🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب : هل يؤخذ أحد بجريرة غيره
باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4843
أخبرنا يوسف بن عيسى قال أنبأنا الفضل بن موسى قال أنبأنا يزيد وهو بن زياد بن أبي الجعد عن جامع بن شداد عن طارق المحاربي أن رجلا قال: يا رسول الله هؤلاء بنو ثعلبة الذين قتلوا فلانا في الجاهلية فخذ لنا بثأرنا فرفع يديه حتى رأيت بياض إبطيه وهو يقول لا تجني أم على ولد مرتين
طارق محاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا، لہٰذا آپ ہمارا بدلہ دلائیے، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، آپ فرما رہے تھے: کسی ماں کا قصور کسی بیٹے پر نہیں ہو گا ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4843]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4989)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 26 (2670) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

سنن نسائی کی حدیث نمبر 4843 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4843
اردو حاشہ:
آپ کا مقصد یہ تھا کہ قاتلین اور تھے اور یہ حاضرین اور ہیں، لہٰذا ان سے قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ اگرچہ ان کا قبیلہ ایک ہے۔ شریعت میں ہر مجرم اپنے جرم کا خود جواب دہ ہے نہ کہ اس کے رشتہ دار۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4843]