🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب : من قتل بحجر أو سوط
باب: پتھر یا کوڑے سے قتل کئے جانے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4793
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا تَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ، أَوْ سَوْطٍ، أَوْ بِعَصًا فَعَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَقَوَدُ يَدِهِ فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی ہنگامے، یا بلوے اور فساد میں (جہاں قاتل معلوم نہ ہو سکے) کسی پتھر یا کوڑے یا ڈنڈے سے مارا جائے تو اس کی دیت وہی ہو گی جو قتل خطا کی ہے اور جس نے قصداً مارا تو اس پر قصاص ہو گا، جو کوئی قصاص اور قاتل کے درمیان حائل ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا نہ نفل۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 17 (4539، 4540)، 28 (4591)، سنن ابن ماجہ/الدیات 8 (2635)، (تحفة الأشراف: 5739) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قتل تلوار سے ہو یا ایسے ہتھیار سے جس سے قتل کیا جاتا ہے: اگر قتل کی نیت سے ہو تو قتل عمد (مقصد و ارادہ اور جان بوجھ کر قتل) ہے، اس میں قصاص ہے یا معاف کر دینے کی صورت میں دیت ہے، اور اگر قتل غلطی سے ہو خواہ کسی چیز سے بھی ہو تو اس میں دیت ہے، یہی حکم بندوق یا بم کا بھی ہو گا، فساد اور ہنگامے میں قتل خواہ کسی چیز سے ہو وہ غلطی سے قتل مانا جائے گا اور اس میں دیت ہو گی۔ جس کی تفصیل اس حدیث میں ہے اور یہی دیت مغلظہ ہے۔ اور فی زمانہ موجودہ سرکار مذکورہ دیت کی قیمت موجودہ بھاؤ سے لگا کر دیت مقرر کرے گی جیسا کہ سعودی عربیہ میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن كثير العبدي، أبو محمد، أبو داود
Newسليمان بن كثير العبدي ← عمرو بن دينار الجمحي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعيد بن سليمان الضبي، أبو عثمان
Newسعيد بن سليمان الضبي ← سليمان بن كثير العبدي
ثقة حافظ
👤←👥هلال بن العلاء الباهلي، أبو عمرو
Newهلال بن العلاء الباهلي ← سعيد بن سليمان الضبي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4793
من قتل في عميا أو رميا تكون بينهم بحجر أو سوط أو بعصا فعقله عقل خطإ من قتل عمدا فقود يده فمن حال بينه وبينه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل
سنن النسائى الصغرى
4794
من قتل في عمية أو رمية بحجر أو سوط أو عصا فعقله عقل الخطإ من قتل عمدا فهو قود ومن حال بينه وبينه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا
سنن أبي داود
4539
من قتل في عميا في رمي يكون بينهم بحجارة أو بالسياط أو ضرب بعصا فهو خطأ وعقله عقل الخطإ من قتل عمدا فهو قود ومن حال دونه فعليه لعنة الله وغضبه لا يقبل منه صرف ولا عدل
سنن أبي داود
4591
من قتل في عميا أو رميا يكون بينهم بحجر أو بسوط فعقله عقل خطإ من قتل عمدا فقود يديه فمن حال بينه وبينه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين
سنن ابن ماجه
2635
من قتل في عمية أو عصبية بحجر أو سوط أو عصا فعليه عقل الخطإ من قتل عمدا فهو قود ومن حال بينه وبينه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل
بلوغ المرام
1004
من قتل في عميا أو رميا بحجر أو سوط أو عصا فعقله عقل الخطأ ومن قتل عمدا فهو قود ومن حال دونه فعليه لعنة الله
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4793 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4793
اردو حاشہ:
(1) یہ حدیث مبارکہ قتل عمد (کسی کا کسی کو جان بوجھ کو قتل کرنا) کا بالکل صریح حکم بیان کرتی ہے کہ اس میں قصاص واجب ہے۔ ہاں اگر مقتول کے ورثاء دیت پر راضی ہو جائیں تو یہ درست ہوگا۔ اس صورت میں قاتل سے قصاص ساقط ہو جائے گا جیسا کہ دیگر احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
(2) جو شخص اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود قائم کرنے میں حائل ہو اور کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرے تو وہ شخص، خواہ صدرِ مملکت ہی ہو، لعنتی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی بھی لعنت ہے، نیز ایسے شخص کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے کھلی جنگ ہے۔ مطلب یہ کہ ایسا کرنا حرام اور شرعاً ناجائز ہے۔
