🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : ذكر الاختلاف على عطاء في هذا الحديث
باب: اس حدیث میں عطاء بن ابی رباح کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4776
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى: أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَاسْتَأْجَرَ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا , فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ , فَلَمَّا أَوْجَعَهُ نَتَرَهَا فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَعَضُّ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ" فَأَبْطَلَ ثَنِيَّتَهُ.
صفوان بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، انہوں نے ایک نوکر رکھ لیا تھا، اس کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا تو اس آدمی نے اس (نوکر) کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، جب اسے تکلیف ہوئی تو اس نے اسے زور سے کھینچا، تو اس (آدمی) کا دانت نکل پڑا، یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، تو آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی کو چبائے جیسے اونٹ چباتا ہے؟ چنانچہ آپ نے دانت کی دیت نہیں دلوائی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4776]
حضرت صفوان بن یعلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے والد (حضرت یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ) غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ وہ ساتھ ایک نوکر بھی لے گئے۔ وہ کسی آدمی سے لڑ پڑا۔ اس آدمی نے اس کی کلائی پر کاٹ لیا۔ جب اس کو تکلیف ہوئی تو اس نے زور سے ہاتھ کھینچا، ساتھ ہی دانت بھی اکھڑ آیا۔ یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف بڑھتا ہے اور اس کو اس طرح کاٹ کھاتا ہے جیسے اونٹ چباتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4769 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صفوان بن يعلى التميميثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← صفوان بن يعلى التميمي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن عبد الرحمن الأنصاري ← الحكم بن عتيبة الكندي
ضعيف الحديث
👤←👥عمار بن رزيق الضبي، أبو الأحوص
Newعمار بن رزيق الضبي ← محمد بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة
👤←👥الأحوص بن جواب الضبي، أبو الجواب
Newالأحوص بن جواب الضبي ← عمار بن رزيق الضبي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن إسحاق الصاغاني، أبو بكر
Newمحمد بن إسحاق الصاغاني ← الأحوص بن جواب الضبي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4776 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4776
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ روایت مختلف سندوں سے مروی ہے۔ بعض طرق میں لڑنے والے دونوں افراد کے نام مخفی رکھے گئے ہیں۔ بعض میں دانت کاٹنے والے کی صراحت ہے اور بعض میں جسے کاٹا گیا اس کا ذکر ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقعات ہوں، ایک لڑائی کرنے والے حضرت یعلی اور دوسرا کوئی شخص ہو اور دوسرے میں حضرت یعلی کا نوکر اور دوسرا کوئی شخص ہو۔ لیکن راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے اور تمام روایات میں تطبیق کی صورت یوں ہے کہ یہ لڑائی حضرت یعلی اور ان کے نوکر کے درمیان ہوئی۔ دانت کاٹنے والے حضرت یعلی خود تھے اور دانت بھی انھی کا ٹوٹا تھا۔ شاید اسی وجہ سے انھوں نے اپنا نام مخفی رکھا۔ حضرت عمران بن حصین نے حضرت یعلی کے نام کی صراحت کی ہے۔ (حدیث: 4764) اور جنھیں کاٹا گیا وہ ان کے نوکر تھے۔ اس طرح رجل من المسلمین، رجلا من بنی تمیم، عض الاخر اور عض الرجل سے مراد حضرت یعلی ہوں گے۔
(2) بعض روایات میں یعلی بن امیہ ہے اور بعض میں یعلی ابن منیہ۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ امیہ حضرت یعلی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے باپ کا نام ہے اور منیہ ماں کا اس لیے کبھی ان کی نسبت باپ کی طرف کی گئی اور کبھی ماں کی طرف، لہٰذا اس میں کوئی اشکال نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (فتح الباري شرح صحیح البخاري: 12/ 274، 275)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4776]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4776 in Urdu