الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : هل يؤخذ أحد بجريرة غيره
باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 4841
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَعْنِي لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى نَفْسٍ".
بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ گفتگو فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یعنی کسی کا قصور کسی پر نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4841]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سليم بن أسود المحاربي ← اسم مبهم