(3) اس حدیث میں ہنگامے اور بلوے کی صورت بیان کی گئی ہے کہ دونوں طرف ازدحام ہے۔ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ کوئی پتھر چلا رہا ہے کوئی لکڑی۔ کوئی کوڑا مار رہا ہے، کوئی خالی ہاتھ۔ ایسے بلوے میں قاتل کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے بھی ایسی لڑائی کا مقصود کسی کو قتل کرنا نہیں ہوتا۔ بالفرض اگر کوئی مارا جائے تو اسے قتل خطا قرار دیا جائے گا اور فریق ثانی دیت بھرے گا۔ البتہ اگر ایسی لڑائی میں اسلحہ استعمال ہو لیکن قاتلین کا تعین نہ ہو تو فریق ثانی سے قتل عمد کی دیت وصول کی جائے گی کیونکہ اسلحہ چلانے سے مقصود قتل کرنا ہی ہوتا ہے اور اگر قاتل کا تعین ہو جائے تو قصاص لیا جائے گا۔ اسی طرح اگر ایک آدمی کا مقصد دوسرے کو قتل کرنا ہی ہے، پھر خواہ وہ تلوار استعمال کرے یا آتشیں اسلحہ یا پتھر یا لکڑی یا ہتھوڑا، ہر حال میں اس سے قصاص لیا جائے گا جیسا کہ اس حدیث میں الگ طور پر ذکر ہے۔
(4) فرض ونفل بعض نے صَرْفٌ کے معنیٰ توبہ اور عَدْلٌ کے معنیٰ فدیہ ومعاوضہ کیے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4793]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4794
پتھر یا کوڑے سے قتل کئے جانے والے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی ہنگامے یا بلوے میں کسی پتھر، کوڑے یا ڈنڈے سے مارا جائے تو اس کی دیت وہی ہے جو قتل خطا کی ہے، اور جس نے جان بوجھ کر مارا تو اس میں قصاص ہے اور جو کوئی اس کے اور اس کے (قصاص اور قاتل) کے درمیان حائل ہو گا تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا نہ فرض قبول ہو گا نہ کوئی نفل۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4794]
اردو حاشہ:
مرفوعاً سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، کبھی اختصار کی خاطر ایسے کہہ دیا جاتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4794]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4591
ایسا مقتول جس کے قاتل کا پتہ نہ چل سکے اس کے حکم کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اندھا دھند مارا جائے یا کسی دنگے فساد میں جو ان میں چھڑ گیا ہو، یا کسی پتھر یا کوڑے سے مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو جان بوجھ کر عمداً کسی کو قتل کرے تو وہ موجب قصاص ہے، اب اگر کوئی ان دونوں کے بیچ میں پڑ کر (قاتل کو بچانا چاہے) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4591]
فوائد ومسائل:
گزشتہ حدیث 4539 ملاحظہ ہو
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4591]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2635
قصاص یا دیت لینے میں جو مقتول کے ورثاء کے آڑے آئے اس کے گناہ کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اندھا دھند فساد (بلوہ) میں یا تعصب کی وجہ سے پتھر، کوڑے یا ڈنڈے سے مار دیا جائے، تو قاتل پر قتل خطا کی دیت لازم ہو گی، اور اگر قصداً مارا جائے، تو اس میں قصاص ہے، جو شخص قصاص یا دیت میں حائل ہو تو اس پر لعنت اللہ کی ہے، اس کے فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی، اس کا نہ فرض قبول ہو گا نہ نفل ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2635]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اندھا دھند لڑائی کا مطلب یہ ہے کہ دو پارٹیاں آپس میں لڑ پڑیں، اس میں کسی کو پتھر وغیرہ لگا جس سے وہ مرگیا۔
اس میں یہ معلوم کرنا دشوار ہے کہ فلاں شخص کی ضرب سے مراہے، لہٰذا کسی کو متعین کرکے قصاص تو نہیں لیا جا سکتا لیکن اس کا خون بےکار بھی نہیں کیا جا سکتا، اس لیے دیت ضروری ہے۔

(2)
  قصاص اللہ کا قانون ہے۔
اللہ کے قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ بننا کفریہ حرکت ہے، لہٰذا لعنت کا باعث ہے۔
ایسے شخص کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2635]