وہ عہد پر قائم رہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4750]
اشتر نخعی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لوگوں میں ایسی باتیں بہت پھیلی ہوئی ہیں جو وہ (ادھر ادھر سے) سنتے ہیں۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خصوصی علم یا وصیت عطا فرمائی ہے تو ہمیں بیان فرمائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی خصوصی علم یا وصیت نہیں فرمائی جو دوسرے لوگوں کو عطا نہ فرمائی ہو۔ البتہ میری تلوار کی میان میں ایک تحریر موجود ہے۔ دیکھا تو اس میں یہ لکھا تھا: تمام اہل ایمان کے خون برابر ہیں۔ ایک عام مسلمان بھی سب مسلمانوں کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے۔ کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا سکتا اور نہ کسی ذمی کو اس کے ذمی ہوتے ہوئے قتل کیا جا سکتا ہے۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10259) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں