سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : هل يؤخذ أحد بجريرة غيره
باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 4838
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ: انْتَهَى قَوْمٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
ثعلبہ بن زہدم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی ثعلبہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! یہ ثعلبہ بن یربوع کے بیٹے ہیں، انہوں نے صحابہ رسول میں سے فلاں کو جاہلیت میں قتل کیا تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نفس کا قصور کسی دوسرے پر نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4838]
حضرت ثعلبہ بن زہدم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنو ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے جبکہ آپ خطاب فرما رہے تھے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے جرم کا کوئی دوسرا شخص ذمہ دار نہیں ہوتا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥ثعلبة بن زهدم الحنظلي | والأكثر أنه صحابي، مختلف في صحبته | |
👤←👥الأسود بن هلال المحاربي، أبو سلام الأسود بن هلال المحاربي ← ثعلبة بن زهدم الحنظلي | مخضرم ثقة جليل | |
👤←👥أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي ← الأسود بن هلال المحاربي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥معاوية بن هشام الأسدي، أبو الحسن معاوية بن هشام الأسدي ← سفيان الثوري | صدوق له أوهام | |
👤←👥أحمد بن سليمان الرهاوي، أبو الحسين أحمد بن سليمان الرهاوي ← معاوية بن هشام الأسدي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4838 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4838
اردو حاشہ:
آپ کا مقصد یہ تھا کہ قاتل کوئی اور ہیں اور یہ آنے والے لوگ اور ہیں۔ صرف قبیلہ ایک ہونے کی وجہ سے یہ لوگ مجرم نہیں بن سکتے۔
آپ کا مقصد یہ تھا کہ قاتل کوئی اور ہیں اور یہ آنے والے لوگ اور ہیں۔ صرف قبیلہ ایک ہونے کی وجہ سے یہ لوگ مجرم نہیں بن سکتے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4838]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4838 in Urdu
الأسود بن هلال المحاربي ← ثعلبة بن زهدم الحنظلي