سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ : هَلْ يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِجَرِيرَةِ غَيْرِهِ
باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 4842
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ , فَقَامَ إِلَيْهِ نَاسٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَؤُلَاءِ بَنُو فُلَانٍ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
بنی یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے، کچھ لوگوں نے آپ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی فلاں ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”کسی نفس پر کسی کا قصور نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4842]
بنی یربوع کے ایک آدمی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے۔ (ہمیں دیکھ کر) کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں قبیلے کے لوگ ہیں، انہوں نے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ایک شخص کا جرم دوسرے کے ذمے نہیں لگایا جا سکتا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4842]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 4842 in Urdu
سليم بن أسود المحاربي ← اسم مبهم